بارسلونا میں کشمیر کے لیے مظاہرہ

ویب ڈیسک

پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے بچوں سمیت مرد و خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد نے انڈین جارحیت کے خلاف بارسلونا کے دل پلاسہ کاتالونیا میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

بھارت کے کشمیر کے سپیشل اسٹیٹس کو ختم کرنے اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف دنیا بھر میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی سراپا احتجاج ہے۔

سپین کے شہر بارسلونا میں کل 10 اگست کو ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
شرکاء میں پاکستانی کمیونٹی کے علاوہ سکھ کمیونٹی نے بھی بھارت کی ہٹ دھرمی اور ناانصافیوں کیخلاف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ فضا کشمیر بنے گا پاکستان۔ ہم لے کے رہیں گے آذادی اور انڈیا ٹیرریسٹ کے نعروں سے گونجتی رہی۔

شرکا نے اپنی تقاریر میں اقوام متحدہ ، عالمی عدالت انصاف اور سیکیورٹی کونسل کو کشمیر کے مسئلہ کو ہنگامی بنیادوں پر حل کروانے پر زور دیا۔ اور وادی میں جاری کرفیو کو ختم کرنے اور ذرائع ابلاغ کی سہولتوں کو فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ عالمی دنیا اصل صورتحال کا اندازہ لگا سکے۔


یاد رہے مودی سرکار نے گذشتہ ہفتہ آرٹیکل 370 اور 35 A کو منسوخ کرنے کے بعد کشمیر کی خصوصی اسٹیٹس کو ختم کردیا تھا اور سابقہ وزرائے اعظم محبوبہ مفتی، سید علی گیلانی اور دیگر 500 سے زائد کشمیری رہنماوں کو گرفتار اور نظر بند کر رکھا ہے۔
جبکہ کشمیری حریت پسند رہنما یاسین ملک کی شہادت کی خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں۔


پاکستان حکومت نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کو محدود کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمشنر کو پاکستان چھوڑنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ دوطرفہ تجارت ، سمجھوتہ ایکسپریس اور دہلی لاہور بس سروس کا سلسلہ بھی منقطع کر دیا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close