جسٹس فائز کے مقدمے میں کیا ہوگا

محمد احمد ۔ صحافی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی کارروائی روکنے کے لیے دائر درخواستوں پر عدالتی سماعت کا آغاز ہو چکا ہے۔

گزشتہ سماعت پر جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے درخواستیں سنیں اور جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک کی جانب سے بینچ کے بعض رکن ججز پر اعتراض اٹھایا گیا۔

وکیل کے اعتراضات سنے گئے، ان کے دلائل پر سوالات ہوئے اور خلاف معمول قدرے توقف بعد بینچ ٹوٹا۔ بینچ تحلیل کرتے وقت جسٹس اعجازالاحسن کی جانب سے اپنا موقف دیا گیا اور ساتھی جج کی جانب سے اعتراض اور شک و شبے پر افسوس کا بھی اظہار کیا گیا تاہم بینچ یہ بات واضح کرگیا تھا کہ سماعت جلد کی جائے گی۔

اب چیف جسٹس نے درخواستوں پر سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دیا ہے جس میں جسٹس منصور علی شاہ کی شرکت کو دستیابی سے مشروط رکھا گیا۔ جسٹس منصور علی شاہ اس وقت ملک میں موجود نہیں۔

دوسری جانب جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک دل کا دورہ پڑنے کے باعث علیل ہیں اور مقدمے کے التوا کی درخواست دائر کرچکے ہیں جسے چیف جسٹس کی جانب سے مسترد کردیا گیا۔

اب وکیل منیر اے ملک کی جانب سے طبی بنیادوں پر ایک اور التوا کی درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں انہوں نے اپنی صحت کا حوالہ دیا ہے ساتھ ہی ساتھ معزز جج کی غیر موجودگی کا ذکر بھی کیا ہے ۔

موجودہ صورتحال کے پیش نظر قوی امکان ہے کہ اس مقدمے پر کل ہونے والی سماعت بھی التوا کا شکار ہوسکتی ہے یا پھر پہلے دیگر درخواست گزاروں کو سنا جا سکتا ہے۔ یہ معزز عدالت کی صوابدید ہے۔

اس کیس کو ملک کے مختلف حلقوں میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے اس مقدمے کی جلد سماعت یا التوا کا شکار ہونے پر بھی چہ مگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں۔

عدالت عظمیٰ کا بینچ منگل 24 ستمبر کو دن 12 بجے درخواستوں کی سماعت کے لیے بیٹھے گا اگر جسٹس قاضی فائز کے وکیل کی عدم موجودگی میں ہی سماعت ہوتی ہے تو وکیلوں کی جانب سے ردعمل دیکھنے والا ہوگا۔

نوجوان صحافی محمد احمد اسلام آباد میں نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close