وسل کی جگہ بگل ہی بج گیا

مہتاب عزیز

اہلخانہ اور دوست ظالم نہ ہوتے تو اپنی زندگی سکون سے گزرتی۔ ابھی چند ہی روز پہلے کی بات ہے۔ عبداللہ کا فون آیا کہ لیپ ٹاپ کا مکینک ڈھونڈا ہے۔ کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔ فورا پہنچو۔

اپنی ضرب المثال سُستی کی وجہ سے لیپ ٹاپ کا معمولی سا نقص مہینوں سے جوں کا توں تھا۔ اب یہ نادر شاھی حکم نازل نہ ہوتا تو ایک آدھ سال اور آسانی سے گزر جاتا۔ مہینے کی ابتداء تھی۔ جیب میں پیسے بھی تھے، فوری طور پر معقول سا بہانہ بھی نہیں سوجھا۔ مجبوراً گھر سے نکلنا ہی پڑا۔


اگست کی شام میں حبس جوبن پر تھا۔ سکستھ روڈ کے ٹریفک جام سے ہوکر مری روڈ تک پہونچنا عذاب ہوگیا۔ سنگاپور پلازہ کی نکڑ پر بائیک لگاتے ہی عبداللہ صاحب سامنے کھڑے نظر آ گئے۔ پسلی توڑ جپھی کے بعد ساتھ کھڑے صاحب کا تعارف کرایا۔ یہ عمر بھائی ہیں۔ رسمی معانقے اور نمائشی سی مسکراہٹ کے بعد فورا ہی مکینک کی طرف چل دیے۔ مہینوں سے بند لیپ ٹاپ کی بیٹری مکمل بے جان تھی۔ چارجر لگا کر آن کرنے کی کوشش کے عین درمیان بجلی داغ مفارقت دے گئی۔

ان اللہ مع الصابرین کا ورد کرتے ہوئے سڑک پر ٹہلنے لگے۔ راہ میں جوس کی دکان نظر آئی۔ فورا کرسیوں پر قبضہ جما کر آرڈر داغا۔ کچھ سکون ملا تو عبد اللہ صاحب بولے عمر بھائی کا تعلق مقبوضہ پونچھ سے ہے۔

پونچھ کا نام سنتے ہی چونک اٹھا۔ وہ شہر جس کے تذکرے سُنتے میرا بچپن گزرا تھا۔ ہمارے بزرگ بچپن میں جہاں سے اسکول کی کتابیں، سلیٹ، تختیاں، قلم دوات لاتے تھے۔ بڑے ہونے پر عدالت کی تاریخیں اور بیگار بھگتنے جاتے تھے۔ بیمار ہونے والوں کو چارپائیوں پر اٹھا کر پہنچایا جاتا تھا۔ جہاں ہمارا ایک مکان تھا۔ جہاں پردادا کی قبر بھی تھی۔ ہوش سنبھالتے ہی دادا ابو سے کہانیاں سُن سُن کر پونچھ کے حدود اربعہ ازبر تھا۔ وکٹوریا سکول، سول ہسپتال، کچہری، راج محل، موتی محل، بلدیو قلعہ، باغ ڈیوڈی، ہاتھی گیٹ، فوارہ گارڈن، قلعہ منگل دیوی وغیرہ کی خیالی تصاویر ذہین پر نقش تھیں۔ کئی بار کنٹرول لائن کے اس پار سے پونچھ شہر کو دیکھنے کی کوشش کی۔ دن کو دھند میں لپٹا کوئی افسانوی شہر معلوم ہوا۔ لیکن رات میں دیکھنے پر پہاڑوں کے دامن میں جگنووں کی بستی دیکھائی دی۔

اب پونچھ کا ذکر آیا تو عبد اللہ صاحب غیر متعلق ہو گئے۔ میں عمر بھائی سے پونچھ کی جزویات پوچھنے لگ گیا۔ اس پرسش احوال میں کئی گھنٹے گزر گئے۔ نہ وقت کا احساس ہوا اور نہ ہی حبس کا۔ عمر بھائی جہاد کرنے اُس وقت نکلے تھے، جب ہمیں یقین دلایا جارہا تھا۔ ہم کشمیر اور ایٹمی پروگرام کے تحفظ کی خاطر افغانستان کی تباہی میں صفِ اول کے اتحادی بنے ہیں۔ اس لیے گفتگو میں جہادِ کشمیر کا عروج زوال زیر بحث آنا لازمی تھا۔

دوران گفتگو میں نے پوچھا، پونچھ اور راجوری پر مشتمل پیر پنجال بھی نوے فیصد سے زیادہ مسلم اکثریت کا خطہ ہے۔ یہاں وادی کی طرح تحریک آزادی کیوں جوش و خروش نہیں دیکھا سکی؟؟

عمر بھائی ایک مجروح مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئے۔
اسی کی دھائی میں شروع ہونے والا جہاد وادی والوں کا پہلا تجربہ تھا۔ دوسری طرف اس وقت تک ہمارے ہاں کے لوگ اس کھیل سے اُکتا چکے تھے۔ میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے وضاحت کی فرمائش کی تو جواب میں اُنہوں نے ایک مختصر سی آپ بیتی سُنا ڈالی۔

کہنے لگے میں نے ایک تحریکی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ اسی لیے آزادی اور جہاد کے نغمے لوری کے ساتھ ہی سُننے کو ملے۔ ابھی مسیں بھی پوری طرح نہیں بھیگی تھیں کہ عملا جہاد کے لیے نکل آیا۔ ٹرینگ کے بعد حرب و ضرب کی مہارت سے کہیں زیادہ نظریاتی پختگی لے کر واپس لانچ ہوا۔ ہندوستانی فوجوں سے معرکے جاری تھے۔ ایک روز اچانک اپنے علاقے کے بزرگ سے آمنا سامنا ہو گیا۔

بزرگ ہاتھ میں گن، پیٹھ پر بیگ اور دیگر لوازمات دیکھ کر معاملہ سمجھ گئے۔
تاسف کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا!! یہ تم کس کام میں لگ گئے ہو؟
جواب میں جہاد کی فرضیت، آزادی کی اہمیت اور غزوہ ہند کی فضلیت پر پورا لیکچر جھاڑ دیا۔
لیکن بزرگ اس لیکچر سے ذرا بھی متاثر نہیں ہوئے۔ ایک آہ بھری۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کچھ لمحے مجھے غور سے دیکھا۔ پھر بازو سے پکڑ کر کہنے لگے۔۔۔
میرے بچے میرے سفید بالوں کو غور سے دیکھو۔
ان کی سیاہی اور سفیدی کے درمیان میں نے بہت کچھ دیکھا ہے۔
میں نے پہلی بار جہاد، آزادی اور غزوہ ہند کا یہ والا لیکچر 1947 میں سُنا تھا۔ جب سامنے کے پہاڑوں سے مجاہدین کا لشکر اترا تھا۔ وہ مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج کو پیچھے دھکیلتا ہوا آیا تھا۔ ہم آزادی، جہاد اور غزوہ ہند کے سبق سے متاثر ہوئے۔ یوں اس لشکر میں مل گئے تھے۔ ہمارے جذبے کی شدت یہ تھی کہ مشین گنوں کا مقابلہ کلہاڑیوں اور توڑے دار بندوقوں سے کیا۔ پھر بھی ڈوگرا فوج کو سرینگر سے پہلے کہیں سانس نہ لینے دیا۔ جنگجو ڈوگرے سرینگر میں بھی نہ ٹھہرے، بلکہ جموں پہنچ کر ہی دم لیا۔

لیکن ہمارا لشکر بارہمولہ پہنچ کر رُک گیا۔ ہم کہتے رہے سرینگر ائیرپورٹ اور بانہال کی سرنگ پر قبضہ کر لیں۔ پھر دنیا کی کوئی فوج ہم سے وادی نہیں لے سکے گی۔
پر افسر لوگوں کا ایک ہی جواب تھا “ابھی آڈر نہیں آیا”۔ “جب آڈر آئے گا تو سرینگر میں داخل ہوں گے”.

آڈر کے انتظار میں پورا ہفتہ گزر گیا۔ آڈر سے پہلے ہندوستانی فوج سرینگر ائیریورٹ پر جہازوں سے اتر آئی۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ڈل جھیل کے اُس پار سرینگر پر ہندوستانی فوج کا قبضہ ہوا۔ پھر وہ بارہمولہ کی جانب بڑھنے لگی۔

ادھر بارہمولہ میں “ایک وسل بجی” اور اچانک واپسی شروع ہو گئی۔ ہم بھی حیران پریشان ساتھ ہی چلتے آئے۔ پیر پنجال کے اس پار اُترتے تو ہمیں اپنے گھروں کی فکر ہوئی۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی، کہ کیا کیا جائے۔ نہ ہی کوئی ہمیں کچھ بتا رہا تھا۔

پونچھ شہر سے نیچے اُتر کر ‘تیتری نوٹ’ نالے کے پاس دونوں فوجیں رک گئیں۔ بتاتے تھے کہیں دور دیس سے ‘یو این او’ کا آڈر آیا تھا۔

ہم پر تو ایک قیامت یہ ٹوٹی کہ بے ڈھنگا باڈر بن گیا۔ کہیں بھائی بھائی سے جدا ہوا، تو کہیں ماں بیٹی سے۔ زمین اس پار رہی اور گھر اُس پار۔ کہیں مکان اُدھر چلا گیا تو مویشیوں کا کوٹھا ادھر رہ گیا۔

پھر باڈر پر سکون ہوا تو ہندوستانی فوج ہم پر ٹوٹ پڑی، دشمن کا ساتھ دینے کے الزام میں جو ہمارے ساتھ کیا گیا۔ وہ پتھروں کو رلانے کے لیے بھی کافی تھا۔ جان، مال،عزت آبرو۔ بس کیا کیا سُناوں۔

بے بسی ۔ سی بے بسی تھی۔ کسی نے ظالم کا ہاتھ روکا، نہ ہی ہماری خبر لی۔

ابھی ہندوستانی فوج کا ظلم و ستم کچھ کم ہی ہوا تھا۔ کہ پھر آزادی، جہاد اور غزوہ ہند کے لیکچر ملنے لگے۔
1964 کا سال آیا تو ادھر سے فوجی اور سولین بندوقوں کے ساتھ چلے آئے۔ ہمیں خوشخبری دی کہ آپریشن جبرالٹر شروع ہو گیا ہے۔ اب جموں و کشمیر کی آزادی سے کم کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔

ہم آزادی کی طلب اور ہندوستانی فوج سے انتقام لینے ساتھ چل دیے۔ اس بار بھی سرینگر کے دروازے پر پہنچ کر رک گئے۔ بانہال کی سرنگ کو پھر نظر انداز کر دیا۔

سامنے ہندوستانی فوج کے دستے جہازوں اور ٹرکوں پر سوار پہنچنا شروع ہو گئے۔ ہم تو جان توڑ کر لڑے۔

ہندوستانی فوجوں کی تعداد اور اسلحے میں مسلسل اضافی ہو رہا تھا۔ ہماری گولیاں اور بارود ختم ہو رہا تھا۔
ہمارے پاس پیچھے ہٹنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

ابھی ہم پسپا ہو کر واپس پونچھ نہ پہنچے تھے کہ بڑی جنگ شروع ہو گئی۔ مسلمانوں کی فوجوں نے وہ سامنے ‘پیر گلی’ تک کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔

اب تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ ہم آزاد ہو چکے تھے۔

ہم سوچا کرتے تھے کہ ذرا سستانے کے بعد فوجی بھائی وادی، جناب اور جموں کو آزادی دلانے کے لیے آگے بڑھنا شروع کریں گے۔
اس خوشی کو کچھ ہی ہفتے گزرے تھے۔

ایک روز پھر “وسل بجی” اور فوجوں نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔
ہٹتے ہٹتے وہ نیچے۔ جہاں پہلی بار باڈر بنا تھا وہیں جا پہنچے۔ سنتے تھے کہ اُس بار کسی دور دیس تاشقند سے آڈر آیا تھا۔

وہ تو خیر آڈر پر واپس چلے گئے۔ پر ہم پھر ہندوستانی فوج کے رحم و کرم پر تھے۔ اُس بار وہ مظالم ڈھائے گئے کہ پہلے کبھی انسانوں پر نہ ڈھائے گئے ہوں گے۔ جس نے اُس پار سے آنے والے کسی کو پانی بھی پلایا اُس کے بھی پورے خاندان کو نشانہ عبرت بنایا گیا۔ ان پہاڑوں میں بسنے والا کوئی ایسا گھر نہیں ہو سکتا، جس نے وہ ظلم نہ سہا ہو۔

پھر ہم نے 1971 کی لڑائی بھی دیکھی، اور ہندوستان کے شملہ سے آئے آڈر پر عمل ہوتا بھی دیکھا۔

میرے بچے! یہ جہاد، آزادی اور غزوہ ہند تب تک ہی ہوتا ہے جب تک آڈر نہیں آ جاتا۔

جب آڈر آتا ہے تو بس ایک “وسل بجتی” ہے۔ اور سب چھوڑ کر واپسی ہو جاتی ہے۔

پیچھے بس ہم رہ جاتے ہیں۔ ہندو فوجیوں کے ظلم سہنے کے لیے۔۔۔۔ کوئی بعد میں پوچھتا بھی نہیں کہ تم پر کیا گزری۔

میرے بچے تمیں آج شاید میری بات سمجھ نہ آ سکے۔ لیکن تم خود دیکھ لو گے۔

اس بار بھی آڈر آئے گا۔۔۔ “وسل بجے گی” ۔۔۔ تو یہی جہاد اور غزوہ ہند کا لیکچر تمارا جرم بن جائے گا۔۔۔ یہ لمبے بال اور یہ گن وغیرہ تمارے جرائم کے ثبوت شمار ہوں گے۔

کہانی مکمل ہونے تک عمر بھائی کی آواز بھرا چکی تھی۔ آنکھوں کی نمی بس چھلکنے کو ہی تھی۔

مجھے اپنے سوال پر شرمندگی ہو رہی تھی۔ عمر بھائی کا سامنا کرنا دشوار ہو چکا تھا۔

اس لیے فوراً ہی رخصت لی۔ لیپ ٹاپ کا معاملہ مستقبل پر چھوڑ دیا۔ گھر پہنچ کر میں سوچتا رہا “وسل بجنے پر” آزادی کے لیے قربانیاں دینے والوں پر کیا گزرتی ہوگی۔ سوچتا رہا اور میری آنکھیں برستی رہیں۔

ابھی اس ملاقات کو چار دن ہی گزرے تھے۔ کہ مودی نے جموں کشمیر کی شناخت مٹانے، ان کی مکمل نسل کشی کا قدم اٹھایا۔ پھر اس کھلی جارحیت پر ادھر کے انتہائی بودے رد عمل کو دیکھا۔

خیال آتا ہے کہ اس بار جانے کہاں سے آرڈر آیا۔ جو “وسل کے بجائے بگل بج گیا”

وہی بگل جو فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین کے موقع پر، لاش کو قبر میں اُتارے وقت بجایا جاتا ہے۔

مہتاب عزیز
11 اگست 2019

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close