حکومت ناجائز ہے مارچ ضرور ہوگا، مولانا

نعمان شاہ ۔ صحافی / مانسہرہ

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آزادی مارچ اکتوبر میں ہی ہوگا جس کی حکمت مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر بنائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی آزادی مارچ کی مشترکہ حکمت عملی اور تاریخ کا اعلان کر دیا جائے گا۔ ”بلاول بھٹو کے آزادی مارچ میں شرکت سے انکار کی وجہ نہیں جانتا مگر ان سمیت سب جماعتوں کو آل پارٹیز کے کانفرنس کے اعلامیوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔“

مولانا نےطکہا کہ ان کی آج بھی تجویز ہوگی کہ اسمبلیوں سے استعفے دیدے جائیں مگر یہ تمام پارٹیوں کا مشترکہ مسئلہ ہے اس لیے اس پراتفاق رائے سے ہی کوئی بات ہو گی۔ ”تمام سیاسی جماعتیں ہم سے رابطے میں ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ کشمیری اتنے لاوارث نہیں کہ قوم ان پرہونے والے مظالم کے بعد بھی خاموش رہے قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ سعودی عرب کی آئل فیلڈز پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

مظفر آباد سے واپسی پر مانسہرہ میں جمعیت علمائے اسلام کے راہنما ملک نوید کی رہاش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کا تقاضہ ہے کہ آزادی مارچ ہو اور ہر قیمت پر ہو، اکتوبر میں ہی اسلام آباد کا پرامن آزادی مارچ ہو گا۔ ”ہمارے ملین مارچ کے پرامن رہنے کی دلیل 15ملین مارچ ہیں جن میں ایک پتہ بھی نہیں گرا۔ ایک شیشہ بھی نہیں ٹوٹا۔ ہم نے ثابت کیا ہے کہ ہم پرامن ہے ہم اداروں کیساتھ تصادم نہیں چاہتے۔“

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کا شور و غل اپنی کوتاہی اور جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے ہیں۔ عوام کے ساتھ تصادم نہ اختیار کیا جائے یہ ایک ناجائز حکومت ہے کسی بھی سرکاری ملازم کو اس حکومت کی اطاعت اور فرما نبرداری لازم نہیں ہم،سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں نیب ایک انتقامی ادارہ ہے جو حکومت کے ہاتھوں کھیل رہا ہے ہم اس کے احتساب کو نہیں مانتے۔ اس حکومت کے آنے کے فوری بعد توہین رسالت کی مجرمہ کو جس عزت کیساتھ بری کیا گیا اور عالمی دباوُ کے بعد ایک گھنٹے کے کاروائی پر ملک سے باہر بھیجا گیا،اگر وہ بے گناہ تھی تو ایسے اس ملک میں ہی تحفظ فراہم کیا جاتااگر آپ ان کا تحفظ نہیں دے سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آپ خود ایسے عناصر کوایک حوصلہ افزائی دیتے ہے کہ ایسے لوگ جو باہر کے ممالک سے مرحات حاصل کرنے کے لیے توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہیں پاکستان کے اندر بھی اور باہر بھی قادیانی نیٹ ورک متحرک ہے۔

مولانا نے کہا کہ ”کچھ روز قبل قادیانی سربراہ نے کہا کہ وہ پاکستان کے آئین سے قادیانیوں کے خلاف شق کا ختم کریگا ایسے کس نے ایسی یقین دھانی امید کہاں سے آئی کچھ توپس پردہ ہے، آل پارٹیزکانفرنس میں ان سب باتیں ہوچکی۔ہم آئین کے اندر رہے کر احتجاج کررہے ہیں اگر آئین قدر مشترک ہیں تو ہر اگر جمعوریت کیساتھ ساتھ عقیدہ ختم نبوۃ اور اسلام بھی ہمارا بنیادی اثاثہ ہے۔“

انہوں نے کہا کہ تمام نظریاتی پارٹیوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ ہوں گے۔ ”آج عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں تمام حکومتوں نے ملکر اتنا قرضہ نہیں لیا جتنا یہ حکومت ایک سام میں لے چکی ہے قوم کے سروں پر قرضوں کا بوجھ لادھ دیا ہے۔“

مولانا کا کہنا تھا کہ مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ ماہانہ20سے 30ہزار کمانے والا بھی ماہانا راشن نہیں لا سکتا۔وہ نوجوان جنھیں روزگار کے خواب دیکھائے گے تھے وہ آج خودکشیاں کرنے پر مجبو ر ہیں۔ آج میڈیا کے لیے ٹربیونل بنائے جارہے ہیں میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں تاجر عوام آدمی اور ہر جمعوریت اور اسلام پسند قوت اور ہر شعبہ کے درد رکھنے والوں کو باہر نکلنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات درست نہیں ہو ئے دھاندلی ہوئی ہے اور بد ترین دھاندلی ہوئی ہے اور ایسے انتخابات کو تسلیم نہیں کر نا چاہیے اور حکومت گھر جائے۔ ہم نے پہلے دن کہا تھا مت جائے اسمبلی میں حلف مت اٹھاوُ مگر سب کی اتفاق رائع سے گے ہیں مگر ہم نے نتائج اور حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہماری تجویز ہو گی کہ استعفوں کی طرف جائے مگر یہ تمام پارٹیوں کا مشترکہ مسئلہ ہے اس لیے اس پراتفاق رائے سے ہی کوئی بات ہو ہو گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close