سعودی، اماراتی وزرائے خارجہ خاموش؟

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ پاکستان کا دورہ مکمل کرکے واپس چلے گئے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان کے دورے میں کوئی بیان دیا اور نہ ہی میڈیا سے گفتگو کی تاہم وزیراعظم عمران خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کے بعد جاری کیے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے کشمیریوں کے انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے۔

 وزیراعظم کے دفتر سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ دونوں وزرائے خارجہ کی آمد اور ملاقات کا بنیادی محور کشمیر کی صورت حال تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے کشمیر میں خراب ہوتی انسانی صورت حال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور مہمانوں کو بتایا کہ ’موجودہ حالات میں مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیے انڈیا کی جانب سے کسی بھی جھوٹی کارروائی کا خطرہ ہے۔‘

بیان کے مطابق ’دونوں وزرائے خارجہ نے حالیہ پیش رفت پر پاکستان کے عوام کے غصے کو سمجھا اور کشمیر میں خراب ہوتی انسانی صورت حال پر اپنی تشویش ظاہر کی۔‘

قبل ازیں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دونوں وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مسئلہ کشمیر پر مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو میں پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت سے متعلق ابہام آج دور ہو گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ دونوں مہمان وزرائے خارجہ کو کشمیر کی صورت حال سے آگاہ کیا گیا اور انہوں نے اس مسئلے پر مکمل حمایت کی یقین دہائی کرائی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر او آئی سی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ’نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کا اجلاس ہو گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سعودی عرب سے تزویراتی تعلقات بہت مضبوط ہیں۔‘

بدھ کو سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجبیر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید ایک روزہ دورے پر اسلام آباد کے نور خان ایئربیس  پہنچے جہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان کا استقبال کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close