شاہد مسعود کو سننا کیوں ضروری ہے

عمران زاہد

ڈاکٹر شاہد مسعود وہ واحد اینکر ہیں جنہیں دروغ گو سمجھتے ہوئے بھی سنتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں سن کر ذہن پر بار نہیں پڑتا۔ بلکہ ہنسنے ہنسانے کا موقعہ بھی ملتا ہے۔

آج کل وہ زید حامد کی کمی پوری کر رہے ہیں۔ ان کی طرح پروگرام کرنا بہت آسان ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ اخبار سے کوئی تصویر یا خبر لے لیں، سوشل میڈیا پر کیا گیا کوئی تبصرہ لے لیں، اس میں تاریخ، جغرافیہ، افغانستان، طالبان، قرب قیامت کی علامات، نسیم حجازی اور طارق اسمٰعیل ساگر مکس کریں، زائنزم، انتہا پسندی، نیون کان، ہند توا وغیرہ وغیرہ کا حسب ضرورت تڑکا لگائیں اور کچھ تکّے ملکی حالات پر لگائیں جو حجام کی دکان پر بیٹھا ایک عام شخص بھی لگا لیتا ہے ۔۔۔ یا کسی ایجنسی سے کوئی اندر کی خبر یا پراپیگنڈے کی لئے لیڈ مل گئی تو اس کا ذکر کریں اور ایک گھنٹہ پورا کر لیں۔ کچھ بدتمیزی ساتھی اینکر سے بھی روا رکھیں ۔۔ اینکر کہتی ہے کہ اچھا ڈاکٹر صاحب باقی بات وقفے کے بعد کریں گے ۔۔۔ لیکن ڈاکٹر صاحب پر لازم ہے کہ وہ کوئی بات نہ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ ضرور بولیں گے جس پر بالاخر اینکر دوسری دفعہ بعض اوقات تیسری دفعہ کہے گی اچھا ڈاکٹر صاحب باقی بات بعد میں ۔۔۔۔ دل میں لازماً سوچتی ہو گی کہ کس کھچ سے اس کا پالا پڑ گیا ہے۔ کچھ لوگ لازماً پوچھیں گے کہ کھچ کیا ہوتی ہے ۔۔۔ تو بھائیو، یہ پنجابی زبان کا لفظ ہےاور بقول خالد مسعود جس طرح “چول” صرف دکھایا جا سکتا ہے، اس کا مطلب سمجھایا نہیں جا سکتا اسی طرح کھچ بھی دیکھی جا سکتی ہے ۔۔ اس کا مطلب سمجھانا بہت مشکل ہے۔

کل موصوف بھارت، آسام، کشمیر، مشرق وسطٰی کی بات کرتے کرتے اسرائیلیات پر جا نکلے۔ یقیناً اخبار میں کوئی تصویر دیکھ لی ہو گی اسرائیلی سیاحوں کی کشمیر میں سیرو سیاحت کرتے ۔۔۔۔ اب بتا رہے ہیں کہ بھارت امریکہ کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے تو اسے اسرائیل کی کیا ضرورت پڑ گئی ۔۔۔۔؟؟ اس کا بیان کرنے کے لئے فرمانے لگے کہ مودی بھلے (غزوہ ہند) کے حوالے سے احادیث کو مت اہمیت دے لیکن اسے سمجھنا چاہیئے کہ اسرائیلیات میں ہندوستان کا کیا مقام ہے۔ اب میں سیدھا ہو کے بیٹھ گیا کہ یقیناً کوئی نئی بات پتہ چلے گی ۔۔۔ ایک منٹ ادھر ادھر کی بولتے ہوئے وہ یہ نہ بتا پائے کہ اسرائیلیات میں بھارت کا کیا ذکر ہے تو ساتھی اینکر نے یہ کہہ کر وقفے کا اعلان کر دیا کہ ڈاکٹر صاحب اسرائیلیات میں بھارت کے مقام کے متعلق وقفے کے بعد بات کریں گے۔

اب وقفہ ختم ہوا تو اینکر نے اسرائیلیات پر بات کرنے کی بجائے پاکستان کے حالات پر بات شروع کر دی ۔۔۔ ۔۔۔ تین چار وقفے ایسے ہی گذر گئے۔۔۔ نہ ڈاکٹر صاحب واپس اسرائیلیات کے ٹاپک پہ واپس آئے، نہ ہی اینکر نے انہیں یاد کرانا مناسب جانا ۔۔۔۔ آخر میں پھر ہلکا سا یہ ٹاپک ٹچ کیا اور یہ کہہ کر رخصت لی کہ بھارت کا اسرائیلیات میں جو ذکر ہے وہ بہت اہم ہے ۔۔۔ ابھی وقت کی کمی ہے لہٰذا میں کل تفصیل سے بتاؤں گا۔ سمجھ تو پہلے ہی گیا تھا کہ ان تلوں میں تیل نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب جلدبازی میں ایک بات کہہ گئے جس کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں ہے۔۔ اب کہیں سے بُوٹی لگا کر آج کے پروگرام میں بتائیں گے۔
آج پھر کان لگا کر غور سے پروگرام سنا کہ شاید ڈاکٹر صاحب بھارت کے اسرائیلیات میں مقام پر روشنی ڈالیں گے ۔۔۔ پر کتھوں۔

ڈاکٹر صاحب کی طرح اور بہت سے لوگ بغیر اسکرپٹ کے ٹی وی پر پروگرام کرتے ہیں ۔۔ لیکن ان جیسا فکشن اور کوئی بیان نہیں کرتا۔ ڈاکٹر صاحب اگر فکشن لکھنے پہ آئیں تو یقیناً محی الدین نواب کے پائے کے فکشن نویس بن سکتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ ہمارے پسندیدہ اینکروں میں شمار ہوتے تھے ۔۔۔۔ پھر اللہ نے ان کا بھرم سرعام کھول دیا ۔۔۔ لیکن پرانے تعلق کی نسبت سے اب بھی سنتے ہیں ۔۔ لیکن مقصد بدل گیا ہے۔ اللہ انہیں اور ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close