تنقید اور اعتراض پر امپائرز تبدیل

دنیائے کرکٹ کے پیدائشی ملک انگلینڈ میں جاری تاریخی ایشز سیریز میں امپائرنگ کا معیار انتہائی پست رہا ہے اور پہلے تین ٹیسٹ میچوں کے دوران قریباً 50 فیصلوں پر ریویو لیا گیا جن میں سے 19 فیصلے تھرڈ امپائر نے واپس کیے۔

تیسرے میچ کے دوران فیلڈ امپائرز کے کئی فیصلوں پر سخت تنقید ہوئی اور اب ایشز سیریز کے آخری دو میچوں کے لیے نئے امپائرز کا تقرر کیا گیا ہے۔

ہیڈنگلے میں ایشز کے تیسرے ٹیسٹ میچ میں امپائرنگ کرنے والے ویسٹ انڈیز کے جوئیل ولسن اور نیوزی لینڈ کے کرس گیفنی کو ناقص امپائرنگ کی وجہ سے اگلے دو میچوں کی امپائرنگ سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ایشز سیریز کے اولڈ ٹریفورڈ اور اوول میں ہونے والے باقی دو میچوں میں جنوبی افریقہ کے ماریاس ایراسموس اور سری لنکا کے روچیرا پلینگرج امپائرنگ کے فرائض سر انجام دیں گے۔

انگلینڈ میں جاری ایشز سیریز کے پہلے میچ میں جوئیل ولسن کے مجموعی طور پر ریکارڈ آٹھ فیصلے ریویو پر غلط ثابت ہوئے۔

ناقدین نے کہا ہے کہ ویسٹ انڈین امپائر جوئیل ولسن نے تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوران کئی غلط فیصلے کیے جس میں میچ کے ہیرو بین سٹوکس کو 131 کے سکور پر ناٹ آؤٹ قرار دینا بھی شامل تھا حالانکہ بلے باز سٹمپس کے سامنے کھڑے تھے اور گیند سیدھی جا رہی تھی۔

ولسن کے ساتھی امپائر کرس گیفنی کے تیسرے میچ میں سات فیصلے تھرڈ امپائر نے غلط قرار دیے۔ 

اگر امپائر بین سٹوکس کو آوٹ دے دیتے تو میچ آسٹریلیا جیت جاتا کیونکہ کریز پر انگلینڈ کے بلے بازوں کی آخری جوڑی موجود تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close