اسامہ ہلاکت تحقیقات کا علم نہیں

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کے بارے میں علم نہیں ہے۔

امریکہ میں تھنک ٹینک ’کونسل فار فارن ریلیشنز‘ میں خطاب اور مختلف موضوعات پر سوالوں کے جواب دیتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی نے القاعدہ اور دیگر گروہوں کی افغانستان میں لڑنے کے لیے تربیت کی تھی چنانچہ فوج کے ان کے ساتھ تعلقات ہونا ہی تھے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انڈیا میں نفرت کی سوچ کی بالادستی ہے اور وہاں کے حالات دیکھ کر مجھے پاکستان سے زیادہ انڈیا کی فکر ہوتی ہے۔ 

افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ امریکہ افغانستان میں پاکستان کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ تکلیف دہ امر ہے کہ افغانستان امن معاہدے پر دستخط ہوتے ہوتے رہ گئے۔ 

وزیرِ اعظم عمران خان نے افغان امن عمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان شہری گذشتہ 40 سال سے مشکلات کے شکار ہیں اور یہ کہ انھوں نے 2008 میں دورہ امریکہ کے دوران ڈیموکریٹس کو بتایا تھا کہ جنگ افغان مسئلے کا حل نہیں ہے۔ 

’صدر ٹرمپ کو بتاؤں گا کہ افغانستان کا مسئلہ جنگ سے نہیں حل ہو سکتا۔ انھیں قائل کرنے کی کوشش کروں گا کہ افغان طالبان سے مذاکرات منسوخ نہ کیے جائیں۔‘ 

افغانستان میں موجود متحارب گروہوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ان مجاہدین کو سوویت یونین کے خلاف کھڑا کیا گیا اور جب سوویت یونین نے 1989 میں افغانستان چھوڑا تو امریکہ نے پاکستان کو ان گروہوں کے ساتھ چھوڑ دیا۔‘ 

عمران خان کا کہنا تھا کہ جب گیارہ ستمبر کے حملے ہوئے اور امریکہ نے افغانستان میں قدم رکھا تو پاکستان سے انھی گروہوں کے خلاف جانے کے لیے کہا گیا جن کی یہ تربیت کی گئی تھی کہ غیر ملکی افواج کے خلاف لڑنا ’جہاد‘ ہے۔ 

’گیارہ ستمبر کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ کا حصہ بننا ہماری سب سے بڑی غلطی تھی۔ 70 ہزار پاکستانیوں نے اس میں اپنی جانیں گنوائی ہیں جبکہ ماہرینِ معاشیات کے نزدیک 150 سے 200 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔‘ 

انھوں نے کہا ’سوویت فوج نے افغانستان میں 10 لاکھ سے زیادہ شہریوں کو ہلاک کیا جبکہ اب 27 لاکھ افغان پناہ گزین بن کر رہ رہے ہیں۔‘ 

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ افغانستان میں 19 سال کامیاب نہیں ہوا تو مزید 19 سال بھی کامیاب نہیں ہوگا، اور طالبان سے مذاکرات کی منسوخی سے قبل صدر ٹرمپ کو پاکستان سے مشورہ کرنا چاہیے تھا۔ 

عمران خان سے جب سوال پوچھا گیا کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت کے حوالے سے تحقیقات ہوئی ہیں یا نہیں تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں ان تحقیقات کے نتیجے سے علم نہیں ہے۔ 

’مجھے معلوم ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن اس حوالے سے قائم ہوا تھا مگر میں اس کے نتیجے سے واقف نہیں ہوں۔ لیکن جو بات میں کہہ سکتا ہوں وہ یہ کہ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی نے القاعدہ اور دیگر گروہوں کی افغانستان میں لڑنے کے لیے تربیت کی تھی چنانچہ فوج کے ان کے ساتھ تعلقات لازماً ہونے تھے۔‘ 

’جب ہم نے گیارہ ستمبر کے بعد 180 ڈگری سے پالیسی بدل لی اور ان گروہوں کے خلاف کارروائی کی تو تمام حلقوں، بشمول فوج کے اندر کچھ عناصر نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ چنانچہ پاکستان میں کئی حملے اندر سے ہوئے جن میں صدر جنرل پرویز مشرف پر ہونے والے دو حملے بھی ہیں جو فوج کے اندر سے کیے گئے۔‘ 

مگر ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے پر صدر اوبامہ تک کا بیان موجود ہے کہ پاکستان کے آئی ایس آئی کے سربراہ اور آرمی چیف کو (اسامہ کی موجودگی کے بارے میں) اس حوالے سے علم نہیں تھا اور اگر ایسا کچھ (تعلق) تھا تو یہ نچلے حلقوں پر ہوگا۔‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close