“امریکا طالبان معاہدہ”

محمد اشفاق ۔ تجزیہ کار

زلمے خلیل زاد اور ذبیح اللہ مجاہد کی ٹیموں کے مابین تقریباً تمام بنیادی نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے- چند دنوں میں معاہدے کا باقاعدہ اعلان متوقع ہے۔ امریکا اگلے پانچ سے چھ ماہ میں اپنے ساڑھے پانچ ہزار کے قریب فوجی واپس بلا لے گا۔ بارہ سے پندرہ ماہ میں چار پانچ ہزار فوجی اور دو ڈھائی ہزار سویلین چھوڑ کر امریکا اور اتحادیوں کی بقایا نفری افغانستان چھوڑ چکی ہوگی۔ طالبان فی الحال امریکی افواج کے خلاف کاروائیاں روکنے پر رضامند ہوئے ہیں۔ اس ماہ کے آخر سے اوسلو میں افغان حکومت اور طالبان کے بیچ مذاکرات کا پہلا راؤنڈ شروع ہونے جا رہا ہے- طالبان اور امریکا مذاکرات کامیاب کروانے کے بعد اب ہم پر افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات کامیاب کروانے کی ذمہ داری بھی آن پڑی ہے- پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اسی لئے ان دنوں بدترین معاشی حالات میں بھی خوش اور پرامید دکھائی دیتی ہے-

امریکا طالبان معاہدے پر دونوں فریقین البتہ بہت زیادہ خوش اور پرامید نہیں ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اگلے برس صدارتی انتخابات کا مرحلہ شروع ہونے کی بناء پر اس سے پہلے پہلے افغان مسئلے کا حل چاہتے تھے، اس وجہ سے امریکی اسٹیبلشمنٹ کو طالبان کو وہ رعایتیں دینا پڑی ہیں جن کیلئے وہ پہلے تیار نہیں تھی۔ افغانستان میں مختلف ادوار میں تعینات رہے نو امریکی ڈپلومیٹس نے بھی اپنے خط میں چند خدشات کا اظہار کیا ہے- محترمہ میڈیلین البرائٹ نے ایک مضمون میں بھی ان خدشات کو دہرایا ہے- کل کی اطلاع یہ تھی کہ مائیک پومپیو نے طالبان کے ساتھ معاہدے کے دستخطوں کی تقریب میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے- اب شاید کابل میں امریکی سفیر یا کوئی نچلے درجے کا اہلکار معاہدے پر دستخط کرے گا یا پھر اسے ایک مشترکہ اعلان کی حد تک محدود رکھا جائے گا۔

امریکی اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلیجنشیا کے خدشات اور افغان حکومت اور عوام کے خدشات کی نوعیت ایک سی ہیں۔ دونوں ہی کو طالبان کی یقین دہانیوں پر بھروسہ نہیں ہے۔ ان خدشات کو مزید تقویت طالبان کے قندوز پر حالیہ ناکام حملے سے پہنچی ہے۔ یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ امریکا کے جانے کے بعد طالبان دوبارہ افغانستان پر قبضے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ طالبان کی جانب سے دہشتگردی کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے- اس سال سولہ سو افغان شہری طالبان کے حملوں میں جان گنوا بیٹھے ہیں۔ زلمے خلیل زاد اتوار کو کابل پہنچے تو اسی روز افغان فورسز قندوز سے طالبان کو بھگانے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ جس روز زلمے اور صدر اشرف غنی کی ملاقات تھی اسی دن کابل کے ایک ہوٹل پر طالبان کے خودکش حملے میں بارہ افراد ہلاک ہوئے۔

امریکی دباؤ پر دو مرتبہ افغان صدارتی انتخابات ملتوی ہو چکے تھے، اشرف غنی انتخابات تیسری مرتبہ ملتوی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس بار ان کے ڈپٹی کے طور پر امراللہ صالح میدان میں اترے ہیں۔ یہ احمد شاہ مسعود کے ساتھیوں میں سے ایک ہیں۔ خاد کو این ڈی ایس کی صورت دوبارہ منظم کرنے والے امراللہ صالح ہیں، سپائی چیف کے علاوہ آپ وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں۔ صدارتی مہم شروع ہونے کے پہلے روز ہی طالبان نے ان کے انتخابی ہیڈکوارٹر پہ حملہ کیا اور چوتھے فلور پہ ان کے دفتر تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ آخری لمحات میں امراللہ صالح نے ملحقہ عمارت کی چھت پر چھلانگ لگا دی اور خودکش بمبار سے بچنے میں کامیاب ہوئے۔ تب سے پاکستان اور طالبان کے خلاف تقریباً روزانہ ہی ایک بیان جاری فرماتے ہیں۔ اشرف غنی اور امراللہ صالح کی جوڑی منتخب ہونے کے بعد کیا رویہ اپناتی ہے، افغان امن معاہدے کا دارومدار اس بات پر بھی ہو گا۔

افغان معاشرہ 2001 سے سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر بہت آگے نکل آیا ہے- افغانستان کی 65 فیصد آبادی ان نوے کی دہائی یا اس کے بعد پیدا ہونے والے نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کیلئے وار لارڈز اور طالبان صرف تباہی اور دہشت کی علامت ہیں۔ آج کے افغانستان میں برا یا بھلا ایک سول انتظامی ڈھانچہ موجود ہے- پولیس فورس اور افغان نیشنل آرمی بدترین حالات میں بھی کام کر رہی ہیں۔ تعلیم اور صحت کا برابھلا نظام بھی وجود میں آ چکا ہے- افغان میڈیا بھی تیزی سے پھل پھول رہا ہے اور کم از کم ہمارے میڈیا کی نسبت زیادہ آزاد بھی ہے- خواتین ہر شعبے میں بتدریج آگے بڑھ رہی ہیں۔ یہ وہ زمینی حقائق ہیں جن سے ہمارے دفاعی تجزیہ کار اور افغان امور کے ماہر لاعلم ہو سکتے ہیں مگر طالبان قیادت ان کا ادراک رکھتی ہے- پوسٹ طالبان افغان معاشرے پر ان شاءاللہ کبھی تفصیل سے لکھوں گا۔ اس ترقی پذیر معاشرے میں طالبان سسٹم کو ڈسٹرب یا تباہ کئے بغیر اپنی جگہ بنا لیتے ہیں تو یہ ان کی حکمت اور دور اندیشی ہو گی۔ تاہم طاقت کے زور پر افغانستان کو دوبارہ نوے کی دہائی میں دھکیلنے کی کوشش تباہی کے مترادف ہوگی۔

افغان معاشرہ طالبان اور امریکا کے بیچ مفاہمت کو کیسے دیکھ رہا ہے اس کی ایک مثال مہینہ ڈیڑھ پہلے دو وار لارڈز گلبدین حکمت یار اور رشید دوستم کے بیٹوں کی ملاقات ہے۔ اس ملاقات میں پرانی رنجشیں بھلا کر افغانستان کی ترقی اور استحکام کیلئے مل جل کر کام کرنے پہ اتفاق ہوا ہے- ایک اور دلچسپ ڈویلپمنٹ لیجنڈری احمد شاہ مسعود کے ہم شکل اور ہم نام بیٹے احمد مسعود کی ہفتہ بھر پہلے کی پریس کانفرنس ہے- احمد مسعود نے طالبان کے خطرے کے خلاف افغان حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے- وادی پنج شیر میں وہ دوبارہ اپنے وفاداروں کو منظم کرنے میں مصروف ہیں اور اگر طالبان افغان حکومت کے ساتھ امن معاہدہ نہیں کرتے تو احمد مسعود جنگ کیلئے تیار ہیں۔

یہ وہ عوامل ہیں جنہیں ہمارے ماہرین اپنے تجزیوں میں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہاں عمومی تاثر یہ ہے کہ امریکی افواج نکلنے کے بعد ون فائن مارننگ طالبان چہل قدمی کرتے ہوئے کابل میں داخل ہوں گے اور خلافت راشدہ کا احیاء ہو جائے گا۔ معاملات اتنے سیدھے اور آسان مگر نہیں رہے۔

پاکستان کیلئے ٹرمپ کی پالیسی میں تبدیلی نعمت غیرمترقبہ یا مترقبہ ثابت ہوئی ہے- شارٹ ٹرم میں کم از کم ہمارے لئے فوائد ہی فوائد ہیں۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اب ہمیں بلیک لسٹ نہیں کرے گی۔ ورلڈ بنک اور اے ڈی بی سے مالیاتی تعاون کے ہمارے معاہدے تقریباً مکمل ہیں اور فیٹف کے اکتوبر کے فیصلے سے مشروط ہیں۔ اب قوی امید کی جا سکتی ہے کہ اکتوبر کے بعد ان کے تحت ہمیں نقد امداد ملنا شروع ہو جائے گی۔ آئی ایم ایف داخلی طور پر جو بھی شرائط عائد کرتا رہے کم از کم امریکا اب ہمارے اور آئی ایم ایف کے مابین معاہدے میں ٹانگ نہیں پھنسائے گا۔ طالبان اور افغان حکومت کے مابین امن معاہدہ کروانے کے سلسلے میں بھی ہمیں اپنا لچ تلنے کا موقع مل رہا ہے اور کامیابی کی صورت میں کچھ درخشاں امکانات اس ضمن میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ مگر ان کے ساتھ ساتھ کچھ سنجیدہ چیلنجز بھی ہمیں درپیش ہیں۔

اب تک گوکہ پاکستان کو خوش کرنے کیلئے بھارت کو اس عمل سے بارہ پتھر باہر رکھا گیا ہے لیکن آپ یہ بات مدنظر رکھیں کہ طالبان کے ساتھ اپنے گزشتہ کامیاب مذاکرات سے پہلے زلمے خلیل زاد اسلام آباد سے ہو کر دوحہ گئے مگر دوحہ سے واپسی پر سیدھا دلی ائرپورٹ اترے۔ بھارت، ہم پسند کریں یا نہ کریں اب افغانستان میں اہم سٹیک ہولڈر ہے- امریکا اپنے بعد افغان حکومت کی امداد اور تعمیر نو کے عمل میں بھارت کا زیادہ اہم کردار دیکھنا چاہتا ہے۔ افغانستان میں بھارت تین ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کر چکا اور افغانستان کا بڑا ٹریڈ پارٹنر ہے- اس وقت بارہ ہزار افغان طلباء و طالبات بھارت میں زیرتعلیم ہیں۔ افغان فوج اور پولیس کی تربیت بھارتی اکیڈمیز میں ہوئی ہے- دیگر ریجنل پلیئرز کو بھارت کی افغانستان میں انوالومنٹ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے- مسئلہ صرف ہمیں یا ہماری وجہ سے طالبان کو ہے- اب پوسٹ امریکا افغانستان میں ہم اپنے لانگ ٹرم مفادات کا تحفظ کیسے کر پاتے ہیں بھارتی اثرورسوخ کے باوجود یا اس کو بے اثر کر کے، یہ دیکھنے لائق ہوگا۔
بھارت کے بعد دوسرا اہم سٹیک ہولڈر ایران ہے اور اسے بھی آپ بھارت اور افغان حکومت کے ساتھ کھڑا سمجھیں۔ طالبان کی ایک حد سے زیادہ حمایت ہمیں نقصان دے گی مگر ان کی مخالفت ہمیں زیادہ بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے- ہم نے افغان حکومت اور طالبان دونوں کے ساتھ مل کر چلنا ہے اور یہ کوئی آسان کام ہرگز نہیں۔

امریکی فوج افغانستان سے سال ڈیڑھ سال میں نکل جائے گی، مگر امریکی مفادات افغانستان میں اب ہمیشہ موجود رہیں گے اور ان مفادات کی حفاظت کیلئے امریکا اب افغانستان کو اس طرح نظرانداز نہیں کر پائے گا جیسا اس نے روس کے انخلاء کے بعد کیا تھا۔ افغانستان کے معاملے پر کوئی بھی رائے بناتے وقت اس فیکٹر کو ہمیشہ ذہن میں رکھیں۔ اور یہ بھی کہ چین اور روس دونوں ہی افغانستان سے متعلق موجودہ امریکی پالیسی سے کم وبیش متفق ہیں۔ ہم عالمی طاقتوں کیلئے جب تک پارٹ آف سلوشن رہیں گے، فائدے میں رہیں گے۔

تصویر “کابل شہر کا ایک خوبصورت منظر”
بشکریہ اسماء افغان پنٹرسٹ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close