امریکہ کو زیادہ نقصان ہوگا، طالبان

افغانستان کے طالبان نے کہا ہے کہ مذاکرات معطل کرنے پر امریکہ پچھتائے گا کیونکہ اس کا سب سے زیادہ نقصان امریکہ کو ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے کے اعلان پر اپنے ردعمل میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہنا تھا کہ طالبان کے دروازے مذاکرات  کے لیے  کھلے رہیں گے۔

طالبان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اب بھی یقین ہے کہ امریکی دوبارہ اس پوزیشن پر واپس آئیں گے۔‘

ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’طالبان کی 18 سالہ جنگ امریکہ پر یہ بات واضح کرنے کے لیے کافی ہونا چاہیے کہ ہم قبضہ مکمل طور پر ختم ہوئے بغیر مطمئن نہیں ہوں گے۔‘

افغانستان کی حکومت نے صدر ٹرمپ کی مذاکرات معطلی کے اعلان کو سراہا ہے۔ صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق جب تک طالبان دہشت گردی چھوڑ کر حکومت کے ساتھ براہ راست مذکرات نہیں کرتے امن نہیں آ سکتا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کی جانب سے یہ اعلان ٹوئٹر پر کیا گیا تھا۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ اگر طالبان اپنے وعدوں پر عمل کرنے کی ٹھوس یقین دہانی کرائیں تو امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات بحال کر سکتا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ 

 امریکی وزیر خارجہ نے اے بی سی ٹیلی ویژن پر ایک گفتگو میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ طالبان اپنا رویہ تبدیل کریں گے اور جن چیزوں کے بارے میں ہماری بات چیت ہوئی ہے ان پر قائم رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آخر کار اس ایشو کو مذاکرات کے کئی ادوار کے ذریعے ہی حل ہونا ہے۔

قبل ازیں افغانستان کے صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں امریکی صدر کے اقدام کو سراہا گیا تھا۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بیان میں  کہا گیا تھا، ’امن کے حوالے سے افغان حکومت اپنے اتحادیوں کی مخلص کوششوں کو سراہتا ہے اور امریکہ اور دوسرے دوست ممالک کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔‘

صدارتی دفتر نے اتوار کو کہا کہ ’اصل معنوں میں امن صرف تب ممکن ہے جب طالبان دہشت گردی روک کر حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کریں۔‘

اشرف غنی کی انتظامیہ کے افسران نے کہا ہے کہ ’اصل امن تب آئے گا جب طالبان جنگ بندی کے لیے راضی ہوں گے۔‘

خیال رہے کہ ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ امن مذاکرات کابل میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد کی ہلاکت کے باعث معطل کیے گئے ہیں اور طالبان نے جھوٹے مفاد کے لیے کابل حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close