زلزلے کے 14 برس، بحالی جاری ہے

سید نعمان شاہ ۔ صحافی / مانسہرہ

8اکتوبر 2005کے ہولناک زلزلہ کو 14سال گزر جانے کے بعد بھی زلزلہ متاثرین کی تعمیر نو و بحالی کے کام مکمل نہ ہو سکے۔ فوٹو سیشن کے لیے این جی اوز اور ایرا پیرا کے نمائندے بالاکوٹ پہنچے ہیں جبکہ انجمن تاجران کی کال پر آج بالاکوٹ میں مکمل شٹر ڈاون ہرٹال ہے۔ ہائی اسکول بالاکوٹ میں 8.52 منٹ پر اسکول کے بچوں کی اجتماعی قبر پر دعا کی گئی۔

زلزلے کے 14سال بعد بھی متاثرین در بدر کی مکمل بحالی نہ ہوسکی۔

ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کیپٹن (ر) اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں اب تک اسکولز،بالاکوٹ کی بی ایچ یوہسپتال سمیت بی ایچ یوز اوربالاکوٹ کے باسیوں کی آباد کاری کے لیے شروع کیا گیا منصوبہ نیو بالاکوٹ سٹی بکریال سمیت 560منصوبوں کی تعمیرمکمل نہ ہوسکی۔ جن میں بیشتر سرکاری اسکولز شامل ہیں تاہم زیر التوا منصوبے فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث مکمل نہ ہو سکے نئی حکومت زلزلہ متاثرین کی آبادکاری اورنیو بالاکوٹ سٹی کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے خصوصی دلچسپی لے رہی ہے۔

زلزلہ کے بعد2328منصوبے شروع کیے گے تھے جن میں سے 2263ابتک مکمل کر لیے۔

ڈپٹی کمشنر مانسہرہ اورنگزیب حیدر کے مطابق 2005 سے ابتک ماحولیات کے 194منصوبوں میں سے 110مکمل کر لیے گے جبکہ 84منصوبےالتوا کا شکار ہے۔انتظامیہ کے 112منصوبے شروع کیے گے جن میں سے 95مکمل کرلیے گے جبکہ 17التوا کا شکار ہے۔صحت کے46منصوبے شروع کیے گے جن میں سے 37مکمل ہو گے جبکہ 9التوا کاشکار ہیں۔

آبادکاری کے311منصوبے شروع کیے جن میں سے 236مکمل کیے جبکہ 75منصوبے التوا کا شکار ہیں۔سڑکوں کے 103منصوبے شروع کیے جن میں سے 84مکمل کر لیے جبکہ 19منصوبے التوا کا شکار ہیں۔واٹسن کے 795منصوبے شروع کیے جن میں سے 789مکمل کر لیے گئے جبکہ 6منصوبے التوا کا شکار ہیں۔ جبکہ بالاکوٹ کی رہاشی آباد افراد کی آباد کاری کے لیے شروع کیا گیا نیو بالاکوٹ سٹی کا منصوبہ بھی التوا کا شکار ہے بکریال سٹی کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے بھی اس پر نوٹس لیااور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بالاکوٹ کا تفصیلی دورہ بھی کیا اور اس پر واضع حکم بھی جاری کیا۔ایر ا اور حکومت بھی اس پر سنجیدہ نظر آتی ہے
اور حکومت بالاکوٹ سٹی کی بحالی و تعمیر پرائیوٹ پارٹنرشپ سے مکمل کرنے میں دلچسپی لیں رہی ہیں اور جلد اس حوالے سے زلزلہ متاثرین کو خوشخبری ملے گی تاہم دیگر فنڈز پر کام حکومتی فنڈز کی دستیابی سے مشروط ہے۔محکمہ تعلیم کی ضلعی آفیسر خان محمد تنولی کا کہنا تھا کہ 1132اسکولز ایرا اوراین جی اوز نے تعمیر کرنے تھے جن میں سے ابتک 707اسکولز تعمیر کر لیے گئے ہیں جبکہ 425اسکولز کی تعمیر التوا کا شکار ہیں جن میں سے 179کے ابھی تک ٹینڈرز ہی نہیں جاری کیے جاسکے۔

حکومت کی جانب سے فنڈز کی دستیابی کے بعد ان اسکولز پر کام شروع کر دیا جائے گا 2018 میں سپریم کورٹ نے متاثرین زلزلہ کی درخواست پر بھی معاملہ کانوٹس لیااوراپریل 2018میں چیف جسٹس ثاقب نثارنے دوران سماعت دیگر ججز کے ہمراہ خود بالاکوٹ کا
تفصیلی دورہ کیا اور تعمیر نوح اور بحالی کئے کاکام مکمل نہ ہونے پر حکومت اور ایراحکام پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے بعد حکومت کی جانب سے فنڈز جاری کرنے کی یقین دھانی بھی کچھ کام نہ آئی اور زلزلہ متاثرین کی قسمت نہ بدل سکی تاحال زلزلہ متاثرین کے بحالی کے کام مکمل نہ ہو سکے
ہر سال 8اکتوبر کیی برسی کے موقع پر زلزلہ متاثرین کا بحالی کے لیے متاثرین کی جانب سے بالاکوٹ میں احتجاج بھی کیا جاتا ہے احتجاج پر بھی کوئی نوٹس کسی نے نہ لیا ۔بالاکوٹ سے تعلق رکھنے والے زلزلہ سے متاثرہ میاں الطاف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ق،پی پی پی،مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومتوں کے بعد اب پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان نے بھی بکریال سٹی کی تعمیر مکمل کر نے کے لیے ہمیں تسلی دی ہیں تاہم ۔

نیو بالاکوٹ سٹی کے التوا سے اسکے وقت کے 5000ہزار خاندان اب 15000 سے زاہد خاندان بن چکے ہیں کافی مشکلات کا شکار ہے تاہم حکومت نے ابھی تک صرف اس وقت کے رجسٹڑڈ 5000 خاندانوں کو ایک ایک پلاٹ دینا ہے جو ابھی تک نہیں دیے جا سکے دوسری جانب بالاکوٹ شہر سے ملحقہ گرلاٹ اور ملحقہ علاقوں کو ریڈ زون ڈکلیر کرکے وہاں تعمیرات پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے جس سے اہلیان بالاکوٹ کی مشکلات مزید برھا دی ہے نہ تو ہمیں بکریال میں نیو بالاکوٹ سٹی میں پلاٹ دیےجارہے ہیں اور نہ دوسری جانب ہمیں پختہ مکانات تعمیرات کرنے کی اجازت دی جارہی ہیں۔

حکومت کی نیو بالاکوٹ سٹی کی تعمیر کے لیے تو میٹنگ جاری ہے تاہم 425اسکولز، سمیت دیگر زیرالتوا 560منصوبوں کی بحالی کے لیے کوئی عملی اقدمات نظر نہیں آرہے۔ہمارےبچے اسکولز میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ بالاکوٹ کی بی ایچ یو ہسپتال تاحال تعمیر نہیں کی جاسکی۔

آخر کب ہماری بحالی ہو گی وزرا عظم سے لے کر سپریم کے چیف جسٹس تک 14سالوں سے زلزلہ متاثرین کی بحالی کے دعوے اور وعہدے تو کررہے ہیں مگر آج تک عملی طور پر زلزلہ متاثرین کی بحالی وآبادکاری مکمل نہ ہو سکی۔ تاہم ہمیں امید ہے کہ شاید زلزلہ متاثرین کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے نئی وفاقی و صوبائی حکومتیں اس بارہماری آبادکاری و بحالی کا کام مکمل کرلیں۔8اکتوبر کے 2005کے ہولناک زلزلہ میں 86ہزار افراد جاں بحق اور ڈیڑھ لاکھ زخمی ہو گے تھے جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے
تھے۔ جبکہ تحصیل بالاکوٹ اور سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close