یمن:علیحدگی پسندوں کا عدن پر قبضہ

یمن میں حکومت کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف لڑنے والے علیحدگی پسند جنگجوؤں نے فوج سے جاری کئی روز کی جھڑپوں کے بعد فوجی ٹھکانوں اور صدارتی محل پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جنگجوؤں نے ساحلی شہر عدن پر موثر کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ علیحدگی پسند جنگجوؤں کو متحدہ عرب امارات کی پشت پناہی حاصل ہے اور یہ جنوبی یمن میں آزادی کے لیے کوشاں ہیں۔

یمن میں حکومت نے ایک بیان میں اس کارروائی کو بغاوت قرار دیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے خبر دی ہے کہ سعودی اتحاد نے شہر میں فی الفور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اتحاد نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف فوجی طاقت استعمال کی جائے گی۔

علیحدگی پسند لڑاکے جنگ بندی پر رضامند ہو گئے جس کا اطلاق اتوار سے ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی میں سعودی اتحاد اور علیحدگی پسند ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔

جنوبی شہر عدن، یمن کے صدر عبدربہ منصور ہادی کی حکومت کا عارضی مسکن ہے۔ صدر بذات خود سعودی عرب کے شہر ریاض میں رہائش پذیر ہیں۔

علیحدگی پسند گروپ ‘سکیورٹی بیلٹ’ کے ایک نمائندے نے اے ایف پی کو بتایا کہ انھوں نے صدارتی محل پر سنیچر کی رات بغیر کسی لڑائی کے قبضہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘محل میں موجود 200 سپاہیوں کو محل سے نکلنے کا محفوظ راستہ فراہم کیا گیا تھا۔’

حالیہ کارروائی نے حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے اتحاد پر کاری ضرب لگائی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close