ٹانک: مقتولین کی لاشوں کے ساتھ احتجاج

عظمت گل ۔ صحافی / پشاور

خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں گذشتہ روز قتل کیے گئے 12 افراد کی لاشیں چوک میں رکھ لواحقین نے احتجاج شروع کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز گاوں اماخیل میں نامعلوم افراد کی جانب سے انعام گروپ کے دو کارندوں کو قتل کردیا تھا جس کی اطلاع پر گینگ نے اماخیل میں درہ بین روڈ پر سواریوں سے بھری ہائی ایس وین اور یکے بعد دیگرے موٹر سائیکل سوار عام شہریوں جن میں بیٹنی اور مروت قبیلے کے افراد شامل ہیں کے12 افراد کو فائرنگ کرکے قتل کیا۔

مقتولین کی لاشیں جب ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لائی گئیں تو وہاں لواحقین نے پولیس اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی۔

رات گئے تک ڈی سی ٹانک فہد خان وزیر اور پولیس سمیت عسکری حکام نے مذاکرات کئے لیکن وہ ناکام رہے آج لواحقین نے لاشوں کو ہسپتال سے اٹھا کر ٹریفک چوک پر دھرنا دے دیا ہے۔

اس وقت شہر بھر میں تجارتی مراکز اور دکانوں سمیت ٹرانسپورٹ بند ہے ضلع بھر خوف کی فضاء ہے پولیس نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکورٹی بڑھادی ہے۔

مظاہرین شدید مشتعل ہیں ان کی قیادت جے یو آئی کے ایم پی اے محمود احمد خان بیٹنی سابق ایم پے اے غلام قادر بیٹنی اور جمیعت علماء اسلام (ف)کے سابق ضلعی امیر مولانا شریف الدین کررہے ہیں۔

مظاہرین انعام گینگ کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک قاتل گرفتار نہیں ہوں گے تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close