’لڑکی کے بھائیوں والا‘ ہی جسٹس فائز کے خلاف شکایت کنندہ ہے

رپورٹ: ج ع
پاکستان کی سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف شکایت کنندہ اور صدارتی ریفرنس کا محرک بننے والا نام نہاد تحقیقاتی صحافی عبدالوحید ڈوگر پراکسی ہے جو کسی اور کے اشارے پر کام کرتا ہے اور وہ انگریزی میں جسٹس عیسی کے نام کے درست ہجے بھی نہیں لکھ سکتا۔

وکیل منیر اے ملک نے جسٹس فائز کے خلاف شکایت کنندہ مسٹر ڈوگر کے بارے میں عدالت کو بتایا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے صحافی احمد نورانی پر حملے کے بعد ایک اخبار میں خبر شائع کی تھی کہ ’حملہ آور اس لڑکی کے بھائی تھے جن کو مسٹر نورانی نے چھیڑا تھا۔ یہ خبر بعد ازاں غلط ثابت ہوئی اور معافی نامہ بھی شائع کیا گیا۔‘

وکیل منیر اے ملک نے دس رکنی لارجر بینچ کو بتایا کہ ڈوگر ایک جعلی شکایت کنندہ ہے جبکہ ایسٹ ریکوری یونٹ میں ایک بھی سول سرونٹ نہیں ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے پوچھا کہ وحید ڈوگر کو کیسے علم ہوا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے یورپین نام کا؟ وکیل نے جواب دیا کہ ہو سکتا ہے ڈوگر کے پاس مافوق الفطرت پاورز ہوں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا آپ آن لائن پراپرٹی لندن لینڈ اتھارٹی سے لے سکتے ہیں۔ وکیل منیر اے ملک نے جواب دیا کہ صرف پلاٹ کا پتہ لگ سکتا ہے کس کے نام رہے پتہ نہیں لگ سکتا۔

ْجسٹس عمر عطا نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ نام پر ریکارڈ سرچ کیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر کیسے اس پراپرٹی کے بارے معلومات ملیں۔ وکیل نے جواب دیا کہ یہ سب درخواست گزار کا اور اس کے خاندان کا پیچھا کر کے معلومات لی گئیں۔

وکیل منیر ملک نے بتایا کہ 27 اکتوبر 2018 کو نیو یارک ٹائم کی خبر ہے جس میں صحافی احمد نورانی پر حملے کا ذکر ہے، نورانی پر بی بی سی کی رپورٹ بھی آئی۔ جسٹس قاضی امین نے پوچھا کہ کیا احمد نورانی نے حملہ آوروں کے بارے میں بتایا تھا، حملہ کس نے کیا ؟ کیا کوئی ادارہ تھا۔

وکیل نے جواب دیا کہ اس بارے میں ان کو علم نہیں ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ڈوگر پراکسی ہے، اس کی منطق سمجھ نہیں آئی۔ وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ شکایت کنندہ کا ماضی اور اس کی ساکھ بتا کر ثابت کر رہا ہوں کہ وہ پراکسی ہے۔

اس دوران وحید ڈوگر نامی صحافی روسٹرم پر آگیا اور منیر ملک کو کہا میں ڈوگر ہوں۔

بینچ کے سربراہ نے پوچھا کہ یہ کون ہے جو روسٹرم پر کھڑا ہے۔ وکیل منیر اے ملک نے بتایا کہ یہ ڈوگر ہے۔ جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ آپ کو کیسے علم ہے کہ یہ ڈوگر ہے۔؟

وکیل نے جواب دیا کہ ڈوگر نے مجھے کان میں آکر کہا ہے کہ یہ ڈوگر ہے۔

سماعت کے اختتام پر سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی سے اہلیہ اور بچوں کو دیے گئے تحائف کی تفصیلات طلب کیں جبکہ ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے ایسٹ ریکوری یونٹ کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی دس رکنی فل کورٹ نے صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل نے شکایات کنندہ کو پراکسی کمپلیننٹ قرار دیا۔ منیر اے ملک نے عدالت کو بتایاجسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف شکایت درج کرانے والے عبدالوحید ڈوگر نے کسی کے اشارے پر یہ سب کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف شکایت درج کرنے والا عبدالوحید ڈوگر پراکسی کمپلیننٹ ہے۔ فیض آباد دھرنا کیس کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف مواد اکٹھا کیا گیا۔

کیس کی سماعت کے دوران ججز اور جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔ منیر اے ملک نے کہا جس طرح جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف تحقیقات کی گئیں کیا ایسا ہونا چاہیے، اگر اس طرح ججوں کیخلاف تحقیقات ہوتی رہیں تو پھر آرٹیکل 209 کدھر جائے گا، کل کسی تھانے کا ایس ایچ او سپریم کورٹ کے جج کیخلاف تحقیقات شروع کر دے گا، کیا جج کو بلیک میل کرنے کے لیے اس طرح خفیہ تحقیقات کی جاسکتی ہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا جج کیخلاف تحقیقات کے دو راستے ہیں،صدر پاکستان اور سپریم جوڈیشل کونسل کے زریعے جج کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے،ایس ایچ او یا کوئی اور ادارہ اس طرح سے جج سے متعلق رائے قائم نہیں کر سکتا۔

جسٹس مقبول باقر نے کہاہم آپ کی دلیل سمجھ گئے ہیں،آپ کہہ رہے ہیں جسٹس قاضی فائز کیخلاف غیر مجاز اتھارٹیز کے زریعے تحقیقات کی گئیں،ہمیں ایسٹ ریکوری یونٹ کی قانونی حیثیت سے متعلق بتائیں. ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے جواب دیا ایسٹ ریکوری یونٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں.دوران سماعت ایڈووکیٹ افتخار گیلانی نے پیش ہو کر بتایا ان کی دو درخواستیں ہیں جن پر نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ عدالت نے نوٹس جاری کر دیے۔

بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے واضح کیا تمام وکلا ذہن میں رکھیں ہم صرف ریفرنس پر دلائل سنیں گے، بعض درخواستوں میں ریفرنس سے ہٹ کر بھی نکات اٹھائے گئے ہیں، ایسے نکات پر وقت کی کمی کے باعث بحث نہیں سن سکتے، تمام درخواستوں میں اگر ایک ہی بات ہے تو ایک وکیل کو سننا کافی ہے، پٹیشنز اور وکلا کی تعداد سے فرق نہیں پڑے گا، دلائل کی اہمیت ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل میں مزید کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس پر نظر ثانی درخواستیں مارچ میں دائر کی گئیں۔ دس اپریل 2019 کو ایسٹ ریکوری یونٹ کو ایک خط لکھا۔

منیر ملک نے عبد الوحید ڈوگر کا ایسٹ ریکوری یونٹ کو لکھا گیا خط پڑھ کر سنایا۔

منیر اے ملک نے کہا کہ خط میں قاضی فائز عیسیٰ کی کسی بھی جائیداد کا ذکر نہیں کیا گیا،اس خط پر فون نمبر اور پتا درج نہیں ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا ایسٹ ریکوری یونٹ کیا ہے یہ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں کیوں ہے. منیر اے ملک نے جواب دیادس مئی کو وزیر قانون کو ایک خط لکھا گیا جس میں ان سے موقف مانگا گیا، پہلی بار زرینہ کھوسو کریرہ اور ارسلان کھوسو کے نام سامنے آئے، وحید ڈوگر نے لندن کی جائیداد کے بارے میں آن لائن سرچ کر کے دستاویز سامنے رکھیں، وحید ڈوگر نے الزام لگائے کہ قاضی فائز عیسیٰ کی جائیداد لندن میں ہے، الزام لگایا گیا جسٹس قاضی فائز نے اپنے اثاثوں میں غیر ملکی جائیداد ظاہر نہیں کی۔

انہوں نے بتایا کہ وحید ڈوگر نے جسٹس کے کے آغا کی جائیداد سے متعلق بھی معلومات دیں،وحید ڈوگر نے یہ بھی ایسٹ ریکوری یونٹ کو بتایا کہ کے کے آغا کے پاس دوہری شہریت ہے،لیکن کوئی دستاویزی ثبوت نہیں دیئے، ایسٹ ریکوری یونٹ نے کہا ہے کہ وحید ڈوگر نے لندن لینڈ ڈیپارٹمنٹ کی ایک کاپی فراہم کی ہے،8 مئی کو ایسٹ ریکوری یونٹ نے ایک خط لکھا جس میں جج کی جائیداد کی بارے میں ذکر ہے،دس مئی کو ایف آئی اے کی ایسٹ ریکوری یونٹ والوں سے میٹنگ ہوئی،اس میٹنگ میں درخواست گزار کی اہلیہ کا نام اور سپین کی شہریت سامنے آئی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ویزا درخواست کی وجہ سے نام سامنے آیا،جسٹس قاضی فائز کی اہلیہ کو پانچ سال کا ویزہ دیا گیا۔

منیر اے ملک نے سوال اٹھایاجسٹس قاضی کی اہلیہ کا نام ڈوگر کو کیسے پتا چلا، جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف دستاویزی ثبوت کے طور پر ایک کاغذ بھی پیش نہیں کیا گیا،عبدالوحید ڈوگر نے لندن پراپرٹی رجسٹرار سے آن لائن سرچ کر کے معلومات کیں،آن لائن سرچ کرنے والے عبدالوحید کو جسٹس قاضی فائز کے انگریزی ہجے بھی نہیں آتے،وحید ڈوگر کو یہ کس نے بتایا جسٹس قاضی فائز کی اہلیہ کے نام کے انگریزی ہجے ہسپانوی ہیں، ہوسکتا ہے وحید ڈوگر کے پاس سپر نیچرل پاورز ہوں،وحید ڈوگر کو ایک جج کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ کا کیسے پتہ چلا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ عبدالوحید ڈوگر کو کس طرح معلوم ہوا کہ پراپرٹی کہاں ہے اور کیا چیزیں گوشوارے میں ظاہر کی گئی ہیں، یو کے لینڈ رجسٹری سے صرف نام لکھ کر آن لائن سرچ نہیں کر سکتے، سرچ میں صرف نام لکھ کر سب کچھ معلوم نہیں کیا جا سکتا، اس حوالے سے پراپرٹی نمبر یا سرچ سرٹیفیکیٹ کا ہونا ضروری ہے. جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا تو سوال یہ ہے کہ اس نے پراپرٹی کا پتہ کیسے لگایا؟منیر اے ملک نے کہافریق کا ایئرپورٹ سے پیچھا کر کے پراپرٹی کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران صحافی احمد نورانی اور عبدالوحید ڈوگر کی “لڑکی کے بھائی” کی سٹوری کا بھی تذکرہ ہوا۔ منیر اے ملک نے کہانیو یارک ٹائمز اور بی بی سی نے 2017 میں احمد نورانی پر حملے کے حوالے سے سٹوری دی، عبدالوحید ڈوگر کے مطابق اس کو ذرائع نے خبر دی تھی، خبر شائع کرنے کے بعد 8 دسمبر 2017 کو معافی نامہ بھی شائع کیا گیا۔ جسٹس قاضی آمین نے پوچھا کیا احمد نورانی نے کسی فرد یا ادارے پر الزام لگایا؟۔ منیر اے ملک نے جواب دیا مجھے اس حوالے سے معلومات نہیں ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کیا جسٹس قاضی فائز نے اپنی اہلیہ یا بچوں کو تحائف دیے۔ منیر اے ملک نے کہا میں اپنے موکل سے پوچھ کر بتاؤں گا. جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا اپنے موکل( جسٹس قاضی فائز عیسی) سے پوچھ کر بتائیں 2004 کے بعد بیوی بچوں کو تحفے دیئے،آپ کے موکل تو ٹیکس دیتے رہے بیوی بچوں کو تحائف دیے تو پھر مسئلہ ہی حل ہو جائے گا.

منیر اے ملک نے کہا جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ اور بچوں کے نام لندن جائیدادوں کی آن لائن سرچ کی گئی، سپریم کورٹ لندن پراپرٹی رجسٹری سے خود پوچھ لے آن لائن سرچ کس نے کی،سپریم کورٹ یہ بھی پوچھے آن سرچ کرنے کیلئے تین پاؤنڈ کس نے ادا کیے،میرے موکل کے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ میں پاکستانی روپے ہیں.عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسی سے اہلیہ اور بچوں کو دیے گئے تحائف کی تفصیلات طلب کر لیں. کیس کی سماعت کل بدھ کو دوبارہ ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close