ڈینگی بخار کی وبا پھر بے قابو

پاکستان کے مختلف شہروں میں ڈینگی بخار سے متاثرہ شہریوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ پشاور، اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ہزاروں کی تعداد میں مریض لائے گئے ہیں۔

اسلام آباد کے پاکستان ٹوئنٹی فور کے نمائندے کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں ڈینگی فیور سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور گذشتہ چند روز میں 15 سو سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔

شہر کے ہسپتالوں میں خصوصی وارڈز اور سہولیات ناپید ہو گئیں۔ مریض پولی کلینک اور پمز کے دروازوں میں رل گئے ہیں۔

پولی کلینک میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کے لئے صرف چار بیڈ میسر، انتظامیہ پہنچنے والے ڈینگی کے مریضوں کو پمز ریفر کرنے لگی۔

پمز ہسپتال کے ترجمان کے مطابق پمز میں گذشتہ دس روز میں پندرہ سو سے ذائد ڈینگی سے متاثرہ مریض رجسٹرڈ ہوئے، جبکہ ان کے علاج کے لئے صرف بیس بیڈ موجود ہیں، داخل ہونے والے بیس میں سے پانچ کی مریضوں حالت تشویشناک ہے۔


ترجمان کے مطابق ڈینگی سے متاثرہ ایسے مریض جو سیریس نہیں، انہیں ٹریٹمنٹ کے بعد گھر بھجوا دیا جاتا ہے، اگر ضرورت پڑی تو مزید بیڈ اور سہولیات کا بندوبست کیا جا سکتا ہے۔

پشاور سے ہمارے نمائندے کے مطابق شہر کے تمام بڑے ہسپتالوں میں سینکڑوں کی تعداد میں مریض لائے گئے جبکہ صرف سنیچر کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں 55 نئے کسیز رپورٹ ہوئے جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔

راولپنڈی صوبہ پنجاب کا سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے جہاں اس سال ڈینگی کے ایک ہزار سے زائد مریض مختلف ہسپتالوں میں داخل کیے گئے۔

محکمہ صحت ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں ڈینگی مچھر کے حملوں کے بعد مجموعی مریضوں کی تعداد 1228 تک پہنچ چکی ہے۔

گزشتہ چوبیش گھنٹوں کے دوران بھی 47 مریض ڈینگی بخار کا شکار ہو کر الائیڈ ہسپتالوں میں داخل ہوئے جبکہ چوبیس گھنٹوں کے دوران راولپنڈی کے پوٹھوہار ٹاؤن کے علاقوں سے 37 مریضوں نے ڈینگی بخار کے شبہ میں اسپتالوں کا رخ کیا۔

اسلام آباد کے 37شہری بھی ڈینگی بخار کا شکار ہو کر راولپنڈی کے الائیڈ ہسپتالوں میں داخل ہوئے جس کے باعث راولپنڈی کے ہسپتالوں میں ڈینگی کے حوالے سے نافذ کی گئی ایمرجنسی تاحال برقرار ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close