کشمیر پر کس کا بیانیہ؟

دانش ارشاد
لبریشن فرنٹ کے لائن آف کنٹرول توڑنے کی کال پر آزاد کشمیر سے بڑی تعداد میں لوگ باہر نکلے اورلائن آف کنٹرول کی طرف مارچ شروع کیا۔ کل سے جاری اس مارچ کے شرکا جب مظفرآباد پہنچے تو پاکستان کے میڈیا نے نیوز بلیٹن کی حد تک مارچ کو بتایا جبکہ انڈین میڈیا نے اسے پاک فوج کی سازش قرار دیتے ہوئے ہندوستان پر حملے کا منصوبہ قرار دے رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم پاکستان نے اپنے ٹویٹس میں کہا ہے کہ ”مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے آزاد کشمیر میں پایا جانے والا کرب سمجھ سکتے ہیں مگر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرنا انڈین بیانیے کو مضبوط کرنے کے مترادف ہو گا۔”

اس سے قبل عمران خان نے مظفر آباد میں کنٹرول لائن کی طرف مارچ سے روکتے ہوئے کشمیری عوام کو کہا تھا کہ ” مجھے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرنے دیں جس کے بعد لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کے حوالے سے بات ہو گی” اس پر جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے اکیس ستمبر کو لائن آف کنٹرول کی طرف کیا جانے والا مارچ منسوخ کیا تھا ۔ لیکن ستائیس ستمبر کی تقریر میں کوئی لائحہ عمل سامنے نہ آنے پر لبریشن فرنٹ نے لائن آف کنٹرول توڑنے والے مارچ کی عملی کوششیں شروع کیں اور اب مارچ ہو رہا ہے۔


ایک طرف سے لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کرنے والوں کو پاکستان کا ایجنٹ کہا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف سے ان کو ہندوستانی بیانیے پر کام کرنے والا کہا جا رہا ہے۔ کیا کبھی یہ سوچا گیا کہ ”یہ کشمیریوں کا اپنا بیانیہ بھی ہو سکتا ہے”۔ جب دونوں طرف سے ایجنٹ ایجنٹ کی صدائیں بلند کر کے کشمیریوں کی آوازیں بند کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں توقابض بھارت کی سمجھ آتی ہے کہ وہ اپنا قبضہ برقرار رکھنے یہ سب کر رہا ہے لیکن پاکستان ایک طرف کشمیریوں کی حمایت کا دعوی کرتا ہے اور دوسری طرف کشمیریوں کی جدوجہد کو ہندوستانی بیانیے سے تشبیع دے رہی ہے ایسے میں پاکستان کے آئینی اور سیاسی موقف کو سامنے رکھتے ہوئے بطور صحافی اور کشمیری کچھ سوالات ہیں ؟


پاکستان کا موقف ہے کہ ”ریاست جموں کشمیر متنازع ہے اور کشمیریوں کی جدوجہد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا دعوی بھی کرتا ہے اور کشمیریوں کی تحریک کو مقامی تحریک مانتا ہے۔” تو اس موقف کو سامنے رکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ”آزاد کشمیر کے عوام مقبوضہ کشمیر کے عوام کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ان کے اس عمل کو کسی دوسرے بیانیہ کی تقویت کیوں کہا جاتا ہے؟”۔ دوسرا سوال یہ کہ”ریاست پاکستان کا وزیراعظم متنازع ریاست کے عوام کو ان کی جدوجہد سے رکنے کا کیسے کہہ سکتا ہے؟” تیسرا سوال یہ کہ “کیا ریاست پاکستان لائن آف کنٹرول کو مقدس لکیر یا مستقل بارڈر تسلیم کر چکا ہے جو ایک طرف کے عوام کو دوسری طرف جانے سے روکے جانے کے احکامات دیے جا رہے ہیں؟”


میں یہ سوالات اٹھا رہا ہوں ان کے جواب عمل اور مستقبل قریب میں واضح ہو جائیں۔ یہ سوالات پاکستان کے آئین کے مطابق کشمیر کی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور پاکستان کے سیاسی اور اخلاقی موقف کو سامنے رکھ کر اٹھائے گئے ہیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close