سیاسی و معاشی استحکام کیوں نہیں آ رہا؟

عمران زاہد ۔ تجزیہ کار

آرمی چیف نے جن تاجروں سے ملاقات کی ان میں سے چند ایک نے ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ تاجروں کے طرف سے معاشی عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ حالات میں uncertainity کو قرار دیا گیا۔ جس کے جواب میں چیف صاحب نے تاجروں کو یقین دلایا کہ یہ حکومت ہر حال میں پانچ سال پورے کرے گی۔ کچھ اور یقین دہانیاں بھی کرائی گئیں جیسے کہ ڈالر کا ریٹ اور شرح سود کو مزید نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔

پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حکومت کے معاشی بزرجمہروں نے عوام اور عالمی اداروں کو جو یقین دہانیاں کرائی تھیں کہ ڈالر ریٹ کو مصنوعی طریقوں سے مینیج نہیں کیا جائیگا ان کا کیا بنے گا؟ کیا اب چیف صاحب کی فرماَئش پر الگ سے معاشی اصول طے کئے جائیں گے؟ یہ حکومت اسحاق ڈار پر شدید اعتراض کرتی رہی ہے کہ انہوں نے مصنوعی طریقوں سے ڈالر ریٹ کو مستحکم رکھا تھا۔ کیا چیف صاحب کی فرمائش پر یہ حکومت اسحاق ڈار ماڈل کو اپنانے جا رہی ہے؟ اگر وہی ماڈل اپنانا ہے تو بہتر ہے اپنی پالیسیوں کی ناکامی کا اعتراف کر کے اسحاق ڈار کی منت کر لی جائے۔

دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غیر یقینی حالات کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ کیا جنرل صاحب کی یقین دہانی سے یہ صورتحال ختم ہو جائے گی؟
یہ بات تو طے ہے کہ معاشی استحکام غیریقینی صورتحال کو ختم کئے بغیر نہیں آ سکتا۔

میرے تجزیے کے مطابق اس غیریقینی صورتحال کی وجہ میاں نوازشریف کا پاکستان میں ہونا ہے۔ جب تک میاں صاحب پاکستان میں موجود ہیں چاہے جیل میں ہی کیوں نہ ہوں لوگوں کی توقعات ان سے اور ان کی پارٹی سے لگی رہیں گی۔ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے سبب لوگوں کی یہ توقعات ماضی سے بھی بڑھ گئی ہیں۔ (اس کے بارے میں صحافی ہارون رشید نے اپنے حالیہ ٹی وی پروگرام میں پارٹیوں کے مقبولیت کا اشاریہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک سروے (شاید گیلپ) کے مطابق نون لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور پی ٹی آئی کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔) شاید یہ وہ سبق ہے جو میاں نوازشریف نے اپنی جلاوطنی سے سیکھا تھا۔ میاں صاحب کی جلاوطنی کا نتیجہ یہ تھا کہ میاں صاحب اپنی پارٹی سے تقریباً مکمل طور پر ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔۔۔ پرانے پرانے مخلص لوگ بھی پارٹی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے ۔۔ لامحالہ عوام میں بھی ان کے حوالے سے توقعات ختم ہو گئی تھیں۔ جنرل مشرف اس نکتے کو بہت اچھی طرح سمجھتا تھا۔ اس لئے میاں صاحب نے جب بھی وطن واپسی کی کوشش کی انہیں ائیرپورٹ سے ہی ڈنڈہ ڈولی کر کے دوسری فلائیٹ پر بٹھا کر جلاوطن کر دیا گیا۔ مشرف کو اندازہ تھا کہ اس نے اِدھر اُدھر سے ادھار پکڑ کر اور نیب کے ذریعے ہانکا کروا کر جو اراکین اسمبلی اکٹھے کئے ہیں اور ایک تاش کا گھر کھڑا کیا ہے وہ میاں صاحب کے ملک میں آنے سے ہوا میں اڑ جائے گا۔ اور حقیقت میں ہوا بھی ایسے ہی۔ جیسے ہی میاں صاحب ملک میں واپس آئے ۔۔ مشرف بمشکل ایک سال سے بھی کم عرصہ اقتدار میں نکال سکا۔ اقتدار سے نکلتے ہی اس پر ایسی حالتِ بیچارگی طاری ہوئی کہ اسے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنی پڑی۔ حالیہ صورتحال میں دیکھیے کہ میاں صاحب کے ملک میں ہونے کے سبب نہ صرف نون لیگ سروائیو کر گئی ہے بلکہ اس کی مقبولیت بھی پہلے سے بڑھ گئی۔ کئی دفعہ اسے توڑنے کی کوششیں ہوئیں، عدلیہ کا کندھا بھی استعمال کیا گیا لیکن حکومت و اسٹیبلشمنٹ کو ہر دفعہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

یاد رہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت نے احتساب کے جنون میں میاں صاحب کی ضمانت کی جینیوئین درخواست بھی عدالت سے منظور نہ ہونے دی تھی۔ اس مقصد کے لئے سپریم کورٹ سے ضمانت کا خصوصی کرائیٹیریا وضع کرایا گیا تھا جس کے تحت محض صحت کی انتہائی تشویشناک صورتحال میں ہی ضمانت مل سکتی ہے۔ اس خصوصی کرائیٹیریے کے سبب ان افراد کو بھی نقصان پہنچا جو ویسے تو صحتمند تھے لیکن ان کے خلاف کیس بوگس تھے۔۔ وہ عدالتوں میں اپنے کیسوں کو بوگس ثابت کرنے میں کامیاب بھی ہو گئے تھے ۔۔ لیکن عدالت سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں انہیں ضمانت دینے سے قاصر تھی۔ میاں صاحب کی ضمانت کی درخواست منظور ہو جاتی اور وہ علاج کے لئے ملک سے باہر چلے جاتے تو ممکن ہے کہ موجودہ حکومت کو سانس لینے کی ایک مہلت نصیب ہو جاتی۔ لیکن انہوں نے یہ موقع گنوا دیا۔

اسٹیبلشمنٹ کے اپنے حلقوں سے اب یہ خبریں تسلسل سے اڑائی جاتی ہیں کہ میاں صاحب کو ضمانت اور ملک سے باہر جانے کی ڈیل آفر کی جاتی ہے حتٰی ان کے خاندان کے افراد سے بھی سفارشیں کرائی جاتی ہیں لیکن میاں صاحب کی طرف سے مسلسل انکار ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کو یہ احساس تو ہو گیا ہے کہ سیاسی استحکام کے لئے اگلے چار پانچ سال کے لئے میاں صاحب کو جلاوطن کر دیا جائے تو بات بن سکتی ہے۔ لیکن ایسا ہونا اب ناممکنات میں سے ہے؛ کیونکہ میاں صاحب بھی اسٹیبلشمنٹ کی کمزوری سے آگاہ ہیں اس لئے وہ ڈیل کر کے کبھی بھی گھاٹے کا سودا نہیں کریں گے۔


یہ سوال کہ کیا چیف صاحب کے کہنے سے صورتحال متوازن ہو جائے گی اور اس کا غیریقینی پن ختم ہو جائے گا، کا جواب تلاش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ جب تک میاں نوازشریف پاکستان میں موجود ہیں تب تک ایں خیال است و محال است و جنوں۔ ملک کی سیاسی صورتحال کبھی بھی ہموار نہیں ہو سکے گی۔ اس عدم استحکام کی ایک علامت عوام میں پارٹیوں کی مقبولیت کا اشاریہ بھی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ ماضی میں ایسا صرف زرداری صاحب کے دورِ حکومت میں ہوا تھا کہ شروع کے سالوں میں ہی ان کی مقبولیت گرنا شروع ہو گئی تھی وگرنہ ہر حکومت شروع کے سالوں میں اپنی مقبولیت قائم رکھنے بلکہ بڑھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

ہماری دعا ہے کہ ملک میں ایک جمہوری دور کا آغاز ہو ایک مستحکم حکومت بنے جس کے پیش نظر عالمی اداروں کے ایجنڈوں کی بجائے پاکستان کی ترقی ہو۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close