ٹیلی نار کی 22 کروڑ ڈالر کی پیشکش

اسلام آباد ہائیکورٹ نے دو نجی موبائل فون کمپنیوں کو گارنٹی کے طور پر چھتیس، چھتیس ارب روپے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ یہ رقم لائسنس تجدید کی کل رقم کا 50 فیصد ہے۔

ادھر ٹیلی نار کمپنی نے حکومت کو لائسنس کی تجدید کے لیے 22 کروڑ 40 لاکھ ڈالر دینے کی پیش کش کی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے نجی موبائل فون کمپنیوں کے لائسنس تجدید کے حوالے سے درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے دو نجی موبائل فون کمپنیوں کو دو ہفتوں میں 50فیصد لائسنس فیس جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ دونوں کمپنیاں کم از کم 36، 36 ارب روپے دو ہفتوں کے اندر جمع کرائیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ایک لائسنس تجدید کے لیے 72 ارب روپے فیس مقرر کی تھی جس کے خلاف موبائل کمپنیوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔ عدالت نے دونوں کمپنیوں کو آدھی لائسنس فیس گرنٹی کے طور پر جمع کرانے کا حکم دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ نئے لائسنس فیس کی آدھی رقم ادا کیے بغیر حکم امتناع نہیں دے سکتے۔

عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ماہ تک کیلئے ملتوی کردی ہے۔

دوسری طرف ٹیلی نار پاکستان اپنے 44 ملین سے زائد قابل قدر صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لئے رضاکارانہ طور پر 224.6 ملین امریکی ڈالر کی ادائیگی کی پیش کش کی ہے۔

ایک بیان میں ٹیلی نار پاکستان نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی ترقی کی خاطر کوشاں ہے اورقانونی حقوق رکھنے کے باوجود اداٸیگی کی پیشکش کر رہا ہے۔

بیان کے مطابق ٹیلی نار پاکستان لائسنس کی بروقت تجدید اور ایک مثبت نتیجے کے لیے گز شتہ دو برس سے مسلسل کوشاں ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close