تمہارے مندروں کے دیے روشن رہیں

تمہارے مندروں کے دیے ہمیشہ روشن رہیں۔ تمہارے مندر اور سکول سدا سلامت رہیں۔
اتوار کی شام سے پورے ملک کے پڑھے لکھے یا تھوڑی سی بھی سمجھ بوجھ رکھنے والے پاکستانی سخت کرب اور ازیت میں مبتلا ہیں وجہ کرب کیا ہے ؟ گھوٹکی میں انسانیت سو ز واقعہ ، مندر اور سکول پر حملے ، توڑ پھوڑ اور ہندووں کے مذہیی جذبات کو مجروح کرنا۔ دل سے بس یہی دعائیں نکل رہی ہیں کہ اللہ تمہارے مندروں اور سکولوں کو آباد رکھے ان میں جلنے والے دیئیوں کی لو کبھی کم نہ ہو یہ روشن چراغ کبھی نہ بجھیں ۔ آمین ۔
وہی پرانی ظلم کی کہانی جو ہماری ہندو اقلیت یا دیگر اقلیتوں پرنام نہاد مذہب کے ٹھیکیداروں کی طرف سے و قتا فوقتادہرائی جاتی ہے اور وہی توہین رسالت کے الزامات۔ ان نام نہاد الزامات کے پیچھے لوگ اپنی دشمنی نکالتے ہیں، مقاصد حاصل کرتے ہیں اور انتقام کی آگ بجھاتے ہیں ۔
گھوٹکی کا واقعہ یکھ لیں ۔شاگردوں میں بھی استادوں کی طرح قوت برداشت ختم ہو چکی ہے اور ذرا سی ڈانٹ ڈپٹ یا سرزنش کا کیسا انتقام لیا ساری دنیا نے دیکھ لیا۔ ہم اب من حیث القوم سوشل میڈیا پر معافی مانگ کر شرمندہ ہوکر اور ٹویٹس کر کے اپنی زمہ داری سے بری الذمہ ہو جائیں گے لیکن جن کا مندر اور سکول توڑا گیا، ان کے بکھرے خوابوں اور غیر محفوظ ہونے کے احساس کو کس طرح کم کیا جائے گا؟
نیوزی لینڈ میں مسجد کا واقعہ ہو یا امریکہ کے کسی سکول میں فائرنگ کا واقعہ اس کے احتجاج پاکستان میں ہوتے ہیں ،موم بتیاں جلائی جاتی اور گلدستے رکھے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں اقلیتوں پر مسلمان شہری ظلم کرتے ہیں اور بین الاقوامی برادری اپنے ممالک میں احتجاج کرتی ہے تو ہم نا خوش ہوتے ہیں اور ان پر الزامات لگانے شروع کر دیتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے ہم اپنی اقلیتوں پر بڑی سہولت اور اطمینان سے لگا دیتے ہیں۔
ستم یہ کہ اپنی اقلیتوں کے حقوق کے لئے کوئی ان عبادت گاہوں میں موم بتی جلانے نہیں آتا اور نہ ہی کوئی پھولوں کے گلدستے رکھنے آتا ہے۔ ہمیں اپنوں پر ہونے والے ظالم نظر ہی نہیںآتے ۔
کبھی اقلیتوں کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے کا مرض ہم میں جنم لے لیتا ہے اور کبھی ان کی یٹیوں کو مسلمان کر کے شادی ا فریضہ ہمیں یاد آ جاتا ہے اپنی بیٹیاں گھروں میں جوان ہوکر بوڑھی ہو جایئںگی لیکن ان کی شادی کی ہمیں اس طرح فکر نہیں جس طرح ہندووں کی کم سن بچیوں کی۔ سارے پاکستان کے علماء کرام توہین رسالت کے صرف الزامات پر ہی اکٹھے ہو جایئنگے سارے ملک کا لاک ڈاون کر دینگے چیخ چیخ کر رسالت کو محفوظ کرتے رہینگے لیکن جب ہمارے ملک کے ہندووں،سکھوں یا مسیحیوں کی عبادت گاہوں کو جایا جاتا ہے، ان پر حملے کئے جاتے ہیں یا ان کی بے حرمتی ہوتی ہے تب کوئی عالم اقلیتوں کے حق میں بولنے نہیں آتا شاید جون ایلیا نے یہی حالات دیکھ کر یہ شعر لکھا تھا کہ
بولتے کیوں نہیں میرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟
بھارت میں اگر مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہورہا ہے ان کی مساجد اور کاروبار کو نذر آتش کیا جارہا ہے ان کی خواتین کی عصمت دری کی جارہی ہے اور کشمیر کاحال تو سب کے سامنے ہے کس طرح بھارت مسلمان کشمیریوں کے حقوق کے ساتھ نا انسافی کررہا ہے اس پر تو ساری دنیا میں پاکستانی احتجاج کر رہے ہیں لیکن پاکستان میں بھی تو یہی کچھ ہورہا ہے وہ ہمارے مسلمان بہن بھایئوں کو مارتے ہیں اور ہم ان کے ہندو بہن بھائیوں کو تو پھر آپ امن کی باتیں کس لئے کرتے ہیں جب ہم خود امن چاہتے ہی نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمن ہوں یا ان کی جماعت کے دیگر جید علماء جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ہوں یا ان کے تقلید کرنے والے یا دیگر مذہبی مکتبہ فکر کے علاء کن ہے جو اقلیتوں کے تحفظ اور حقوق کے لیے جلسے جلوس کرے؟
برداشت کے موضوع پر کتابیں اب اس معاشرے کو پڑھانی پڑے گی تاکہ ایک ملک میں ، ایک شہر میں ایک محلے اور ایک ہی گلی میں رہنے والے مختلف مذاہب کے لوگوں میں امن قائم رکھا جائے۔ ایک دوسرے کے مذاہب کا نہ صرف احترام پڑھایا جائے بلکہ ایک دوسرے کے حقوق کے تحفظ کا احساس بھی پڑھایا جائے۔ مذہبی، لسانی اور فرقہ واریت کی عزت سکھائی جائے تاکہ اس طرح کے دلخراش سانحات کے بعد ہم لوگوں کو ایک دوسرے سے معافی نہ مانگنی پڑے اور نہ ہی آنکھیں چرانی پڑے۔ اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور گھروں کی سلامتی اور ان کے اہل و عیال کے لئے بھی وہی دعائیں کریں جو ہم اپنے لئے کرتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close