سپریم کورٹ بار کے صدر حکومتی کیمپ میں

رپورٹ: ج ع

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکرٹری کے درمیان حکومت کی حمایت پر اختلافات سامنے آئے ہیں اور بار کے صدر امان اللہ کنرانی پر فنڈز کی خرد برد کے بعد وزارت قانون کے ہاتھوں میں کھیلنے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

نئے اختلافات الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی تقرری کو چیلنج کرنے پر اس وقت سامنے آئے جب سپریم کورٹ بار کے صفر امان اللہ کنرانی نے چیف الیکشن کمشنر کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس پر سیکریٹری نے ایک بیان میں اس سے تعلقی ظاہر کی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ بار کے صدر کی دائر کی گئی درخواست وزارت قانون کے میڈیا سیل نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جاری کی۔

کنرانی نے اپنی درخواست میں حکومتی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے دو نئے ممبران سے حلف نہ لینے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو الیکشن کمیشن کے دو نئے ممبران سے حلف لینے کا پابند کیا جائے۔

امان اللہ کنرانی نے موقف اپنایا ہے کہ دونوں ممبران کی تقرریاں قانون کے مطابق ہیں اور چیف الیکشن کمشنر کو دو نئے ممبران کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کا اختیار نہیں۔

کنرانی کی درخواست کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نہ ہائیکورٹ کے جج ہیں نہ ہی سپریم کورٹ کے جو ایسے کریں۔

دوسری جانب بار کے سیکریٹری عظمت اللہ چودھری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ بار نے الیکشن کمشنر کیخلاف کوئی درخواست دائر نہیں کی۔

عظمت اللہ چوہدری کے مطابق امان اللہ کنرانی نے زاتی حیثیت سے درخواست دائر کی ہوگی، بار نے امان اللہ کنرانی کو ایسا کوئی مینڈیٹ نہیں دیا۔

بار کے سیکریٹری کے مطابق اگر مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر ہوا تو مخالفت کریں گے، چیف الیکشن کمشنر نے جو کیا ٹھیک کیا ہوگا۔

واضح رہے صدر مملکت نے سندھ سے خالد محمود صدیقی، بلوچستان سے منیر احمد کاکڑ کا الیکشن کمیشن ممبر کے طور پر تقرر کیا تھا تاہم چیف الیکشن کمشنر نے دونوں ممبران سے حلف لینے سے انکار کردیا تھا۔

الیکشن کمشنر کا موقف تھا کہ تقرریاں آئین کے مطابق نہیں۔

سپریم کورٹ بار کی چیف الیکشن کمشنر کیخلاف درخواست کے بعد بظاہر وکلا نے خیال ظاہر کیا ہے کہ وہ حکومت کے پیج پر نظر آرہے ہیں تاہم جسٹس قاضی فائز کے مقدمے میں ان کی اصل پوزیشن واضح ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close