ہارون الرشید کا کپتان

عمران زاہد

خان صاحب کے اولین مینٹوروں میں سے ایک ہارون الرشید صاحب نے “پاؤں تلے گھاس” نامی کالم میں عمران خان کی مایوسی کی منظرکشی کی ہے۔ واللہ آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ کافی دیر زاروقطار رونے کے بعد خان صاحب کی استقامت کے لئے آملے اور ہرڑ کا مربہ نوش کیا۔ پھر دل کو یک گونہ قرار سا آ گیا۔
لکھتے ہیں کہ:

“مہینوں تک ایک بھی چھٹی نہ کرنے والے آدمی کے پاؤں تلے گھاس اگ آئی ہے۔ وہ بددلی کا شکار ہے۔ نہ جانے کیوں”

ہارون صاحب نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایک بھی چھٹی نہ کر کے خانصاحب نے کون سی قومی خدمت انجام دی ہے؟ ملک کا کون سا مسئلہ حل کیا ہے؟ کس مہنگائی پر قابو پایا ہے؟ کون سے قرضے کم کر دئیے ہیں؟ کون سی اصلاحات کی ہیں؟ اور اگر چھٹی کر بھی لیتے تو قوم و ملک پر کیا غضب ڈھے جاتا۔ حالانکہ فدوی کی پختہ رائے ہے کہ خانصاحب کو کچھ عرصے کے لئے ماکولات و مشروباتِ مرغوبہ و غیر معقولہ کے ہمراہ کچھ عرصے کے لئے گوشہ نشیں کر دیا جائے اور باقی نظام کو جوں کا توں بھی چلنے دیا جائے تو نہ صرف خانصاحب مایوسی کے گرداب سے باہر نکل آئیں گے بلکہ ملک کے حالات بہت حد تک سنبھل جائیں گے۔

مزید فرماتے ہیں کہ: “اول دن سے کپتان کا مسئلہ یہی ہے کہ سیاست کو خود سمجھتا نہیں اور مشیر ناقص۔” مجھے اس میں کچھ کچھ جلنے کی بو آتی ہے۔ وہ بھی کیا وقت تھے جب بھری پری دنیا میں صرف ہارون صاحب کو کپتان کا مشیر ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ رنگین بھاگ بھری شاموں میں وہی کپتان کے کانوں میں خوبصورت کہانیاں پھونکا کرتے تھے۔ پھر ایک وقت وہ آیا جب کپتان کچھ اور کرمفرماؤں کی مدد سے کامیابی کے بہت سے زینے چڑھ گیا اور ہارون صاحب نیچے کھڑے اسے ہاتھوں میں سے ریت کی طرح پھسلتے دیکھتے رہے۔

مشیروں کے بارے میں مزید بیان فرمایا ” مشورہ دینے والوں میں سے بعض اوقات سب سے بعد والے کی بات مان لیتا ہے” کاش ہارون صاحب کو اس حقیقت کا پہلے علم ہوتا تو اب بھی خانصاحب کے نورتنوں میں شمار ہوتے۔ پتہ تب چلا جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

خانصاحب کی مایوسی کا احوال ان کے کسی معتمد ساتھی سے گیس ٹیکس کے معاملے پر سوال و جواب کی صورت میں پیش کیا۔ “پوچھا: وزیراعظم پیچھے کیوں ہٹے؟ بولے: وزیراعظم کی کابینہ نے اس مشکل مقام پر انہیں پہنچا دیا کہ آگے کھائی تھی۔ پلٹ آنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ ‘میں سخت صدمے کا شکار ہوں۔’ وہ بولے ‘کابینہ میں ایک شخص بھی ایسا نہیں ، سلیقہ مندی سے جو سرکاری موقف پیش کر سکتا۔ کوئی ایک بھی اس ہنر میں تربیت یافتہ نہیں۔’ پوچھا: وزیراعظم کو کیا یہ کہنا چاہیئے تھا کہ چار پانچ سو ارب کا خسارہ اگر ہوا تو مخالفت کرنے والے ذمہ دار ہوں گے۔ جواب ملا: بالکل نہیں مگر وہ زچ ہو گئے۔”

مضمون کے آخر میں افغان جہاد کے مشہور مجاہد گلبدین حکمت یار کا ذکر ہے ۔۔۔ گویا قارئین کے ذہنوں میں بٹھانے کی کوشش کی ہے کہ ہمارا کپتان حکمت یار سے کم نہیں ہے۔ اب اس موازنے پر ہنسا ہی جا سکتا ہے۔ چہ نسبت خان را با حکمت پاک۔

آخر میں اس وقت کا ذکر کیا ہے جب خانصاحب جرنیلوں، ایجنسیوں وغیرہ کے خلاف بھارت میں جا کر بھی انٹرویو دے لیا کرتے تھے ۔۔۔۔ مشرف دور کے ایک جرنیل سے کیا جانے والے فلمی ڈائیلاگ بیان کیا ہے۔۔۔۔۔ ہارون صاحب، ماضی سے نکلنے کو تیار ہی نہیں ۔۔ خانصاحب کی کایا پلٹ کو بالکل ہی نظرانداز کر گئے ۔۔ ارے بھائی، وہ والا کپتان مرا تو اس کی راکھ میں سے موجودہ کپتان برامد ہوا جو جرنیلوں کی کاسہ لیسی کے سوا کچھ نہیں جانتا اور اپنے ماضی کی ہر بات سے پھر جانے کو اپنے لئے اعزاز گردانتا ہے۔ ہاروں صاحب بھی کیا کریں ۔۔۔ جس روحانی کیفیت میں وہ کالم لکھتے ہیں اس میں منفی باتیں ذہن میں کم ہی آتی ہیں۔

آخر میں آپ جانتے ہی ہیں کہ ہارون صاحب آغاز کا فقرہ دہرا کر ڈرامائی تاثر پیدا کیا کرتے ہیں۔ یہ تکنیک نہ جانے کس نے شروع کی تھی لیکن ختم ہارون صاحب پہ ہی ہو گی۔ بیان کرتے ہیں : “ابھی ابھی ایک ذمہ دار آدمی نے بتایا: خان صاحب تاخیر سے دفتر تشرلف لاتے اور جلد چلے جاتے ہیں۔ مہینوں تک ایک بھی چھٹی نہ کرنے والے آدمی کے پاؤں تلے گھاس اگ آئی ہے۔ وہ بددلی کا شکار ہے۔ نہ جانے کیوں”
:
خانصاحب سے درخواست ہے کہ اب جگہ چھوڑ کر کھڑے ہو جائیں تاکہ گھاس کو صاف کیا جا سکے اور ہارون صاحب کا گلہ بھی ختم ہو۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close