مہنگائی مزید بڑھے گی

پاکستان کے سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملک می مہنگائی مزید بڑھے گی اور اگلے دو سال مشکل ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی میں مہنگائی کے حوالے ڈپٹی گورنر نے کہا کہ معیشت اور خزانے میں استحکام آنے میں وقت لگے گا۔

کمیٹی میں تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹررمیش کمار نے اپنی جماعت کی حکومت پر تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے لیے فنڈز نہیں ہیں، ہیپاٹائیٹس کے مریض کو اگر دوا نہیں ملے گی تو ایسی کفایت شعاری کا کیا فائدہ ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں مہنگائی میں کمی کے لیے تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی کی کنوینیئر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ مہنگائی جانچنے کا بنیادی فارمولا تبدیل کرنے کے باوجود بھی مہنگائی 10 فی صد سے زیادہ ہے۔

قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر رمیش کمار نے اپنی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلڈ کینسر کے مریض فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے سسک رہے ہیں، ہیلتھ کارڈ میں ایسے اسپتال شامل کیے جارہے ہیں جن کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں۔

ڈپٹی گورنرسٹیٹ بنک جمیل احمد نے کمیٹی اجلاس میں بتایا کہ شرح سود 13.25 ہونے کے باعث مہنگائی کی شرح بڑھنے کی پیشن گوئی ہے اور دو سال مزید مہنگائی رہ سکتی ہے، دو سال بعد مہنگائی کی شرح کم ہو کر 5.7 فیصد تک آ جائے گی۔

سپیشل سیکرٹری وزارت خزانہ نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک سے قرضہ لینے سے بھی مہنگائی کی شرح بڑھی، صوبوں کو ہدایات دی ہیں کہ سستے بازار کی تعداد بڑھائی جائے، حکومت نے سرکاری اداروں کی جانب سے قرضہ لینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close