طالبان اور امریکہ مرحلہ وار پیش رفت پر آمادہ

امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے پر فریقین اگلے چند روز میں دستخط کر دیں گے۔ اس سے قبل افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے افغان حکومت کو اس حوالے سے کی گئی پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔

زلمے خلیل زاد نے افغان ٹی وی طلوع کو بتایا کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کی صورت میں امریکی فوج پہلے مرحلے میں پانچ فوجی اڈے خالی کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے توثیق کے بعد ہی معاہدے پر عملدرآمد ہوگا۔

دوسری طرف طالبان ترجمان کے مطابق معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں پانچ ہزار امریکی فوجیوں کی واپسی ہوگی۔

کابل میں طلوع نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں زلمے خلیل زاد نے بتایا کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد امریکہ پہلے چار ماہ میں افغانستان کے پانچ فوجی اڈوں سے پانچ ہزار فوجی نکالے گا۔تاہم ان کے مطابق اس امن معاہدے کے مسودے پر تب عمل ہوگا جب صدر ٹرمپ اس کی توثیق کریں گے۔

’کاغذ پر ہم اور طالبان امن معاہدے کے لیے متفق ہوگئے ہیں، لیکن اس معاہدے پر عمل درآمد تب ہوگا، جب امریکی صدر اس پر متفق ہوجائیں گے۔‘

ادھر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان ویب سائٹ پرجاری ایک تحریری پیغام میں کہا ہے کہ عبوری معاہدے کے تحت تقریباً پانچ ہزار امریکی فوج کا انخلا ہوگا۔

زلمے خلیل زاد دوحہ میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے نویں دور کے اختتام کے بعد کابل پہنچے اور افغان صدر اشرف غنی اور ان کی کابینہ کو بریفنگ دی۔

کابل میں افغان صدر کے ترجمان وحید صدیقی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ زلمے خلیل زاد نے افغان صدر کو ساتھ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کا مسودہ دکھایا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close