قربانی، دانشوری اور دل پشوری

محمد حسنین اشرف

کوئی بھی تعلق علامتی اظہار مانگتا ہے۔ علامت، اپنے پس منظر میں کارفرما جذبات اور بعض اوقات کسی فلسفے کے زیر اثر پرورش پاتی ہے۔ جب اس علامتی اظہار پر کئی نسلیں اپنی زندگی گزار دیں اور یہ تواتر سے منتقل ہوتا رہے۔ تو اکثر اوقات وہ جذبہ اور وہ فلسفہ فراموش ہو جایا کرتا ہے۔ اور محض ایک علامت باقی رہ جاتی ہے جو مذہب سے اٹھ کر بعد ازاں ثقافت اور یوں تہذیب کا جزو بن جاتی ہے۔

بتوں کی پوجا یہی علامتی اظہار ہے، اس کے برعکس وحدانیت کی علامات بھی ایک جذبے اور فلسفے کا اظہار ہیں۔ تاریخ، ان دونوں کو فریق مانتی ہے اور ایک دوسرے پر تنقید کا حق اور جواز بھی فراہم کرتی ہے۔ لیکن اس ساری تاریخ کو فراموش کرکے معلق ہوا سے استدلال محض دل پشوری ہے۔ اسی لیے کئی ایک بار عرض کی ہے کہ مذہب کے حاملین اور ناقدین کو ادب کا اور خاص کر اعلی ادب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ یونہی ادھر ادھر کی تشبیہات و استعارات سے منطق کا کھیل نہیں کھیلنا چاہیے۔ ہوسکے تو مولانا روم کی ‘نواختن مجنون آن سگ را کی مقیم کوی لیلی بود’ کو پڑھنا چاہیے۔ معلوم ہوجائے گا علامتی اظہار کیا شے ہوتی ہے۔

دوسرا موضوع جانداروں کی اس بڑے پیمانے پر قربانی ہے۔ اس پر پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ اسلام نے دیوتاوں کو بھینٹ دینے کے لیے جانوروں کو قربان کرنے کی روش اپنائی ہے۔ عرض ہے کہ بھینٹ یا قربانی ہمیشہ عزیز چیز کی دی جاتی ہے۔ تاکہ جذبات کا اظہار تکمیل پا جائے، آپ جب کسی انسان کو تحفہ دیتے ہیں تو معاشرت اور بود و باش کو مدنظر رکھ کر بہترین چیز عنایت کرتے ہیں۔ ہنٹر گیدرز سے لے کر قبائلی معاشرت تک، جانور معیشت کا سب سے اہم حصہ تھے۔ تب جب کھیتی باڑی سے لے کر، ترسیل اور خوراک کا انحصار انہیں جانداروں پر ہوا کرتا تھا۔ تو یہی سب سے محبوب چیز ہوا کرتی تھی جس کی قربانی، دل گردے کا کام تھا۔

دوسری بات حساسیت کی، تو اگر کسی معاشرے کا اجتماعی شعور اس بات کو قبول کرلے تو سو بار اس معاشرے کو جانداروں سے متعلق حساس رہنا چاہیے۔ سیپینز میں ہراری نے ہمارے میٹھا زیادہ پسند کرنے پر استدلال یوں اٹھایا ہے کہ انسان چونکہ ایک عرصہ پھل پھول پر منحصر رہا تو اس میٹھے کی اسے چاٹ لگ گئی جو اس کی طبیعت کا حصہ بن گی۔ بعین ہی معاملہ، جانوروں کا ہے۔ ہمارے ارتقائی دور سے اب تک کا سفر ہماری طبیعت اہم جزو گوشت خوری بھی ہے۔ بلکہ نینڈردلز اور ماقبل تاریخ کے انسانوں کے بارے میں تو اپنوں کو بھی چٹ کرنے جانے کا الزام ہے۔ لیکن یہ سلسلہ چونکہ نینڈردلز کی نسل کے خاتمے کے بعد رک گیا اور چونکہ معاشرے کے وجود کے لیے ضروری عنصر ٹرسٹ تھا اس لیے سپینز نے یہ روش اپنے مردوں تک محدود کردی جو نامعلوم وجوہ کی بنا پر رک گئی۔ لیکن جاندار چونکہ کھیتی باڑی اور خوارک کا اہم حصہ تھے اس لیے، ان کا کھایا جانا جاری رہا اور جاری رہے گا۔

رہی بات اتنے بڑے پیمانے پر ان کی قربانی تو خوراک کے لیے پالا گیا جانور خوراک ہی بنے گا، ذرا کسی دن کے ایف سی کے سلاٹر ہاوس کی ویڈیو نکال کر دیکھ لیجیے۔ یا تو اپنے آپ کو اور معاشرے کو اس قدر حساس کیجیے کہ وہ آپ کی بات مان لے۔ اور اس سے شاید مذہبی تعبیر بھی معروف کا اثر قبول کرلے۔ اور یہ بات یاد رکھیں کہ سرمایہ دار آپ کو یہ حساسیت پیدا کرنے نہیں دے گا۔ ہاں ایک بات جس کا خیال بہرحال رہے کہ ہمیں بطور قوم کچھ طریقہ کار سیکھ لینے کی ضرورت ہے۔ قربانی کے بعد ان آلائشوں کو دور کرنا اور اچھے سے ٹھکانے لگانا سماج کا کام ہے۔ اور سماج کی تشکیل میں ہم حد درجہ نکمی قوم ہیں۔ کاش دانشور ایشوز پر بات کرتے جن سے لوگوں میں شعور پھیلتا، اس کی بجائے وہ دل پشوری کرنے کو جتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close