سوری بحال مگر کیس چلے گا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ان کی رکنیت عبوری طور پر بحال کر دی ہے۔

فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے میڈیا گفتگو میں کہا کہ حتمی فیصلے تک قاسم سوری ڈپٹی اسپیکر اور ایم این اے رہیں گے۔

رپورٹ: ج ع

پاکستان کی سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر تین میں تحریک انصاف کے رہنما اور سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف اپیل پر پہلی سماعت ہوئی ۔جسٹس عمر عطاءبندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ مقدمے کی سماعت کی ۔بنچ میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس اعجا ز الاحسن بھی شامل تھے ۔قومی اسمبلی کے حلقہ 265کوئٹہ ٹو سے قاسم سوری بطور رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے ۔الیکشن ٹربیونل کوئٹہ نے 27ستمبر کو لشکر رئیسانی کی درخواست پر حلقے میں دوبارہ انتخاب کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطاءبندیال نے دو مرتبہ حکم امتناع جاری کرنے سے متعلق ریمارکس دیئے ۔پہلا موقع اُس وقت پیش آیا جب قاسم سوری کے وکیل نعیم بخاری عدالت میں یہ دلائل دے رہے تھے کہ ہم نے 27ستمبر کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے ،حلقے میں کل ایک لاکھ 18ہزار 1سو 53ووٹ ڈالے گئے ،میرے موکل قاسم سوری پچیس ہزار نو سو تہتر ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ مخالف امیدوار لشکر رئیسانی بیس ہزار 89ووٹ لے سکے ،قاسم سوری نے پانچ ہزار پانچ سو پچاسی ووٹوں کے مارجن سے کامیابی حاصل کی ۔

قاسم سوری کے وکیل نے نادرا کی تجزیاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا 15سو 33ووٹوں کی کاﺅنٹر فائلز میں شناختی کارڈ درست نہیں تھے ،359ووٹ دو مرتبہ ڈالے گئے ،نادرا کی تجزیاتی رپورٹ میں 3198ووٹوں پر سوال اٹھایا گیا ،حلقے میں کل امیدواروں کی تعداد پچیس تھی ۔

جسٹس اعجاز الااحسن نے قاسم سوری کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کے موکل پر صرف یہ الزام نہیں ہے ،دھاندلی کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے ،19گواہان نے پیش ہو کر کہا دھاندلی ہوئی پولنگ اسٹیشنز سے باہر نکالا گیا ،قاسم سوری کو فائدہ پہنچانے کا الزام بھی ہے ،34سو 22ووٹ مسترد ہوئے ۔قاسم سوری کے وکیل نے جواب دیا 52ہزار ووٹوں پر انگوٹھوںکے نشانات کا معیار ایسا نہیں ہے جس کی بدولت اُنکی تصدیق ہوسکے لیکن شناختی کارڈ نمبر درست ہیں۔جسٹس اعجا ز الااحسن نے کہا یہ بات دیکھ لیں آپ 52ہزار ووٹوںکا کہہ رہے ہیں ۔جسٹس فیصل عرب بولے پچیس امیدوار ہیں باون ہزار ووٹ سب کو ملے ہونگے ۔

قاسم سوری کے وکیل نے کہا میں سپریم کورٹ کے دو فیصلوںکا حوالہ دینا چاہتا ہوں ،جن میں قرار دیا گیا انتخابی عملے کی غفلت کا ذمہ دار امیدوار کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہاآپ نے درخواست میں حکم امتناع مانگا ہوا ہے ۔نعیم بخاری نے کہا میںمیں اُس طرف بھی آﺅں گا ۔

قاسم سوری کے وکیل نے دلائل میں مزید کہا غیر تصدیق شدہ ووٹوں کو رد نہیں کیا جاسکتا ،سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں قرار دیا گیا انتخابی عمل میں بدعنوان سرگرمیوں ،غفلت اور لاپرواہی کا ذمہ دار کسی امیدوار کو قرار نہیں دیا جاسکتا ،شناختی کارڈ پر انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق نہ ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن نے ووٹوں کو درست قرار دیا ،گواہان نے عوامی نمائندگی قانون کے تقاضے بھی پورے نہیں کیے ۔

جسٹس عمر عطاءبندیال نے دوسری مرتبہ حکم امتناع پر ریمارکس دیئے ہوئے کہا آپ بہت زیادہ تفصیلات میں جارہے ہیں ،یہ تو آگے کی چیزیں ہیں ،آپ نے حکم امتناع کی درخواست بھی دی ہوئی ہے اس پر بات کریں، حکم امتناع کی بنیاد یہ ہے حلقے کو زیادہ عرصے تک عوامی نمائندگی سے محروم نہیں رکھا جاسکتا،ٹھیک ہے ہم آپ کی طرف سے اٹھائے گئے قانونی نکات سمجھ گئے ہیں ۔

لشکر رئیسانی نے پیش ہو کر جواب جمع کرانے کیلئے مہلت بھی طلب کی ۔عدالت نے سماعت کے اختتام پر قاسم سوری کی اپیل سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیئے ۔عدالتی حکم میں قرار دیا گیا حلقے کو عوامی نمائندگی سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ،الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے تک معطل کرتے ہیں ،حلقے میں دوبارہ انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کا دو اکتوبر کا نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہیں ۔سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close