جسٹس فائز کیس میں دلائل کیا ہیں؟

رپورٹ: ج ع

پاکستان کی سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز کی درخواست کی سماعت کے دوران وکیل منیر اے ملک نے کہا ہے تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے فیض آباد دھرنا کیس فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیلوں میں ایک جیسے قانونی نکات اٹھائے، وزیر قانون فروغ نسیم کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے، تحریک انصاف کے سربراہ وزیراعظم عمران خان ہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ لگتا ہے دونوں جماعتوں کے وکلاء نے نظر ثانی درخواست کا ڈرافٹ کا تبادلہ کیا، دونوں درخواستیں ایک ہی فونٹ میں لکھی گئیں، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے فیض آباد دھرنا کیس فیصلے کیخلاف نظرثانی اپیلیں تیار کرنے کے لیے ایک ہی کمپیوٹر استعمال کیا۔

سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائض عیسی کی آئینی درخواست پر سماعت کل منگل تک ملتوی کی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے کیس کی سماعت کی۔

جسٹس قاضی فائض عیسی کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ایک جج کو اس کے فیصلوں سے پہچانا جاتا ہے۔ ”جسٹس قاضی فائز عیسی کو کوئٹہ بم دھماکہ کیس میں ایک رکنی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا، جسٹس قاضی فائز عیسی نے 16 فروری 2019 کو فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ دیا، فیض آباد دھرنا کیس فیصلے میں کہا گیا دھرنے کے سبب سائلین اور ججوں کو آزادانہ نقل و حرکت میں مشکلات پیش آئیں۔“

انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور صدر پاکستان دونوں آئینی عہدیدار ہیں، امید کرتے ہیں کہ دونوں آئینی عہدوں کے تقدس کا خیال کریں گے۔

منیر اے ملک نے کہا کہ درخواست گزار سمیت تمام لوگ قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل نے کوئٹہ کمیشن رپورٹ، فیض آباد دھرنا اور اصغر خان کیس کا حوالہ بھی دیا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست پر سماعت کے دوران ایک وکیل نے ہنگامہ آرائی کر کے بینچ کے سربراہ پر اعتراض اٹھایا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے سماعت شروع کی تو وکیل کے لباس میں موجود ایک شخص نے عدالت میں شور شرابہ کیا۔

عدالت میں شور شرابہ کرنے والے شخص کا نام ایڈووکیٹ اجمل محمود سکنہ لاہور بتایا جا رہا ہے۔ اجمل محمود نے کہا کہ انہوں نے جوڈیشل کونسل میں جسٹس عمر عطا کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے۔

اجمل محمود نے کہا کہ ان کو بتایا جائے ان کی شنوائی کب ہوگی۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ مہربانی فرما کر شائستہ زبان استعمال کریں۔

اجمل محمود نے کہا کہ ساری زندگی اس طرح میرے مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ آپ کی درخواست ایک فورم پر موجود ہے اسے وہی فورم دیکھے گا، الفاظ کا مناسب استعمال کریں۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ”خود بے نقاب نہ کریں، توہین عدالت لگ سکتی ہے۔“

وکیل نے کہا کہ ان پر توہین عدالت لگائی جائے پروا نہیں۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ہم آپ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کررہے ہیں۔

اجمل محمود نے کہا کہ وہ اپنے حق کے لیے کس فورم سے رجوع کریں، میں مر رہا ہوں۔

سپریم کورٹ بار کے صدر امان اللہ کنرانی نے کہا کہ آپ وکیل ہیں وکیل کی طرح قانون کے مطابق بات کریں۔ آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیں۔

جسٹس قاضی فائز کے وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ میں معافی چاہتا ہوں، ہمیں افسوس ہے۔ میرا اس شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سماعت کے اختتام پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا جن صاحب نے میرے خلاف ریفرینس دائر کیا تھا اسکا نام اجمل محمود ہے، انکا ریفرینس پانچ جولائی دو ہزار سترہ کو نمبر لگا اور کونسل نے خارج کردیا، امان الل کرانی صاحب آپ عدالتی روسٹرم کے محافظ ہیں،یقینی بنائیں کہ اس قسم کے عدالت کو برا بھلا کہنے والے لوگ روسٹر کو ٹیک اوور نہ کریں،میرے برادر ججز اجمل محمود کو توہین عدالت کا نوٹس دینا چاہتے تھے،لیکن تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں کر رہے.عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close