ملالہ، کشمیر اور ٹوئٹری بریگیڈ

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے بارے میں ایک طویل بیان دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک ملکوں سے کہا ہے کہ وہ کشمیر میں صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ملالہ یوسفزئی کے اس بیان کے بعد ان پر مختلف اطراف سے ٹوئٹر صارفین جملے کس رہے ہیں۔

ملالہ پر تنقید کرنے والوں میں انڈین اور پاکستانی صارفین دونوں شامل ہیں۔ تاہم ان کی تحسین کرنے والے بھی موجود ہیں۔

تنقید کرنے والے ملالہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ سندھ میں ہندو لڑکیوں جبکہ بلوچستان اور پشتون علاقوں خاص طور پر وزیرستان کے رہائشیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ملالہ یوسفزئی سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وہ کشمیر کی صورتحال پر بیان دیں۔

ملالہ نے ٹوئٹر پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ان کو کشمیر میں چار ہزار افراد کے حراست میں لیے جانے پر تشویش ہے۔

ملالہ یوسفزئی نے لکھا ہے کہ انکوں نے گذشتہ ہفتے کشمیر سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبوں کے افراد سے بات چیت میں گزارا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close