بڑی عید کا بڑا تحفہ

مصطفے صفدر بیگ
سال انیس سو چوہتر میں استنبول کے ایک تھیٹر میں ایک ڈرامہ ”میسکمیہ“چلا۔یہ ڈرامہ دراصل تین نظریات اور عقائد کے ابتدائی حروف”میس، کم اور یہہ“ کا مجموعہ تھا۔ اس ڈرامے میں ”فری میسنری، کمیونزم اور یہودیت“ کو دنیا کی تین سب سے بڑی ایسی برائیوں کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جن کی وجہ سے دنیا مسائل کا شکار تھی۔ یہ ڈرامہ بلاک بسٹر ثابت ہوا، جس نے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ لیکن انتظامیہ نے ڈرامے کے ”کانٹینٹ“ کو متشدد قرار دے کراسے جلد ہی بند کرادیا۔ڈرامے کی کامیابی دراصل اس کے اسکرپٹ، ڈائریکشن اور مرکزی کردار کی انتہائی جاندار پرفارمنس کی مرہون منت تھی۔ یہ تینوں کام کسی اور نے نہیں بلکہ ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردگان نے سرانجام دیے تھے ۔۔۔ اسی اردگان کا سیاسی اور غیر سیاسی کردار آج پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے راہ عمل بن سکتا ہے، لیکن کیسے؟
”میسکمیہ“ لکھتے وقت رجب طیب اردگان کی عمر محض بیس سال تھی، لیکن اس چھوٹی سی عمر میں اسلام پسند ی اور ایمان کی پختگی کی وجہ سے اردگان سب کی نظروں میں آچکے تھے۔۔۔ انیس سو اکانوے میں جب اردگان پہلی مرتبہ عام انتخاب میں کامیاب ہوئے تو انہی نظریات کی وجہ سے انہیں حلف نہیں اٹھانے دیا گیا۔۔۔ اپنی محنت کے بل بوتے پر تین سال بعد اردگان استنبول کے میئر منتخب ہوگئے۔”میسکمیہ“ جیسے نظریات رکھنے والے شخص کے ”امیر شہر“ بننے پر سب کے کان کھڑے ہونا یقینی بات تھی۔ سب کو خدشہ تھا کہ اردگان میئر بننے پر سب سے پہلے شہر میں شریعت کا نفاذ کریں گے اور شہر کو”مسلمان“ بنانے پر اپنی توانائیاں صرف کردیں گے، لیکن اردگان نے اس موقع پر جذباتیت کی بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا۔ اردگان نے اپنی توانائیاں فروعی معاملات میں ضائع کرنے کی بجائے، وہی کام کیا جو وقت سب سے اہم ضرورت تھا۔ اردگان نے اپنی میئر شپ کے ابتدائی تین ماہ میں ہی ثابت کردیا کہ اب ترکی کی نشاة ثانیہ شروع ہوچکی ہے۔ اردگان نے دوسرے بکھیڑوں میں پڑنے کی بجائے استنبول کے تین اہم مسائل حل کرنے پر اپنی ساری توجہ مرکوز کردی۔ یہ تین اہم مسائل صاف پانی کی کمی، آلودگی اور ٹریفک کا اژدہام تھے۔ اِن مسائل کے حل کیلئے اردگان نے بوسیدہ پائپ لائنیں تبدیل کرکے ہزاروں کلومیٹر لمبی نئی پائپ لائنیں بچھا دیں ۔۔۔کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کیلئے اور دوبارہ ”قابلِ استعمال“ بنانے کیلئے ایک شاہکار منصوبہ مکمل کیاگیا ۔۔۔ اردگان نے آلودگی کے خاتمے کیلئے ہزاروں سال سے گھروں میں استعمال ہونے والے لکڑی کے ایندھن کو قدرتی گیس پر منتقل کردیا ۔۔۔ صرف یہی نہیں بلکہ شہر کی تمام پبلک ٹرانسپورٹ کو تبدیل کرتے ہوئے ماحول دوست فیول پر منتقل کردیاگیا ۔۔۔ شہر میں ٹریفک کے اژدہام کے ساتھ پچاس سے زیادہ نئے پُل، بائی پاس اور سروس روڈز بناکر نمٹا گیا۔ اردگان نے بدعنوانی کاخاتمہ کرکے میونسپل فنڈز کا استعمال مکمل شفاف بنایا۔ یہ تمام اہداف اردگان نے اپنی میئر شپ کے پہلے سال میں حاصل کرلیے تھے۔ آنے والے برسوں میں اردگان نے نہ صرف میٹروپولیٹن کے ذمہ واجب الادا دو ارب ڈالر کا قرض چُکایا بلکہ چار ارب ڈالرکا سرمایہ استنبول کے مختلف منصوبوں پر بھی لگادیا۔ اردگان کے اس دور میں ہی استنبول دنیا کے پانچ بہترین میٹروپولیٹن شہروں میں سے ایک قرار پایاچکا تھا۔ استنبول سے یہ اعزاز آج تک چھینا نہیں جاسکا۔

اردگان نے میٹروپولیٹن دارالحکومت کے ذمہ دو ارب ڈالر کا قرض کیسے اتارا اور استنبول میںمزید چار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لانے میں کس طرح کامیابی حاصل کی؟ یہ ”داستانِ طلسم ہوشربا“ کسی دوسرے وقت پراُٹھا رکھتے ہیں، اردگان کی زندگی کے یہ گوشے سامنے لانے کا فی الوقت مقصد تو یہ بتانا تھا کہ کس طرح اپنے نظریات اور عقائد میں انتہائی کٹر ہونے کے باوجود اردگان نے موقع ملنے پر قیمتی وقت اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے میں نہیں گزارا بلکہ اردگان نے بہتر جانا کہ اپنے نظریات کی عملی تفسیر بننے کو ترجیح دی جائے۔۔۔۔ اس مقصد کیلئے اردگان نے اپنے افراد اور اداروں کی تربیت کی، انہیں اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر سوچنے کی تربیت فراہم کی، اور انہیں ایک بہتر ترک شہری بننے کی تربیت دی، یہی وجہ ہے کہ استنبول کو برسوں سے درپیش مسائل سے نجات ملی تو اردگان نے دارالحکومت میں رہنے والوں کے دل میں بھی گھر کرلیا۔ رجب طیب اردگان نے جو راہِ عمل اختیار کیا، اگر اس کا تقابل پاکستانی سیاستدانوں کے ساتھ کیا جائے تو انتہائی افسوسناک صورتحال سامنے آتی ہے۔ تقریبا تمام سیاسی جماعتیں کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں اقتدار میں رہ چکی ہیں، لیکن اگر اِن جماعتوں کے راہِ عمل کا جائزہ لیا جائے تو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں مقتدر سیاسی جماعتوں کے غلط راہِ عمل کی وجہ سے شخصی فرامین نے ریاستی قوانین کی جگہ لے لی اور ہمارے حکمرانوں کی جنبشِ ابروریاست کا مقدس آئین قرار پایا۔سیاسی جماعتوں کے اسی غلط راہِ عمل کی وجہ سے ہمارے ہاںافرادہمیشہ اداروں پر حاوی رہے اور دوسری جانب ادارے پنپ سکے نہ ہی دیرینہ مسائل حل کرنے کی جانب کوئی پیشرفت ہوسکی۔۔۔۔۔ یہ صورتحال چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی سے بھی صاف ابھر کر سامنے آئی ۔۔

اب یہی دیکھئے کہ پاکستان جس ارضی خطے میں موجود ہے، وہاں کم و بیش ہر سال سیلاب آتا ہے ۔۔۔۔ ہر سال سیلاب اور بارشیں تباہی بھی پھیلاتی ہیں ۔۔۔۔ اس سیلاب کی وجہ سے ہر سال مکانات بھی منہدم ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ہر سال سینکڑوں انسانی ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں ۔۔۔۔ ہر سال ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ بھی ہوجاتی ہیں ۔۔۔۔ ہر سال لاکھوں انسان بے گھر بھی ہوتے ہیں اور ہر سال عوام کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان بھی اُٹھانا پڑتا ہے، لیکن ہم گزشتہ چھیاسٹھ برسوں میں بارشوں اور سیلاب سے نمٹنے کیلئے کوئی جامع منصوبہ نہیں بناسکے۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ یہاں جب بھی اور جسے بھی اقتدار ملا، اس نے اپنی کرسی مضبوط کرنے اور اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنے کی کو شش تو کی، لیکن عوام کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی حکمتِ عملی تیار کرنے کی جانب ایک قدم بھی نہیں اٹھایا ۔۔۔۔ اب اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلہ کو ہی لے لیں، اس زلزلہ کی تباہی کا حجم اپنی جگہ سہی ، لیکن اس سانحے کے بعد پاکستان ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا اور اربوں ڈالر کی امداد بھی پاکستان آئی ۔۔۔۔ یہ امداد حکمرانوں کے اللوں تللوں پر تو بے دریغ خرچ ہوئی، لیکن مستقبل میں ایسی تباہی سے نمٹنے کیلئے کسی منصوبے پر ایک پائی خرچ نہیں کی گئی، اب کوئی نہیں جانتا کہ اربوں ڈالر کی یہ امداد کہاں کھپائی گئی؟


حالیہ بارشوں نے کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں کی جو درگت بنائی، اس نے تو ہمارے انتظامی اداروں کے دعووں کی قلعی ہی کھول کر رکھ دی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ سارا ملک سیلاب برد ہوچکا لیکن ہمارے اداروں کی آنکھیں اب بھی نہیں کھلیں۔ دوسری جانب ڈیزاسٹر سے نمٹنے کے نام پر بنائے جانے والے اداروں کو محض خالی خولی دعووں سے ہی فرصت نہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا آج بھی یہ عالم ہے کہ کسی پلازے میں آگ لگ جائے تو چوتھی منزل تک پہنچنے کیلئے سیڑھیاں نہیں ملتیں۔ ہمارے اداروں کے پاس کنکریٹ توڑنے اور آگ بجھانے کے مناسب اور ضروری آلات تک نہیں ہیں ۔۔۔۔ جبکہ گلیوں اور بازاروں سے پانی نکالنے کیلئے بھی پمپ تک فوج سے لینا پڑتے ہیں ۔۔۔۔ ہمارے اداروں کی منصوبہ بندی کا اندازہ اِس بات سے لگالیں کہ اس ملک میں پلازوں اور فیکٹریوں میں بند ہوکر سینکڑوں مزدور جل کر بھسم ہوجاتے ہیں، لیکن ہمارے پاس فیکٹری کے گیٹ کا تالہ توڑنے کیلئے ہتھوڑا تک نہیں ہوتا ۔۔۔۔ اس افسوسناک صورتحال کے باوجود ضروری نہیں کہ یہ معاملہ ہمیشہ ایسے ہی چلتا رہے۔ قدرتی آفات کی تباہ کاریوں سے بچنے کیلئے کہیں نہ کہیں سے کسی نہ کسی کو تو شروعات کرنا ہوں گی۔ دوستو! کراچی میں صفائی مہم کا اگرچہ آغاز کردیا گیا ہے، لیکن تربیت کے بغیر یہ مہم صرف روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا تک محدود ہونے کا خدشہ ہے، صفائی کی یہ مہم اپنی جگہ درست سہی لیکن اگر ہم آج سے ہی اس قوم کی تربیت شروع کردیں، تو آنے والوں برسوں میں ہم اس طرح کی گھمبیر صورتحال سے بچ سکتے ہیں، اگرچہ اس کیلئے شہریوں کی کپیسٹی بلڈنگ کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے حکمران اپنے فروعی اختلافات کو بھلاکر عوام کے حقیقی مسائل کے حل کیلئے اب ہی کام شروع کردیں تو بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے شب و روز فٹ پاتھوں اور کھلے میدانوں میں گزارنے والے پاکستانیوں کیلئے یہی اس عید کا تحفہ ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close