معیشت اور ڈاکٹر فرخ سلیم

عمران زاہد

چند ماہ قبل ڈاکٹر فرخ سلیم کا حکومتی ترجمان بننے کے بعد پہلا ٹی وی انٹرویو دوبارہ دیکھ رہا تھا جو اس نے شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں دیا تھا۔ وہ انٹرویو ہی اس کی ترجمانی میں پہلا اور آخری کیل ٹھونک گیا تھا ۔ اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ گرفتار ہوئے ہم والا معاملہ ہو گیا تھا۔

میں ڈاکٹر صاحب کے مضامین کافی عرصے سے پڑھتا رہا ہوں ۔ میں انہیں خاصا معقول اور صاحب الرائے شخص سمجھتا تھا لیکن اس انٹرویو میں موصوف نے ایسے انٹ شنٹ جواب دئیے تھے کہ ان کی ذہنی حالت پہ ہی شبہ ہونے لگا تھا۔ شاہزیب کے بڑے سادہ سے سوالات تھے ۔ اس کا کہنا تھا اسٹیٹ بینک کی گیارہ بارہ فیصد شرح سود پر آپ کی حکومت عام افراد کو سستے گھروں کے لئے کیسے اور کس شرح پر فنانس کر پائے گی؟ بڑا سیدھا سا جواب تو یہ تھا کہ حکومت کو سب سڈی دینی پڑے گی لیکن موصوف یہ جواب دے نہیں رہے تھے کیونکہ اگر یہ جواب آتا تو اس کا اگلا سوال یہ آنا تھا کہ وہ سب سڈی کہاں سے آئے گی کیونکہ شاہزیب پہلے ہی اس پراجیکٹ پر اخراجات کا تخمینہ پیش کر چکا تھا کہ جتنے مکان حکومت بنانا چاہتی ہے وہ ایک سال کے کل بجٹ کا دگنا خرچ کرنے سے بنتے ہیں یعنی ہم ملک کا بجٹ نہ ترقیاتی کاموں پر خرچ کریں، نہ تنخواہیں دیں، نہ پینشن دیں، نہ ہی صحت و تعلیم پر خرچ کریں، اور دفاعی اخراجات بھی بند کر دیں ۔ اور یہ سب وسائل سستے گھر بنانے پر لگا دیں تو بھی اس بجٹ کا دگنا چاہیئے ہو گا۔

ایک بہت مزیدار بات ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب، شاہزیب کو غلط ثابت کرنے کے لئے کہنے لگے کہ (معیشت کے) یہ جو ستر سال سے چلنے والے فارمولے ہیں وہ نئے پاکستان میں نہیں چلیں گے۔ یعنی جن فارمولوں سے شاہزیب نے مکانوں کو فنانس کرنے کی لاگت نکالی ہے وہ اب نہیں چلیں گے۔ شاہزیب نے لاکھ سر مارا کہ یہ فارمولے میرے نہیں ہیں، یہ تو عالمی طور پر مستعمل ہیں اور ایسے ہی ہیں۔

اس پر ڈاکٹر صاحب کو کچھ اور تو سمجھ نہیں آئی ۔ پراجیکٹ کی فنانسنگ کے لئے ایک اختراعی فارمولہ بنا لیا۔ کہنے لگے کہ کرپشن کا پیسہ، منی لانڈرنگ کا پیسہ اور بیرون ملک پڑا سارا پیسہ ملک میں لا کر اس سے گھر بنائے جائیں گے۔ یعنی یہ سارا پیسا ملک میں آئے گا تو پچاس لاکھ گھر بن جائیں گے۔ گویا نہ نو من تیل ہو گا، نہ رادھا ناچے گی۔

اس پروگرام میں ڈاکٹر صاحب نہ صرف حکومتی موقف کا دفاع کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے بلکہ خود بھی بری طرح ایکسپوز ہو گئے۔ حالانکہ اس موضوع پر حال ہی میں جب حکومتِ پنجاب کے مشیر ڈاکٹر سلمان شاہ سے سوالات کئے گئے تو انہوں نے بہت معقول اور دل لگتے جوابات دیے۔

خیر اس انٹرویو کو گولی ماریں، رات گئی بات گئی۔ اُس انٹرویو اور گفتگو کو سننے کے بعد ڈاکٹر فرخ سلیم کے حالیہ مضامین اور ویڈیوز کو دیکھیں تو پھر سے لگنے لگتا ہے کہ موصوف اتنے بھی نالائق نہیں ہیں بلکہ اچھے خاصے معقول سیاسی و معاشی تجزیہ کار ہیں۔ چند ہفتے قبل ہی انہوں دس سولات پہ مشتمل ایک مضمون لکھا جس میں حکومت کی معاشی منصوبہ بندی کے حوالے سے انتہائی معقول سوالات اٹھائے گئے۔ عہدے سے فراغت کے بعد ایک انٹرویو انہوں نے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے انچارج ڈاکٹر فرحان ورک کو دیا تھا جس میں موجودہ حکومت (اصل میں اسد عمر) کی معاشی بدانتظامی پر روشنی ڈالی گئی تھی۔۔ پھر حال میں ہی انہوں نے تاجروں کے آرمی چیف سے ملاقات کے بعد معاشی حالات پر انتہائی معقول گفتگو کی۔ لگتا ہی نہیں کہ یہ وہی شاہزیب کے سامنے بےربط گفتگو کرنے والے حضرت ہیں۔ صاف لگتا ہے کہ اب یہ ایک بالکل ہی مختلف شخصیت ہیں۔

مجھے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت میں اس تفاوت کی صرف ایک وجہ سمجھ آتی ہے۔ انسان جب تحریکِ انصاف جیسی جماعت کا حامی بنتا ہے تو اس کی شخصیت میں کچھ بنیادی تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں جیسے کہ کامن سینس سے دوری، دورازکار مفروضوں پر انحصار، دوسروں کو احمق اور خود کو عقل کل سمجھنا، لمبی لمبی چھوڑنا، خود کو عظمت کی مینار پر چڑھا لینا وغیرہ وغیرہ ۔۔ یعنی سب ہی غیر حقیقی باتوں کو اختیار کر لینا۔

ان حضرات کی کامن سینس سے اتنی دوری ہو جاتی ہے کہ کامن سینس کی بات کرنے والے بھی برے لگنے لگتے ہیں۔ زیادہ تر کو مخالفین قرار دے کر قابلِ گردن زدنی ڈیکلئیر کر دیا جاتا ہے۔ اختلافِ رائے کرنے والے اتنے برے لگنے لگتے ہیں کہ ان کی شکلیں ویسے تو کیا، میڈیا پر بھی برداشت نہیں ہوتیں، جو بہت برے لگتے ہیں انہیں آزاد چلتے پھرتے دیکھنا بھی گراں گزرتا ہے۔ انہیں جعلی کیس بنا کر بھی قید میں ڈالنا پڑتا ہے۔
لیکن جیسے ہی وہ شخص اہلِ یوتھ کے لبادے کو اتارتا ہے تو اس کے اندر سے ایک انتہائی معقول و فہیم شخص برامد ہو جاتا ہے۔ اسے ستر سال کے معاشی فارمولوں میں معقولیت بھی نظر آنے لگتی ہے۔ کرپشن کی گردان بھی ختم ہو جاتی ہے۔ غیر حقیقی تخمینے لگانے اور لمبی لمبی چھوڑنے کی عادت بھی چُھٹ جاتی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہوتی ہے کہ اسے پی ٹی آئی حکومت کی بیڈ گورنس بھی بڑی واضح طور پر نظر آنے لگتی ہے۔ اور اس کے روئیے میں جہل آمیز ہٹ دھرمی کی جگہ لچک اور حقیقت پسندی جھلکنے لگتی ہے۔

شخصیت کی اس کایا کلپ سے ڈاکٹر فرخ سلیم ہی نہیں گزرے، اور بہت سے بھی گزرے ہیں۔ خانصاحب کی ایک سال کی انتہائی بری کارکردگی نے دھکے مار مار کر لوگوں کے اس مصنوعی خول کر اتار دیا ہے۔ ایسے بہت سے تو میرے احباب میں ہی ہیں۔ ان میں سے بھی جو اکا دکا باقی رہ گئے میری خصوصی دعائیں ان کے لئے ہیں ۔۔ ان کے علاوہ بھی اگر کوئی جانے انجانے میں اس مرض کا شکار ہے تو اللہ اسے جلد از جلد شفائے کاملہ نصیب فرمائے۔ آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close