سانحہ ساہیوال میں عدالتی فیصلہ اور کچھ فکری مغالطے

محمد کامران خان
انصاف کی فراہمی کے عمل میں ایک مسلمہ اصول ہے کہ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ سانحہ ساہیوال میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ پنجاب کے کاونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے وہ تمام پولیس اہلکار جنہوں نے ساہیوال میں تین کم سن بچوں کے سامنے ان کے ماں باپ، بڑی بہن کو صرف شک کی بنیاد پر گولیوں سے چھلنی کر کے قتل کیا تھا۔ عدالت نے ان تمام پولیس والوں کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا۔ یعنی پولیس والوں نے تو اپنے شک پر یقین کرتے ہوئے چار بے گناہ لوگوں کی جان لے لی۔ یعنی مقتولوں کو تو شک کا فائدہ نہیں ملا، لیکن قاتل شک کا فائدہ عدالت سے لے اڑے اور مقدمے سے بری ہوگئے۔ جج صاحب نے بھی اندھا انصاف کیا۔ اور قائل ہو گئے کہ دن دیہاڑے، ایک مصروف سڑک پر، ایک گاڑی میں کوئی فیملی ایک شادی میں شرکت کے لیے جا رہی ہو اور ڈیوٹی پر موجود اہلکار گاڑی کو روک کر نہتی فیملی پر جس میں کم سن بچے اور خواتین بھی موجود ہوں، گولیوں کی بوچھاڑ کر دیں۔ اور اس واقعے کی فوٹیج بھی میسر ہو، جن باوردی اہلکاروں کی ڈیوٹی ہو وہ بھی موجود ہوں، دو مختلف سطح کی تحقیقاتی رپورٹ بھی مرتب کی جا چکی ہوں تو ان تمام اسباب کے باوجود قاتلوں کو پکڑنا جج صاحب کی نظر میں بہت مشکل کام تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ سانحہ ساہیوال کا فیصلہ آیا تو کسی بھی ذی عقل اور ذی شعور آدمی کے لیے اسے ہضم کرنا مشکل نظر آیا ۔ میری نظر میں سانحہ ساہیوال کے اس فیصلے نے بہت سے قانونی، فکری، علمی اور عقلی مغالطوں کو جنم دیا ہے۔

سانحہ ساہیوال صرف قتل نہیں بلکہ قاتلانہ دہشتگردی ہے

یہ واقعہ صرف قتل عمد یا قتل خطا نہیں بلکہ ایک حد تک منظم دہشت گردی تھا ۔ اسی لیے اس مقدمہ کو تعزیرات پاکستان کے تحت نہیں بلکہ انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت عام عدالت کی بجائے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا گیا ۔ انسداد دہشتگردی کے قانون میں نہ تو مجرم کے لیے معافی کی گنجائش ہے اور نہ ہی راضی نامے یا سمجھوتے کی ۔ یعنی دہشت گردی کے ملزم کو اگر متاثرہ فریق معاف کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتا۔ اس تناظر میں قانون کے مطابق ساہیوال واقعے میں ملوث اہلکاروں کے لیے موت کی سزا کم سے کم سزا بنتی تھی۔

شک کا فائدہ 

انصاف کی فراہمی کے عمل میں شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس سفاک قاتلانہ واردات میں جج صاحب کو شک کرنے کی نوبت ہی کیسے آئی ۔ اسکا جواب بھی جج صاحب نے خود دیا ہے کہ پورے ٹرائل کے دوران 49 گواہ پیش ہوئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی گواہ ملزمان کو بطور قاتل پہچان نہیں سکا۔ فوٹو میچنگ کے لیئے ہوانے والا فرانزک ٹیسٹ بھی یہاں ناکام ہوا اور ملزمان سامنے ہوتے ہوئے بھی ہمارا پورا نظام انہیں قاتل ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

بچوں کی گواہی 

جن اننچاس گواہوں کو عدالت میں پیش کیا گیا ان میں وہ تین بد نصیب کم سن بھائی اور بہنیں بھی شامل تھیں جن کے سامنے ملزمان نے خون کی ہولی کھیلی۔ ظاہر موقع کے چشم دید گواہ یہ بچے ہی تھے۔ لیکن کیا واقعے کے مہینوں بعد ہونے والی شناخت پریڈ میں ان بچوں سے اصل ملزمان کی شناخت کی توقع رکھی جا سکتی تھی ۔ چند منٹوں کے لیئے باوردی جوان آپکو روکیں اور گولیاں برسانا شروع کر دیں تو اس نفسیاتی اور ذہنی ٹراما کے بعد کوئی بھی مظبوط اعصاب والا بھی حملہ آوروں کی شکلیں ذہن نشین نہیں کر سکتا۔ کجا یہ کہ وہ بچے جنکے ہاتھ میں دودھ کا فیڈر ہے ان سے پوچھا جائے کہ بتاو مہینوں پہلے تمھاری آنکھوں کے سامنے جب

تمھارے ماں باپ کو مارا گیا تو مارنے والے یہی تھے ناں، اور اگر بچے اپنے مجرموں کو نہ پہچان سکیں تو پھر اس بنیاد پر شک کا فائدہ ملزموں کو دینا مظلوم پر مزید ظلم کے مترادف ہے۔

یہ اندھا قتل نہیں تھا 

اندھا قتل وہ ہوتا ہے جس میں قاتلوں کا کوئی نام و نشان یا شواہد موجود نہ ہوں، تفتیش کاروں کے لیے اندھے قتل کا سراغ لگانا واقعی ایک مشکل کام ہوتا ہے ۔ لیکن یہ وہ قتل تھا جس میں شواہد بھی موجود ہیں ، قاتلوں کا نام بھی ہے اور بہت سے نشانات بھی، باوردی اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے جنکا ڈیوٹی روسٹر ، انکا محکماتی نگران، انکے دفتری ساتھی اور انکا دائرہ کار بغیر کسی غلطی کے انہیں ملزموں کے کٹہرے میں پہنچا سکتا تھا ۔ لیکن جج صاحب کو نہ تو زبان خنجر کی سمجھ آئی اور نہ ہی انہیں آستین پہ لگے لہو کی پکار سنائی دی ۔ استغاثہ نے انہیں جو کچھ کہا اس پر انہوں نے یقین کیا ۔ ٹھیک کہتے ہیں قانون اندھا ہوتا ہے ۔ لیکن جج کو اندھا نہیں ہونا چاہیے آنکھیں کھول کر انصاف کرنا چاہیے۔

کہیں بچوں کے چاچا نے دیت کے نام پر رقم وصول کر کے آوٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ تو نہیں کیا

یہ فیصلہ آیا تو فیصلے کے کچھ ہی دیر بعد اس واقعے کا مدعی محمد جلیل جو کہ بچوں کا حقیقی چاچا ہے ، اس کا ایک پچیس سیکنڈ کا بیان سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے ہو گئے ہیں۔ ہم عدالت کے فیصلے سے مطمئن ہیں اور اپنے اداروں پوراعتبار ہے۔ یہ وہی مدعی ہے جو فیصلہ آنے سے پہلے اپنے اداروں کو دہائیاں دے رہا تھا اور انصاف کی بھیک مانگ رہا تھا۔ اب وہ بہت نپے تلے الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ اس (ناقابل ہضم ) فیصلے کو ہی انصاف مان لیں اور اس پر تنقید نہ کریں۔ یعنی اسے فیصلہ آتے ہی پتہ چل گیا کہ اس فیصلے پر شدید تنقید ہونا ہے اور اسے عموی طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا ۔ شک یہ ہوا کہ شاید اس نے دیت کے نام رقم لے لی ہے اور ملزمان کو معاف کر دیا ہے ۔ چونکہ دہشت گردی کے ملزمان کے لیئے معافی یا سمجھوتہ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اس لیے شاید یہ عدالت سے باہر کیا جانے والا معاہدہ ہے جس میں ریاستی ادارے، بشمول پراسیکیوشن شامل ہیں ، اگر ایسا ہوا تو ان بچوں کی یتیمی اور ان کے والدین کے کون کی قیمت وصول کرکے ملزمان سے سودا بازی کرنے اور انہیں معاف کرنے کا اختیار شاید اسے حاصل بھی تھا تو عدالت کو اس عمل کو روکنا چاہیے تھا۔ کیونکہ اعلیٰ سول عدالتیں ایسے معاملات میں بچوں کی حق تلفی پر ملزمان کو لازمی سزا دینے کو ترجیح دیتی ہیں ۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں طیبہ تشدد کیس کا حوالہ دیا جا سکتا ۔ اس بچی پر ایک سول جج کی اہلیہ نے اپنے گھر میں تشدد کیا ۔ بچی کا باپ ایک غریب آدمی تھا جس نے فوری طور پر اس بدبودار سسٹم کے آگے ہار مان لی اور مقتدر قوتوں کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہوئے بچی پر ظلم کرنے والی خاتون کو معاف کر دیا لیکن سپریم کورٹ نے گردانا کہ یہ نہیں ہو سکتا زخم جس بچی کے جسم پر ہوں اس کی معافی کوئی اور دے دے۔ عدالت نے ملزمہ کے حق میں باپ کا بیان حلفی مسترد کر دیا ۔ اور بچی پر تشدد کرنے والی ملزمہ پر قانون کے مطابق کاروائی کا فیصلہ دیا ۔ طیبہ کا مقدمہ تو صرف ایک گھریلو ملزمہ پر تشدد کا کیس تھا سانحہ ساہیوال میں تو معصوم بچوں کے سامنے انکے والدین کو موت کی نیند سلا کر ان سے جینے کا حق چھینا گیا اور معصوم بچوں سے ساری زندگی کے لیئے جینے کا سہارا چھین لیا گیا ۔ بچوں سے ہونے والی اس زیادتی کی قیمت کوئی اور کیوں وصول کرے جب کہ قانون میں بھی اس کی گنجائش موجود نہ ہو ۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ مدعی یعنی بچوں کے چچا کو بتایا گیا کہ فیصلہ آنے کے بعد تم نے یہ بیان دینا ہے تاکہ کوئی شک نہ کرے ۔

وزیراعظم اور وزراء کی یقین دہانی 

وزیر اعظم عمران خان ان دنوں قطر کے دورے پر روانہ ہونے والے تھے جب سانحہ ساہیوال وقع پزیر ہوا ۔ ایک ریاستی ادارے کے باوردی اہلکاروں کی جانب سے بے گناہ خاندان کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے پر پوری قوم کے جذبات مشتعل تھے ۔ اسی لیے وزیراعظم نے ایک حوصلہ افزا ٹویٹ کیا کہ اس واقعے پر قوم کے جذبات مشتعل ہونا ایک فطری رد عمل ہے ، وہ قطر سے واپس آ کر ملزموں کو مثالی سزا دلوائیں گے اور پولیس کے نظام میں اصلاحات کا آغاز کریں گے ۔ اسی دوران اس وقت کے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے پارلیمنٹ میں بہت پر جوش بیان دیا کہ انہوں نے جان اللہ کو دینی ہے اس لیئے سانحہ ساہیوال میں انصاف کو یقینی بنوائیں گے ۔ اب یہی وزیر ایک دوسری وزارت کا قلمدان لیکر منشیات کے الزام میں پکڑے ایک لیگی سیاستدان کے لیئے یہی عقیدہ دہراتے ہیں کہ جان اللہ کو دینی ہے کوئی غلط بیانی نہیں ہو گی ۔ واقعاتی تاریخ نے ثابت کیا کہ ان کا اللہ کو جان دینے والا بیان تو ٹھیک تھا اور اس کے بعد جو کچھ کہا وہ غلط ثابت ہوا۔ وزیراعظم بھی اس فیصلے پر شرمندہ ہوں گے۔ کیونکہ قاتلوں کو مثالی سزا دلوانے کے بجائے انہیں قاتلوں کی بریت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اب وزیر اعظم کہتے ہیں کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف بڑی عدالت میں اپیل کی جائے گی۔

اگربری ہونے والے ملزمان قاتل نہیں تھے تو اصل قاتل کون ہیں کہاں ہیں؟

عدالتی فیصلے میں تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیا گیا کیونکہ گواہوں میں سے انہیں کوئی بطور قاتل نہیں پہچان سکا۔ یعنی جج صاحب کے مطابق انہیں بھی شک ہوا کہ شاید یہ قاتل نہیں ہیں اور اسی شک کا فائدہ ملزموں آٹھ کو دیتے ہوئے انہوں نے تمام ملزمان کو بری کر دیا ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ملزمان اصلی نہ تھے تو پھر اصل ملزمان کون ہیں اور کہاں ہیں؟

کیا پراسیکیوشن نے غلط لوگوں کو عدالتی کٹہرے میں پیش کیا۔ اور وزیر مملکت نے کن افسران اور اہلکاروں کو معطل کیا ۔ کیا وہ معطلی غلط لوگوں کی تھی ۔ ، کیا تفتیش میں اصل لوگوں کو ملزمنہیں بنایا گیا ۔

کیا ;242;تفتیشی کمیٹیاں اصل ملزمان کو چھپاتی رہیں ۔ یقینا ایسا نہیں ہوا ہو گا کیونکہ ایسا کیس جس میں وزیر اعظم سے لیکر نچلی سطح تک تمام ارباب اختیار قاتلوں کو تلاش کر رہے ہوں تو پھر قاتلوں کا بچنا تو مشکل ہوتا ہے لیکن انہیں بچانے کے لیئے سو چور دروازے کھلے رہتے ہیں ۔ جہاں سے گزر کر نہ تو آستین کا لہو دکھائی دیتا ہے ، نہ خنجر کی زبان بولتی ہے ، نہ مظلوموں کی آہ سنائی دیتیہے اور نہ ہی پوری انسانیت کا قتل محسوس ہوتا ہے ۔ یہاں پہنچ کر گواہ بھی اندھے ہو جاتے ہیں ، زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں ، دل پتھر بن جاتے ہیں اور ضمیر کی آواز سننے کی بجائے اسکا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے، پھر چاہے ایک قتل ہو یا پوری انسانیت کا قتل ۔ کوئی فرق نہیں پڑتا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close