توہین سمجھنا نہ سمجھنا عدالت کی مرضی

سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے پشاور رجسٹری سے کیسز کی سماعت،عدالت نے کوہاٹ کی سبزی منڈی میں مارکیٹ کے لائسنس سے متعلق کیس میں شہباز گلشن شنواری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست واپس لینے کی بنا پر خارج کر دی.


چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی.چیف جسٹس نے کہا اگر لائسنس جاری کرنے میں ایڈمنسٹریشن سے تاخیر ہوگئ تو توہین عدالت سمجھنا نا سمجھنا عدالت کی مرضی ہے،آپ کیسے پشاور ہائیکورٹ پر مسلط کر سکتے ہیں کہ ہائیکورٹ کی توہین عدالت ہوئی،ڈیڑھ سو سال سے قانون طے شدہ ہے کہ عدالت کی مرضی ہے توہین عدالت سمجھے نہ سمجھے،ایسے مقدمات میں عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ اگر عدالت سزا دیتی تو جس وقت مرضی ختم کردے،قانون میں کوئی عدالت بھی لائسنس جاری کرنے کا حکم نہیں دے سکتی،یہ تو ہائیکورٹ کی ثواب دید ہے کہ لائسنس جاری کرنے کا حکم دے دیا،ایسا نہ ہو کہ آپ سزا دلوانے آئیں ہیں اور لائسنس معطل کروا کر جائیں،جب آپ کا کاروبار چل رہا تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، ججمنٹ ہے کہ جہاں ہائیکورٹ کہہ دے کہ توہین عدالت نہیں ہوئی تو پرائیویٹ پارٹی اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر نہیں کرسکتی،آپ کی حالت تو ایسی ہے جسےدریا میں رہنا اور مگر مچھ سے بیر. درخواست گزار کے وکیل نے کہا ایک سال بعد دوبارہ لائسنس معطل کر دیا گیا. چیف جسٹس نے کہا اگر کوئی بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گا اس کا لائسنس معطل ہو جائے گا،لائسنس معطل کرنا ایڈمنسٹریشن کی مرضی ہے.وکیل صفائی نے کہا2011 میں کوہاٹ سبزی منڈی میں مارکیٹ کے لیئے لائسنس جاری کیا گیا تھا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close