پانامہ جج: جسٹس عظمت سعید ریٹائرڈ

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید 65 برس کی عمر پوری ہونے پر اپنے آئینی عہدے سے ریٹائرڈ ہو گئے ہیں۔

جسٹس عظمٹ سعید نے پانامہ کیس سماعت کے دوران ’سیسلین مافیا‘ والے ریمارکس دیے تھے۔ ان کے ساتھ دیگر ججز میں جسٹس اعجاز افضل اور جسٹس اعجازالاحسن تھے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے جے آئی ٹی رپورٹ سے قبل ہی نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔

منگل کو جسٹس عظمت سعید کے اعزاز میں عدالت عظمیٰ کے ججز نے فل کورٹ ریفرنس دیا۔ ریفرنس میں عدالت کے سولہ ججز نے شرکت کی جن میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی شامل تھے تاہم جسٹس مقبول باقر اسلام آباد میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے جسٹس عظمت سعید کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں ان کے سیسلین مافیا والے ریمارکس یاد دلاتے ہوئے تاریخی قرار دیا۔

عظمت سعید کی ریٹائرمنٹ کے بعد پانامہ فیصلے والے بنچ کے تین ججز عدالت میں باقی رہ گئے ہیں۔

خیال رہے کہ جسٹس اعجاز افضل گذشتہ برس ریٹائرڈ ہوئے تھے۔

جسٹس عظمت سعید یکم جون 2012 کو سپریم کورٹ کے جج بنے تھے۔ اس طرح وہ تقریبا سات سال اور تین ماہ عدالت عظمیٰ میں رہے اور اپنے سامنے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ثاقب نثار کو ریٹائرڈ ہوتے دیکھتے رہے۔

جسٹس عظمت سعید اس بنچ کے بھی سربراہ رہے جس نے عمل درآمد کراتے ہوئے کراچی بحریہ ٹاؤن کو 460 ارب روپے کے عوض قانونی قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے فیصلے میں کراچی، راولپنڈی اور مری کے بحریہ ٹاؤن کو غیر قانونی قرار دے کر ختم کر دیا تھا۔

جسٹس عظمت سعید کو یکم دسمبر سنہ 2004 کو لاہور ہائیکورٹ کا جج لگایا گیا تھا۔ اس طرح وہ کل 14 برس اور سات ماہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ سے منسلک رہے۔

جسٹس عظمت سعید اٹھائیس اگست 1954 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور اسی شہر سے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سینئر کیمبرج سینٹ میری اکیڈمی سے کیا۔ انہوں نے گریجویشن سرسید کالج راولپنڈی سے کی۔

عظمت سعید نے 1978 میں وکالت کا شعبہ اختیار کیا اور لاہور ہائیکورٹ میں پریکٹس شروع کی۔ وہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قانونی مشیر رہنے کے بعد قومی احتساب بیورو پراسیکیوٹر بھی رہے۔ انہوں نے مشرف دور میں اٹک قلعے میں بند سیاسی کارکنوں کے خلاف نیب مقدمات کی بطور پراسیکیوٹر پیروی بھی کی۔

شیخ عظمت سعید کو اپنے منفرد ریمارکس اور انداز سے پاکستانی میڈیا کے ذریعے عوام میں پذیرائی ملی۔

انہوں نے پانامہ کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا۔ پانامہ کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر ایک سماعت کے دوران انہوں نے ججز کے بارے میں مسلم لیگ ن کے سیاست دانوں کی پریس کانفرنسز اور بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ن لیگ کی حکومت کو اٹلی کی ’سیسلین مافیا‘ سے بھی تشبیہ دی تھی جس نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

جسٹس عظمت سعید کے ان ریمارکس کو چیف جسٹس آصف کھوسہ کے ’گاڈ فادر‘ ڈائیلاگ والے فیصلے کے بعد سب سے زیادہ شہرت ملی اور اس سے بھی زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

جسٹس عظمت سعید عدالت کے ان بنچز کا حصہ رہے جنہوں نے ن لیگ کے رہنماؤں کو توہین عدالت کے مقدمات میں مختصر ٹرائل کے بعد نااہل کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close