سمگلنگ روکنے والے ادارے کیا کر رہے ہیں؟

پاکستان میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت و ٹیکسٹائل نے سمگلنگ کی روک تھام کیلئے بارڈرز پر کسٹم حکام کی نفری بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔

مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ معیشت کو سمگلنگ سے نقصان ہو رہا ہے۔ سمگلنگ کے خلاف کارروائی والے ادارے کیا کر رہے ہیں؟ کمیٹی نے کسٹم حکام سے سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے جواب طلب کرلیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت و ٹیکسٹائل کا اجلاس سینیٹر مرزا محمد آفریدی کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں بلوچستان سے سیبوں کی سمگلنگ کا معاملہ زیر بحث آیا۔ سینیٹر کہدا بابر نے کہا کہ تربت، گوادر، پنجگور اور تفتان کورنٹائن آفیسر نہ ہونے سے سیب سمگل ہو رہے ہیں۔

سکیورٹی کمشنر ڈاکٹر وسیم نے موقف اپنایا کہ ایران سے آنے والی سیب میں کچھ بیماریاں ہیں، سیب کا کوئی امپورٹ پرمٹ جاری نہیں کیا۔

فوڈ سکیورٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ سیب کی درآمد سے کاشتکاروں کو بھی مسائل ہیں۔ سینیٹر کہدا بابرنے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کا ذریعہ معاش امورٹ کر کے بیچنا ہی ہے۔ ہمیں سمگلنگ کی حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ کسٹم افسران موجود ہیں، پلانٹ پروٹیکشن والے اپنے افسران یہاں بٹھائیں۔


مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ سمگلنگ معیشت کو بہت نقصان پہنچا رہی ہے۔ ہمیں سمگلنگ کو ختم کرنا ہے۔

اجلاس کے دوران ایف بی آر کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹماٹر اور پیاز کیلئے بھی پیسٹ کے نام پر درآمد پرمٹ نہیں دیا جا رہا۔ چیئرمین کمیٹی نے پیاز کی قیمت کے بارے میں پوچھا جس پر فوڈ سکیورٹی کمشنر نے پیاز کی قیمت 65 روپے بتائی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر مرزا آفریدی نے کہا کہ پیاز ایک سو دس روپے کلو جبکہ ٹماٹر سو روپے ہے۔ آپ کو کچھ معلوم ہی نہیں۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ گزشتہ 8 ماہ سے انڈر انوائسنگ ریونیو کے معاملات پر بات کر رہا ہوں، لیکن کچھ نہیں ہو رہا۔ آج وزیر اعظم سے اس پر بات کروں گا۔ 500 ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ روکیں، میں آخری مرتبہ آپ کو کہہ رہا ہوں۔ اگر آپ انڈسٹری کا تحفظ نہیں کر رہے تو ہم ثبوتوں کے ساتھ آپ کی نااہلی ثابت کریں گے۔

چیئرمین کمیٹی نے اداروں کو انڈر انوائسنگ کو روکنے کی ہدایت کر دی۔


سینیٹر شبلی فراز نے اعتراض اٹھایا کہ بڑے پیمانے پر سمگلنگ کو کیوں نہیں روکا جا رہا جس پر مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ وزارت تجارت نے سمگلنگ کیخلاف ایکشن نہیں لینا۔ ایکشن لینے کیلئے جو ادارے موجود ہیں وہ کیا کر رہے ہیں؟

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر کمیٹی کی ہدایات کے باوجود ایکشن نہیں ہورہا تو کیا فائدہ؟ لوگ یہاں کمیٹی میں وقت کے ضیاع کیلئے آتے ہیں کیا؟


اجلاس کے دوران بلوچستان چیمبر آف کامرس کے حکام نے کہا کہ بلوچستان میں چمن، تفتان باڈر سے سمگلنگ بہت زیادہ ہو رہی ہے۔ سیب، انار، خشک فروٹ کی پیٹیاں دو سو روپے میں سمگلنگ سے آ رہی ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کے کاروبار سمگلنگ کی وجہ سے تباہ ہو گئے۔

چئیرمین کمیٹی نے باڈر پر سمگلنگ کی روک تھام کیلئے کسٹم حکام کی نفری بڑھانے کی ہدایت کر دیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کسٹم حکام کو ہدایت کی کہ بارڈرز پر کسٹم کی نفری بڑھا کر فوری طور پر سمگلنگ کو روکا جائے۔ آئندہ کمیٹی میں جائزہ لیا جائے گا کسٹم حکام نے سمگلنگ کو کتنا روکا۔

سینیٹر مرزا آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ سمگلنگ سے مقامی انڈسٹری بند ہو رہی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close