چوہان کے بیٹے کے نمبر کس نے بڑھائے

پنجاب کے وزیر فیاض الحسن چوہان کے بیٹے فہد حسن کے ایف ایس سی کے امتحان میں فزکس کے پریکٹیکل میں نتیجہ تبدیل کیے جانے کے انکشاف کے بعد بورڈ کے اعلیٰ حکام نے خود کو بچانے کے لیے نتائج روک دیے اور اپنے ہی افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی بٹھا دی ہے۔

دوسری جانب فیاض الحسن چوہان نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اس معاملے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق فہد حسن کو زیادہ نمبر دیے جانے میں راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے ایگزامنر سے لے کر کنٹرولر تک تمام افسران ’آن بورڈ‘ تھے تاہم معاملہ سامنے آنے پر کنٹرولر نے خود ہی فیاض الحسن کے بیٹے کے نتائج روک کر انکوائری کا بھی حکم دے دیا۔

صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے بیٹے فہد حسن نے راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے زیرِ اہتمام ایف ایس سی کا امتحان دیا تھا، لیکن بورڈ نے ان کے نتائج جاری نہیں کیے۔

کنٹرولر امتحانات کے خط میں کہا گیا ہے کہ فہد حسن کے فزکس پریکٹیکل کے نمبر 14 سے بڑھا کر 30 کرنے کے الزام میں نتیجہ روکا گیا ہے، ذمہ داروں کے تعین کے لیے دو رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔

راولپنڈی بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر غلام دستگیر کے مطابق فیاض الحسن چوہان نے بیٹے کے نمبروں میں تبدیلی پر انکوائری کے لیے درخواست دی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ بیٹے کے نمبروں کی تبدیلی میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں، جو ذمہ دار ہے اس کے خلاف انکوائری کریں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ فیاض الحسن چوہان کی جانب سے درخواست بعد میں کی گئی جبکہ انکوائری کا خط پہلے ہی جاری کیا جا چکا تھا۔

چیئرمین بورڈ کا مزید کہنا تھا کہ فزکس کے پریکٹیکل 17 جولائی کو ختم ہوئے، جبکہ انہوں نے عہدے کا چارج 18 جولائی کو سنبھالا، تحقیقات میں جو بھی ذمہ دار قرار پایا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پریٹیکل لینے والے ممتحن سے لے کر چیئرمین اور کنٹرولر تک کو معلوم ہے کہ نمبر بڑھانے کے لیے کس نے کس طریقے سے اپروچ کیا تاہم اب ہر ایک خود کو بچانے کی کوشش میں انکوائری کی بات کر رہا ہے۔

صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کا ویڈیو بیان میں کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کے نمبروں کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوا، وہ اس معاملے میں ہر قسم کی انکوائری کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close