واہ رے کشمیر، تیری قسمت !


کبھی خود پے، کبھی حالات پے رونا آیا۔ نہ جانے کیا سوچ کر شاعر نے یہ لکھا ہوگا لیکن اب تو یوں لگتا ہے کہ یہ مصرع شاعر نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر ہی لکھا تھا یا کم از کم اس مصرعے کا یہ اس موقع کے لیے درست استعمال ہو گیا۔ کشمیر کی صورتحال اور کشمیریوں کی بے بسی پر جس طرح پاک بھارت سیاستیں کی جارہی ہیں اس کو دیکھ کر ہر سمجھدار انسان کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ بھارت کس طرح کا کھیل کھیل رہا ہے اور پاکستان میں حکمران اور متعلقہ فیصلہ ساز کیا کر رہے ہیں۔


مجھے کہنے دیجیے کہ بھارت جو چاہتا تھا اس نے حاصل کر لیا کیونکہ اس نے اپنے قانون کا سہارا لیتے ہوئے اپنے زیرقبضہ متنازع علاقوں کو نہ صرف قانونی حیثیت دے دی بلکہ اپنے جھنڈے بھی ستر سال کے بعد عملی طور پر گاڑ دیے۔

انڈینز نے دنیا کو اپنا نقظہ نظر سمجھایا اور تقریبا تمام طاقتور ممالک نے نہ صرف ان کا نقطہ نظر سمجھا بلکہ اس کے اس عملی اقدام کی تائید بھی کی۔ اور یہاں تک کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اس بولڈ قدم کے بعد دنیا نے نہ صرف اس کو خوش آمدید کہا بلکہ ہم سب کے قبلہ و کعبہ عرب دنیا نے اس کو اپنا سب سے بڑا سویلین ایوارڈ بھی دے دیا جس کا مطلب تھا کہ اب کرلو جو کرنا ہے۔


اس بات پر ہمیں اب یقین کرلینا چاہیے کہ کشمیر کی حیثیت اور قسمت اب بھارتی حکومت کے اختیار میں ہے وہ چاہے تو ہمیشہ کی طرح کشمیریوں کے خون کو ارزاں اور سستا سمجھتے ہوئے اس سے ہولی کھیلے یا پھر نوجوانوں کو زندگی بھر کے لئے اندھا، بہرا اور اپاہج کردے۔ مریضوں کو بغیر دوا کے مرنے دے اور عورتوں، بچیوں کی عصمت دری کرے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت کشمیریوں کے ساتھ یہ سلوک صرف اب کر رہا ہے؟ کیا دنیا کو نہیں پتہ تھا کہ کشمیریوں کے حقوق کی کس طرح خلاف ورزی کی جاتی رہی ہے۔ کس طرح ان کو بیرونی دنیا سے کاٹ کر الگ تھلگ سسکتی موت مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ کیا دنیا بھارتی مظالم کو نہیں دیکھ رہی تھی؟ ہم نے تب کیا کیا اور اب کیا کر رہے ہیں؟ چلیں یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ ہم نے پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کس طرح ماضی میں کشمیر کو نظرانداز کیا اور کس طرح اس پر سیاست چمکائی، معصوم عوام سے ووٹ لے کر حکومتیں بھی بناتے رہے ہم۔


موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ پچھلی کوتاہیوں سے سبق حاصل کریں اور یہ دیکھیں کہ اب کشمیر کی قسمت بدلنے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا؟


کیا کشمیر کی قسمت ہم سوشل میڈیا پر بدلیں گے؟


کیا قومی ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر لایئو ٹراینسمینشنز کر کے کشمیر کی قسمت بدلیں گے؟ وہ سرکاری ٹی وی چینل جس کے اینکرز یہ کہتے رہے کہ بھارت نے آرٹیکل 370A کا نفاذ کرکے کشمیر پر بہت ظلم کردیا ہے۔
کیا تمام سیاسی جماعتوں کے مذمتی بیانات کشمیر کی قسمت بدلنے کے لئے کافی ہوں گے؟


کیا مودی کو سوشل میڈیا پر اور پریس ریلیز میں گالیاں دینے سے کشمیر کی حیثت بدل جائے گی؟
کیا سیاستدانوں کی شعلہ بیان تقریروں سے کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ ہو جائے گا؟


کیا پچھلی حکومتوں کو گالیاں دینے سے اور مورد الزام ٹھہرانے سے کشمیر کی قسمت بدل جائے گی؟
کیا میڈیا کو اور نام نہاد اینکرز کو لائن آف کنٹرول پر لے جا نے سے کشمیر حاصل ہوجائے گا؟
کیا سیلیبریٹریز کے کشمیر کے ساتھ یک جہتی کے پیغامات نشر کرنے سے آپ کشمیر کے حالات تبدیل کردیں گے؟
یا پھر ایک آدھ گھنٹہ سڑکوں، چوراہوں پر ٹریفک روک کر اور کھڑے رہنے سے مودی کا فیصلہ بدل جائے گا؟
کیا صرف ٹویٹس کرتے رہنے سے کشمیر میں ہونے والے مظالم ختم ہو جایئں گے؟
کیا نئے نئے پروموز بنا کر یا گانے گا گا کر ہم کشمیریوں کے اوپر ہونے والے مظالم پر مرہم رکھیں گے؟
یہ سب اقدامات کرنے سے آپ دنیا کے سامنے کشمیر کا مقدمہ تو پیش کر سکتے ہیں لیکن جیت نہیں سکتے۔ یہ صرف ایک ٹرانسمیشن ہے جو بارہ گھنٹوں کے بعد ختم ہوجاتی ہے؟


ہم نے کشمیر کی قسمت بدلنے کے لیے آج تک کیا عملی اور حقیقت پر مبنی اقدامات کئے ہیں؟
مجھے تو یہ سب جذباتی کھیل اور بیانات سننے دیکھنے کے بعد دیکھ بچپن کی سنی ہوئی اور سلیبس میں پڑھی ہوئی کشمیر کو حاصل کرنے کی کہانیوں سے اور ایسے دعوؤں سے اب نفرت ہونے لگی ہے کہ ساری زندگی صرف جذباتی کہانیوں الف لیلوی جادووئی دعووں اور عقیدوں سے ہم نے کون سا کشمیر حاصل کر لیا یا کم از کم کشمیر کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کتنے کامیاب رہے؟


خدارا، بند کر دیجیے یہ بلند بانگ دعوے اور جذباتی گیت اور نغمے جن میں کشمیر کی محبت اور کلچر دکھا کر ہم قوم کو صرف رلانے میں کامیاب رہے اب کچھ حقیقی اور عملی طور پر بھی کرکے دکھائیے جس طرح بھارت نے کر دکھایا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close