خفیہ ایجنسی نے چار بھائی قتل کر دیے

افغانستان میں چار نوجوان بھائیوں کی ملک کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے اہلکاروں کے ایک جعلی آپریشن میں مارے جانے کے بعد سخت عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے واقعہ کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

الجزیرہ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے شہر جلال آباد میں چاروں نوجوانوں کی تدفین کے بعد ان کے چچا صفت اللہ نے بتایا کہ ’قبر میں اتارتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔‘

صفت اللہ نے کہا کہ ’میں ان کو مارے جانے کے دن ہی ان کے گھر پر ملا تھا بلکہ ان کی موت سے تین گھنٹے پہلے ان کے ساتھ تھا۔‘

الجزیرہ کے مطابق چاروں بھائی امریکی سی آئی اے کے تیار کردہ افغان خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی (این ڈی ایس) کے یونٹ زیرو ٹو کی ایک کارروائی میں قتل کیے گئے۔

مارے جانے والے بھائیوں کے اہل خانہ اور دوستوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ عبدالقادر کی عمر  ۳۰ سال، عبدالقدیر بہار ۲۸ سال، جہانزیب عمر ذخیلوال 26 سال اور صبور ذخیلوال 24 سال کے تھے۔

واقعہ کے بعد یونٹ زیرو ٹو نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے داعش اور آئی ایس آئی ایس کے فنانسر اور اس کے تین ساتھیوں کو ایک ایک آپریشن میں ہلاک کیا ہے تاہم جب سخت عوامی ردعمل سامنے آیا اور میڈیا کے ذریعے بھی حقائق سامنے لائے گئے تو حکام نے دیے گئے بیانات واپس لے لیے۔

مارے گئے بھائیوں کو جاننے والے افراد سامنے آئے اور انہوں نے کہا کہ مقتولین کا کسی بھی طرح کسی مسلح گروپ سے کوئی تعلق نہ تھا بلکہ ان میں سے دو سرکاری اداروں میں ملازمت کر رہے تھے جبکہ دو اپنے ذاتی کاروبار سے وابستہ تھے۔

مقتول بھائیوں کے گھر کے قریب ایک دکان کے مالک نقیب سخی زادہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ ان بھائیوں کو دس برس سے جانتے تھے۔ ’یہ بہت ہی نیک طبیعت کے لڑکے تھے۔ ہر کسی کے دکھ سکھ میں شریک رہتے تھے اور ہنسی مذاق بھی کر لیتے تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت اور فورسز کے دعوؤں پر کسی کو اعتبار نہیں اور یہ اپنا اعتماد عام لوگوں میں کھو چکے ہیں۔

مارے گئے صبور کے ایک دوست ہمایوں عمر نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ یقین نہیں کر رہے کہ صبور کو قتل کر کے اس کا تعلق داعش سے جوڑ دیا گیا ہے۔

’صبور میرا بہترین دوست تھا۔ چھ سات برس سے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھا۔ میں یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم کو کپتان تھا اور صبور ہمارا بہترین کھلاڑی اور فاسٹ بولر تھا۔‘ ہمایوں نے کہا کہ جب ان کو صبور کے قتل کی خبر ملی تو ایسا لگا جیسے سینے میں دل دھڑکنا بھول گیا ہو۔ ’میں یونیورسٹی جا سکا اور نہ ہی کام پر۔ چوبیس گھنٹے تک کچھ کھا پی نہ سکا۔‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close