”کیا یہ انصاف کا قتل نہیں“

اویس یوسفزئی ۔ صحافی

پاکستان میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایل این جی میں کیس میں گرفتار سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سابق ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران الحق کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کے لیے ثبوت کا حصول ثانوی حیثیت رکھتا ہے، اصل مقصد تضحیک اور ہراساں کرنا ہے۔ فرنس آئل کے مقابلے میں ایل این جی ٹرمینل سے توانائی کی پیداوار سے قومی خزانے کو ایک کھرب روپے کی بچت ہوئی۔


ایل این جی کیس کے ملزمان شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور شیخ عمران الحق کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا گیا۔ نیب نے مزید جسمانی ریمانڈ کی ۔

شاہد خاقان عباسی نے 9 صفحات پر مشتمل تحریری بیان عدالت میں پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ان کا نیب کی تحویل میں آج 71واں دن ہے اور انہیں مزید ریمانڈ دیے جانے پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔

بیان کے مطابق ”نیب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، چیف جسٹس نے بھی پولیٹیکل انجینئرنگ کی بات کی تھی۔ نیب کے لیے ثبوت کا حصول ثانوی حیثیت رکھتا ہے، اصل مقصد تضحیک اور ہراساں کرنا ہے۔“

سابق وزیراعظم نے کہا کہ نیب نے حکومتی افسران کو گرفتاری کی دھمکیاں دے کر میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا کہا۔ ”مفتاح اسماعیل اور شیخ عمران الحق کی گرفتاری بھی میرے خلاف وعدہ معاف گواہ نہ بننے کے باعث ہوئی۔ کیا یہ انصاف کا قتل عام نہیں؟“

شاہد خاقان عباسی نے لکھا ہے کہ ان پر اختیارات کے غلط استعمال اور کرپشن سے قومی خزانے کو ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچانے کا الزام لگایا گیا مگر نیب نے یہ نہیں بتایا کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے اس رقم کا تعین کیسے کیا؟ کرپشن کی تو کس سے رقم وصول کی؟ اختیارات کا غلط استعمال کیا تو کس کو کیا فائدہ پہنچایا؟

انہوں نے کہا کہ اپنے ادوار میں کیے گئے تمام حکومتی فیصلوں کی مکمل ذمہ داری لیتا ہوں کہ کبھی کوئی غلط یا غیر قانونی کام نہیں کیا۔ فرنس آئل کے مقابلے میں ایل این جی ٹرمینل سے بجلی کی پیداوار سے قومی خزانے کو ایک کھرب روپے کی بچت ہوئی۔

”پاکستان کا ایل این جی ٹرمینل دنیا بھر کا سستا ترین منصوبہ ہے جو سو فیصد پیداواری صلاحیت پر چل رہا ہے۔ نیب کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے اس لیے کیس خارج کر کے میری ساکھ کو نقصان پہنچانے، بدنام کرنےاور آزادی سلب کرنے پر نیب پر جرمانہ عائد کیا جائے۔“

عدالت نے نیب کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا ہے۔

مزید سماعت 11 اکتوبر کو ہو گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close