صحافتی اداروں کے خلاف نیب سے رجوع کا فیصلہ

پاکستان کی پارلیمنٹ کی رپورٹنگ کرنے والی پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا ہے کہ کارکنوں کو تنخواہ نہ دینے والے میڈیا اداروں کے مالیاتی آڈٹ کے لیے نیب سے رجوع کیا جائے گا۔

ایسوسی ایشن کا ماہانہ اجلاس صدر بہزاد سلیمی کی صدارت میں ہوا جس میں اتفاق کیا گیا کہ کارکن دشمن صحافتی اداروں کے مالیاتی فرانزک آڈٹ کے لیے قومی احتساب بیورو سمیت دیگر اداروں سے رابطہ کیا جائے گا۔

ایسوسی ایشن کے مطابق سب سے پہلے نوائے وقت گروپ اور اس کی چیف ایگزیکٹو رمیزہ نظامی کے خلاف مالیاتی فرانزک آڈٹ کے لئے چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو باضابطہ درخواست دے جائے گی

پی آر اے کی ایگزیکٹو باڈی نے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے مختلف اداروں کی جانب سے کارکنان کی جبری برطرفیوں اور کئی کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی شدید مذمت کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ میڈیا کارکنان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اعلی عدالتوں سمیت تمام متعلقہ اداروں سے رجوع کیا جائے گا،پی آر اے کی ایگزیکٹو باڈی نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ کارکن دشمن صحافتی اداروں کے مالیاتی فرانزک آڈٹ کے لئے بھی قومی احتساب بیورو سمیت دیگر اداروں سے رابطہ کیا جائے گا۔

نوائے وقت گروپ کے کارکنان کی جانب سے ادارے کی چیف ایگزیکٹو رمیزہ نظامی کولکھا گیاخط بھی زیر غور آیا،نوائے وقت گروپ کے کارکنان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے پی آر اے نے فیصلہ کیا ہے کہ سب سے پہلے نوائے وقت گروپ اور اس کی چیف ایگزیکٹو رمیزہ نظامی کے خلاف مالیاتی فرانزک آڈٹ کے لئے چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو باضابطہ درخواست دے جائے گی،اجلاس میں وزارت اطلاعات سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی نہ کرنے والے اداروں کو نہ صرف بقایاجات کی ادائیگی روکے بلکہ مزید سرکاری اشتہارات کا اجرا بند کرے،وزارت اطلاعات اب تک صحافتی اداروں کو کی جانے والی ادائیگیوں اور ان کے نتیجے میں کارکنان کو ملنے والی تنخواہوں کی تفصیلات سامنے لائے،
اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم خصوصاً میڈیا پر پابندیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ کشمیری میڈیا سے اظہار یکجہتی کے لئے پارلیمنٹ ہاوس میں شمعیں روشن کی جائیں گی۔

سینٹ اور قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ اور ارکان کے ساتھ ملکر جلدتاریخ کا تعین کیا جائے گا،یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ کشمیر میں میڈیا پر پابندیوں کے خلاف انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلٹس سمیت عالمی صحافتی تنظیموں کو خطوط لکھے جائیں گے۔
پی آر اے ایگزیکٹو باڈی نے آئینی کمیٹی پرزور دیا ہے کہ وہ اپنی سفارشات کو ایک ہفتے میں مکمل کرے،اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ صحافیوں کے روزگار اور جان و مال کے تحفظ کے لئے قانون سازی کی کوششوں کو مزید تیز اور موثر بنایا جائے گاپی آر اے کے اجلاس میں میڈیا پارکنگ سے متعلق امور زیر غور آئے ایگزیکٹو باڈی نے تمام ممبران پر زور دیا ہے کہ میڈیا پارکنگ کے سٹکرز کے حصول کے لئے اپنی درخواست پی آر اے آفس میں جلدازجلد جمع کرا دیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close