کلبھوشن کی رہائی ممکن ہے؟

پاکستان نے مبینہ بھارتی دہشتگرد جاسوس کلبھوشن جادیو کو قونصلر رسائی دینے کے بعد دفتر خارجہ سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عالمی عدالت کے فیصلے پر عمل کیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ پاکستان نے بھارت کو کلبھوشن جادیو تک قونصلر رسائی دے دی۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق ”عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں بھارت کو دہشتگرد جاسوس کلبھوشن جادیو تک قونصلر رسائی دی گئی۔“

ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر نے کلبھوشن جادیو سے 2 گھنٹے ملاقات کی۔ کلبھوشن یادیو سے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی ملاقات دن 12 بجے شروع ہوئی۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حکومت پاکستان کے حکام بھی قونصلر رسائی میں موجود تھے اور بھارتی درخواست پر کسی بھی زبان پر بات کرنے پر پابندی نہیں لگائی گئی۔

ترجمان نے بتایا کہ کلبھوشن جادیو کی ملاقات ریکارڈ کی گئی اور ریکارڈنگ کے بارے میں بھارت کو پہلے سے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔

ترجمان کے مطابق ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے پاکستان نے کلبھوشن جادیو کو بغیر کسی روک ٹوک اور رکاوٹ کے قونصلر رسائی دی۔

ادھر انڈیا نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملاقات دباؤ کے ماحول میں کرائی گئی۔

بھارتی دفتر خارجہ کے ردعمل میں کہا گیا کہ ”اسلام آباد میں قائم مقام بھارتی ہائی کمیشن گوروو اہلووالیا نے کلبھوشن سے ملاقات کی جو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں کرائی گئی۔“

اعلامیے کے مطابق ”تفصیلی معلومات کا انتظار کر رہے ہیں، کلبھوشن کو شدید دباو کے ماحول میں پیش کیا گیا۔ اس پر اتنا دباؤ تھا کہ وہ پاکستانی موقف بیان کرنے پر مجبور تھا۔“

بیان میں کہا گیا ہے کہ ”ملاقات عالمی عدالت انصاف کی ہدایات کے مطابق ہوئی یا نہیں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کا پابند ہے۔“

بیان کے مطابق ”وزیر خارجہ نے کلبھوشن کی والدہ کو ملاقات اور کلبھوشن کی صحت کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور حکومت کلبھوشن کی جلد وطن واپسی کیلئے پرامید ہے۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close