’لڑکی پٹانے کا پہلا سبق‘

(مہنگائی اور ذہنی دباؤ کے مارے لوگوں کے لیے لندن سے محمد کاشف کی یہ ہلکی پھلکی تحریر شائع کی جا رہی ہے۔ اس کو سنجیدہ سمجھنے والے خود ذمہ دار ہوں گے۔ اس تحریر کے جواب میں لڑکے پٹانے یا پیٹنے والی تحاریر بھی شائع کی جا سکتی ہیں۔ ادارہ)

مار کھانے والے پونڈ حضرات، لڑکیوں سے پٹنے والے، ناکام عاشق اور شدید کنوارے، نیڑے نیڑے ہو جائیں۔

دنیا کی جتنی مرضی حسین عورت ہو بنی کسی مرد یا آج کل کے مطابق کسی عورت کے لیے بنی ہے۔ بڑے بازو، چوڑی چھاتی آور مضبوط جسم کا مالک مرد دنیا کی ہر عورت کو بھاتا ہے۔ جسے اچھا نہیں لگتا اس پر توجہ مت دیں۔ وہ یا تو لیسبین ہے۔ یا واقعی ہی شریف عورت۔ دونوں صورتوں میں آپ کے کام کی نہیں۔ دنیا کی ہر عورت، پاکستانی معاشرے میں خاص طور پر، عورت کے پاس سب سے زیادہ قیمتی چیز اس کی عزت ہے۔ یہ جاہل اور چھچورے جو آوازیں کستے یا عورت کو چھونے کی کوشش کر کے اسے پٹانے یا توجہ پانے کے مشتاق ہوتے ہیں۔ ان احمقوں کی اطلاع کے لیے اعلان کیا جاتا ہے کہ لڑکیاں ایسے مرد پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتی جسے اس کی عزت کا پاس نہ ہوں یا سر بازار نیلام کرے یا چھڑ خانی کریں۔ آج کل جدید دور ہے۔ گدھے مت بنے۔ فون نمبر، فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اسی مرض کی دوا ہے۔ ورنہ صدیوں پرانا نسخہ۔ فون نمبر ایک پرچی پر۔ پکڑ لیا تو ٹھیک ورنہ پرچی سنبھال رکھیں، دنیا بہت بڑی ہے۔

بہت زیادہ حسین عورتیں عموما آسان ٹارگٹ ہوتی ہیں۔ بہت سے لوگ ان سے اس ڈر کے مارے بات نہیں کرتے کہ یہ میرے ساتھ ’سیٹ‘ نہیں ہو سکتی۔ کتھے میں اور کتھے وہ، اتنی خوبصورت۔ عقلمندو! پاکستانی لڑکی تو اپنے سوٹ کی تعریف پر بھی خوش ہو جاتی ہے۔

یاد رکھیں! موٹی اور کوجی عورتیں زیادہ نخرے کرتی ہیں۔ لیکن یہ خود بھی ہاتھ آیا ہوا شکار جانے نہیں دینا چاہتی۔ سو چوائس اپنی اپنی۔

خواتین کو پراعتماد مرد پسند ہوتے ہیں۔ لڑکے کی شکل پر کمپرومائز ہو جاتا ہے اگر وہ اعتماد اور تمیز والا ہو تو۔ اور بات کرنے کی جرات کر سکے۔ جو بات ہی نہ کر سکے اسے کچھ اور کرنا چائیے۔ اب اعتماد کیسے آتا ہے، تجربے سے۔ جن لوگوں میں اعتماد کی کمی ہے وہ آئینے کی سامنے کھڑے ہو کر پریکٹس کریں۔ یہ یاد رکھیں ایسی کسی جگہ تجربہ نہ کریں جہاں بھائیوں کی تعداد ایک سے زیادہ ہو۔ ورنہ ہسپتال کا خرچہ بھی برداشت کرنا پڑے گا۔ سو بغیر پریکٹس ٹکر مارنے کا نتیجہ چند مشٹنڈے بھائیوں کی صورت بھی نکل سکتا ہے۔

ہر ممکن کوشش کر کے بٹ، یعنی کشمری برادری کی خواتین سے دور رہیں۔ ایک تو ان کے بھائی اور کزن سارے شہر میں پھیلے ہوئے ہوتے ہیں، دوسرا لڑکی کی خوراک کا خرچہ آپ کی ماہنامہ آمدن کے برابر ہو سکتا ہے۔ سو مرض سے احتیاط اچھی۔

راہ چلتی لڑکی کو کبھی نہ چھڑیں۔ اگر ایسا کیا تو گیم ختم۔ سٹوری اینڈ۔ اگر کوئی ایسا کرتا ملے تو اسے خوب پیٹیں۔ دھیان رہے پہلے اپنی صحت دیکھ لیں۔ لڑکا کمزور ہو تو ٹھیک، دو چار زیادہ لگائیں تاکہ ادھر ادھر والے بھی عبرت پکڑیں۔ ورنہ ہسپتال کا خرچہ دوبارہ ذہن نشین رکھیں۔

پونڈ حضرات موٹر سائیکل پر چنگ چی کے پیچھے ہمیشہ اچھا فاصلہ رکھ کر تعاقب کریں۔ عینک ضرور لگائیں۔ جیب میں کروشیے کی بنی سفید ٹوپی رکھیں۔ پولیس کو دیکھتے ہی پتلی گلی سے نکل جائیں۔ ورنہ سڑک پر مرغا بنے گے۔ چھترول کا بونس علیحدہ سے ملے گا۔ گھر دیکھ کر فورا ادھر سے کلٹی ہو جائیں۔ کبھی بھی اس محلے میں کسی کو نہ بتائیں کہ ادھر آپ کی سہیلی موجود ہے۔

عورت کا راز فاش نہ کریں، ہمیشہ فائدے میں رہیں گے۔ کبھی دوبارہ فیض یاب ہو سکتے ہیں۔ پیوستہ رہ شجر سے امید ملن رکھ ۔ جس نے عورت کی بدنامی کر دی تو بس وہ بندہ اس عورت کے لیے مردہ ہے۔ دوسری بات جب ڈر عورت سے رخصت ہو جاتا ہے تو وہ دنیا کی سب سے خطرناک شے بن جاتی ہے۔ اس کی عزت ڈھانپنے والے سو اور آ جائیں گے لیکن جو وہ آپ کا حال کرے گی، وہ ساری زندگی تازہ رہے گا۔ بزرگ کہتے ہیں۔ مارن نالو ڈرایا چنگا۔ باقی فیر سہی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close