ریڈیو سے محبت

محمد احمد ۔ صحافی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ترقی کا سفر تیزی سے جاری ہے۔ آئے دن نت نئی ایجادات سے مختلف زاویوں سے آسانی کا سامان پیدا کیا جاتا ہے۔ نئی ایجادات پرانی چیزوں کی جگہ لیتی ہیں اور روز مرہ میں استعمال ہونے والی چیزیں دھیرے دھیرے عجائب گھروں کی زینت بنتی ہیں۔ ریڈیو نے اپنی ایجاد کے بعد سے ہی انسانوں کے لیے تفریح کا سامان مہیا کیا، جہاں یہ تفریح کے کام آتا رہا وہیں اس کے ساتھ قوموں اور انسانوں کی مختلف یادیں بھی وابستہ ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ ریڈیو سننے والوں کی تعداد میں کمی آتی جارہی ہے لیکن قدرے پرانی وضع کے لوگ اب بھی ریڈیو کو اپنی تفریح کا سامان سمجھتے ہیں۔ نہ صرف پرانی وضع کے لوگ بلکہ پاکستان کی اعلی عدلیہ میں بھی ریڈیو سے انس رکھنے والے ابھی موجود ہیں۔ یہ بات وضاحت طلب ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ زیادہ عمر رسیدہ نہیں ان کی عمر 56 سال ہے۔

ریڈیو لائسنس کی تجدید سے متعلق کیس میں عدالت عظمی کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے ریڈیو سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی کبھی کبھار ریڈیو سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ فریکیونسی کے معاملے سے متعلق وکیل سے گفتگو کرتے ہوئے بولے کہ ریڈیو کو سننے والے کی حیثیت سے معاملات کو جاننا چاھتا ہوں۔ مزید کہا کہ ایف ایم 100 پاکستان کے ساتھ ساتھ امریکہ میں بھی سن چکے ہیں۔

ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی کرجائے کچھ چیزوں کی اہمیت کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سامعین کی تعداد میں کمی تو واقع ہوسکتی ہے لیکن بہرحال ان کا وجود باقی رہے گا۔

خوشاکہ بزم میں حاضر تھے ریڈیو ٹی وی
نظام گردش دوراں ترا جواب نہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close