نئے پاکستان میں صلاح الدین کے ’قاتل‘ معاف

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکومت اور پولیس کے اعلی حکام کی کوششوں کے نتیجے میں ذہنی معذور صلاح الدین کے قتل کے ملزمان پولیس اہلکاروں کو معاف کر دیا گیا ہے۔

معافی کا اعلان صلاح الدین کے والد نے مقامی لوگوں اور پولیس افسران کے جرگے یا پنچایت میں کیا۔ 

یاد رہے کہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں مبینہ پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے صلاح الدین، جن پر الزام تھا کہ وہ اے ٹی ایم مشینوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔

منگل کی شام مقتول کے والد نے ہلاکت میں نامزد پولیس اہلکاروں کو معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان صلاح الدین کے ضلع گوجرانوالہ کے ان کے آبائی گاوں میں ایک مقامی پنچایت میں کیا گیا جس میں سرکاری افسران بھی موجود تھے۔

مقامی لوگوں کے مطابق صلاح الدین کے والد محمد افضال نے علاقے کے اکابرین کی مشاورت سے ملزمان پولیس اہلکاروں کو معاف کرنے کا اعلان کیاہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ معافی دیت کے قانون کے تحت ہوئی ہے یا کوئی اور طریقہ استعمال ہوا ہے۔ 

گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی پنچایت میں موجود تھے اور انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ پولیس ریفارمز پر کام تیزی سے جاری ہے۔ 

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے لکھا ہے کہ صلاح الدین کے قتل کے ملزمان کو معافی کے بدلے علاقے کے اجتماعی مسائل حل کروانے کی گارنٹی حکومت سے لی گئی ہے۔


خیال رہے کہ صلاح الدین کی دوران حراست ہلاکت کے بعد پولیس نے ان کی موت کی وجہ ہارٹ اٹیک کو قرار دیا تھا جبکہ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت سے قبل صلاح الدین پر تشدد کی تصدیق ہوئی تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close