’فوج تیار، ایٹمی جنگ سے دنیا متاثر ہوگی‘

 پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سارا پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ کشمیری بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ انڈیا کے زیرانتظام کشمیری تقریباً چار ہفتے سے کرفیو میں بند ہیں۔

یوم یکجہتی کشمیر کے آدھے گھنٹے کھڑے رہنے کے موقع پر اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ’ان تقریبات کا مقصد کشمیریوں کو یہ بتانا ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم ان کے دکھ میں شامل ہیں۔ یہاں سے پیغام یہ جائے گا کہ جب تک کشمیریوں کو آزادی نہیں ملتی ہم آخری دم تک ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر جمعے کو ملک بھر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آدھے گھنٹے کے لیے لاکھوں شہری باہر نکلے جن میں سے زیادہ تر سرکاری ملازمین اور سکولوں کے بچے تھے۔

حکومت نے بارہ سے ساڑھے بارہ بجے تک ٹریفک روکنے اور شہریوں کو گھروں اور دفاتر سے باہر آ کر کھڑے رہنے کے لیے کہا تھا۔

وزیراعظم عمران خان بھی اسلام آباد میں اپنے دفتر کے باہرکشمیر سے یکجہتی کے لیے کھڑے رہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ دنیا کو بتا رہے ہیں کہ انڈیا اور نریندر مودی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کچھ نہ کچھ کریں گے اور اگر ایسا ہوا تو ’ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ ہماری فوج تیار ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہیں تو اس سے پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔‘

لاکھوں گاڑیوں کو ٹریفک سگنل بند کر کے روکا گیا جبکہ مختلف سگنل فری شاہراؤں پر بھی اہلکاروں نے گاڑیوں کو گزرنے سے روکا۔

آدھا گھنٹہ کھڑے رہنے اور ٹریفک روکنے کے سرکاری فیصلے پر سوشل میڈیا صارفین نے سخت تنقید کی تھی جبکہ اس دوران سامنے آنے والی ویڈیوز سے بھی شہریوں کا ٹریفک روکنے پر غم و غصہ دیکھنے کو ملا۔

فیصلے پر صحافی سرل المیڈا نے ٹویٹ کیا تھا کہ ٹی وی پر بہترین تبصرہ ریما عمر نے کیا ہے کہ سرکاری احتجاج فائدے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

قانون دان اور تجزیہ کار ریما عمر نے حکومت کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں اس سے کیا پیغام جائے گا کہ کشمیر سے یکجہتی کے لیے بھی سرکاری حکم نامے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ٹی وی پر کہا کہ یکجہتی اگر عوامی سطح پر کی جائے اور اس میں حکومت کا عمل دخل نہ ہو تو دنیا اس کو وزن بھی دیتی ہے۔

سینکڑوں صارفین نے ایک میم بھی شیئر کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے ٹیکس فائلر آدھا گھنٹہ جبکہ نان فائلر ایک گھنٹہ کھڑے رہیں گے۔

حکومت کے فیصلے پر تنقید کرنے والوں میں اینکر ماریہ میمن اور محمد جنید بھی شامل ہیں۔

فیصلے پر تنقید کرنے والوں کو وفاقی وزیر فواد چودھری نے جواب بھی دیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر صحافی رضا رومی کی تنقیدی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کر کے لکھا ہے کہ فیصلے پر ایک طبقے کی تنقید کی سمجھ نہیں آ رہی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close