مجھ سے میری شناخت مت چھینو

سوچ رہا ہوں ریاست جموں و کشمیر تقسیم ہو کر دو ملکوں میں ضم ہوتی ہے کیا میں خود کو اس ریاست (جس میں یہ حصہ ضم ہو گا یعنی پاکستان) کی شناخت کو دل و جان سے قبول کر پاؤں گا۔


کچھ دن قبل ایک دوست سے اسی موضوع پر بات ہو رہی تھی تو ہم دونوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کا کوئی بھی باشندہ 14 اگست اور سبز ہلالی والا پاکستانی یا ترنگے اور 15 اگست والا ہندوستانی نہیں بن پائے گا کیونکہ الحاق یا خود مختاری کی صورت میں اسے اپنی پہچان کے ساتھ رہنے کا موقع ملتا اور تقسیم کر کے ضم کرنا پہچان ختم کر دے گی۔


میں کوئی قوم پرست نہیں لیکن مجھے اپنی پہچان کے ساتھ رہنے کی خواہش ہے اور ہمیشہ رہے گی اور میری پہچان ریاست جموں و کشمیر ہے۔


میری اس پہچان کو کئی حصوں میں تقسیم کر کے دو ملکوں میں ضم کیے جانے کے آثار واضح ہو رہے ہیں.
دو دن دونوں ممالک اپنا اپنا یوم آزادی منانے جا رہے ہیں لیکن میرا گھر تقسیم ہو رہا ہے۔


ہندوستان کی پارلیمنٹ میں اعلان ہوتا ہے کہ “سات دن پہلے ہندوستان کی پارلیمنٹ میں اعلان ہوتا ہے کہ آج کشمیر کو ہندوستان کے دوسرے حصوں کے برابر کر دیا” چار دن پہلے پاکستان کی پارلیمنٹ میں نعرہ لگتا ہے کہ “کشمیر بنے گا پاکستان” اور یہ نعرہ لگانے والے یہ بھی کہتے ہیں کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کریں گے.
رات کے اس پہر یہ گاؤں میں یہ دکھ سونے نہیں دیتا کہ میری شناخت چھین کر مجھے زبردستی نئی شناخت کیوں دی جا رہی ہے؟ آیا میں اسے قبول کر پاؤں گا یا نہیں۔


جبرا مسلط ہو گئی تو چار و ناچار قبول کرنی ہو گی لیکن یہ دکھ قبر تک ساتھ ہی جائے گا کہ مجھ سے میری شناخت کیوں چھینی گئی.
شاید میرے پاکستانی اور ہندوستانی دوست اس پوسٹ کو متعصب پوسٹ کے طور پر لیں لیکن ان سے ایک سوال ہے کہ آج ان کو جبرا کوئی اور شناخت (چین, روس, انڈیا والوں کو پاکستان یا پاکستان والوں کو ہندوستان) کی شناخت دی جائے تو وہ اسے آسانی سے قبول کر لیں گے؟
میرے خیال میں مزاحمت ہو گی اور کوئی بھی دوسری شناخت قبول کرنا مشکل ہو گی.
ایسے میں وہ سوچیں کشمیریوں پر کیا بیت رہی ہو گی جن کو ستر سال شناخت کی کشمکش میں مبتلا رکھا اور اب ان کی شناخت چھینی جا رہی ہے۔


میرے خیال میں تقسیم جموں و کشمیر سے کسی حد تک دونوں ملک فائدہ ضرور اٹھا سکیں گے لیکن اگر دونوں ملک اسے الگ شناخت کے ساتھ رہنے دیتے تو یہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ دونوں کیلئے خوشحالی کا سبب بن سکتا اس لئے دونوں ملکوں کی عوام کو ہماری شناخت برقرار رکھنے کیلئے ہمارا ساتھ دینا چاہیے تاکہ ہم بھی اپنی مرضی کی زندگی جی سکیں.
دانش ارشاد…
12 اگست 2019

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close