آزادی مارچ کارواں کا ہدف

تحریر: عبدالجبارناصر

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے لوگوں کی تمام افواہوں ، خدشات، دبائو، مایوسی ، دھمکیوں اور دعووں کے برعکس حسب وعدہ 27 اکتوبر2019ء (اتوار)کو کراچی سے آپنے آزادی مارچ کا آغاز کردیا ہے اور شرکاء اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں۔

سہراب گوٹھ کے پاس سے مارچ کا آغاز ہوا اور مختلف سینئر صحافیوں حبیب خان غوری (روز نامہ ڈان )طارق ابوالحسن (جیو نیوز)، مسعود انور(جسارت)، منیر ساقی (پبلک نیوز)،مونس احمد (دنیا نیوز)، عظمت علی رحمانی (روز نامہ امت)، راجہ ثاقب (24 چینل )، خالد محمود (روز نامہ اسلام)،منیر شاہ فارقی (روزنامہ اوصاف) اور دیگر کی رائے ہےکہ مارچ کے آغاز کے وقت ’’یوم یکجہتی کشمیر کانفرنس ‘‘میں 20 سے 30 ہزار افراد شریک تھے(بعض 20 سے 25 ہزار ، بعض 25سے 30 ہزار اور بعض کی رائے کہ تقریباً 20 ہزار)۔ ہم خود بھی موجود تھے اور ہماری رائے بھی 20سے 25 ہزار افراد والوں میں ہے۔ سینئر صحافی زین کے مطابق آزادی مارچ کا آغاز تو اچھا ہے مگر جمعیت علماء اسلام ماضی میں کراچی میں جس طرح کے تاریخی جلسے کرتی رہی ہے ، اس حساب سے جمعیت علماء اسلام کے شایانہ شان تعداد نہیں تھی۔

خوف و دہشت کے ماحول اور بظاہر کامیابی(وزیر اعظم کا استعفیٰ اور نئے انتخاب ) کے کوئی آثار نظر نہیں آنے کے باوجود اتنی بڑی تعداد کی مارچ میں شرکت یہ ثابت کرتی ہے کہ جمعیت علماء اسلام کا کارکن اپنی قیادت کے فیصلوں پر ناراض، نہ مایوس اور نہ ہی حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ سے خوفزدہ ہے۔ ایک اندازہ ہے کہ سندھ اور پنجاب کی سرحد اوباڑو کراس کرتے وقت مارچ کے شرکاء کی تعداد 50 سے 60 ہزار ہوسکتی ہے ،کیونکہ سندھ کے باقی اضلاع اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع کے قافلے بھی اباڑو سے پہلے مین قافلے میں شامل ہونگے۔ جمعیت علماء اسلام سندھ کے سیکرٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو کا دعوی ہے کہ لاکھوں افراد کے ساتھ سندھ کابارڈر کراس کریں گے۔ پنجاب میں ن لیگ نے بھرپور ساتھ دیا تو اسلام آباد میں داخلے تک یہ تعداد ایک لاکھ کی حد کو بھی کراس کرسکتی ہے۔آزادکشمیر ،فاٹا ، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے قافلے بھی شامل ہونگے تو یہ تعداد اور بڑھ جائے گی۔

عام تاثر یہی ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے جلسوں کی کامیابی کی اصل طاقت مدارس کے طلباء ہیں(جزوی طور پر بات کسی حدتک درست بھی ہے،مگر کلی طور پر ایسا نہیں ہے)، آزادی مارچ کے شرکاء نے عملاً اس تاثر کی نفی کردی ہے ، کیونکہ آزادی مارچ کے آغاز کے دن مدارس میں تعلیم جاری بلکہ سختی کے ساتھ جاری تھی اور جلسہ کراچی شہر کے مختلف علاقوں سے 5 سے 40 کلومیٹر دور تھا اور وہاں پہنچنے کے لئے ارادہ ہی کرنا کسی امتحان سے کم نہیں اور پہنچنا تو شدیدنظریاتی تعلق یا مجبوری کی اعلیٰ ڈگری ہے۔ اس بار جمعیت علماء اسلام کراچی عام لوگوں کے لئے ٹرانسپورٹ کے انتظام اور دیگر معاملات میں ماضی کے مقابلے میں کافی کمزور رہی ، اگر ماحول ’’جانا ہے تو چلو گاڑی میں سوار ہوجائو اور جلسے کے بعد واپس چھوڑ دیں گے‘‘ کا ہوتا تو یہ تعداد ڈبل سے بھی زائد ہوسکتی تھی۔

سوال یہ ہے کہ 50 سے60 ہزار سے زائد افراد لیکر مولانا فضل الرحمان اسلام آباد میں داخل ہوتے ہیں تو کیا حکومت کی ٹون یہی ہوگی ؟ یہ بھی سوال ہے کہ آخر مولانا فضل الرحمان اس قدر لوگوں کو متحرک کرنے کیسے کامیاب ہوئے ؟ آخری سوال کا جواب یہی ہے کہ جمعیت علماء اسلام کی محنت سے زیادہ حکومتی وزراء بلکہ خود وزیر اعظم عمران خان کے اپوزیشن کے ساتھ غیر سنجیدہ، انتقامی اور تضحیک امیز رویہ کا اہم کردار ہے ۔ حکومت کے غلط اقدام اور فیصلوں نے لوگوں میں اور شدت پیدا کردی ہے۔حکومت اور حکومتی جماعت کے لوگوں نے میڈیا کوریج پر پابندی ،اہل مذہب پر دبائو،جعل سازی ، دھمکیوں، غدار اور انڈین ایجنٹ کے الزام سمیت ہر حربہ آزادی مارچ کو ناکام اور مولانا فضل الرحمان کو کمزور کرنے کے لئے استعمال کیا مگر نتیجہ الٹ نظر آرہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں ؟ مطالبات کلی یا جزوی طور پر پورے ہوتے ہیں یا نہیں مگر ایک بات توطے ہے کہ مولانا فضل الرحمان 50 فیصد سے زائد اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکے ہیں ۔ اس وقت قوم عملاً تین طبقوں میں تقسیم ہے ایک طبقہ حکومت ، دوسرا طبقہ اسٹبلشمنٹ اور تیسرا طبقہ اپوزیشن کا حامی ہے ، اس سے ہٹکر جو دعویٰ کرتا ہے، اس کا دعویٰ غلط ہے۔ حکومت کی بظاہر قیادت عمران خان ، اسٹبلشمنٹ کی قیادت متعلقہ حکام اور اپوزیشن کی قیادت مولانا فضل الرحمان کے پاس آچکی ہے ۔ نہ صرف چھوٹی اپوزیشن جماعتوں بلکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے بھی مولانا فضل الرحمان کو اپنا سیاسی امام تسلیم کر لیا ہے۔ اب یہ طے ہے کہ جس طرح شہید ذوالفقارعلی بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی قیادت مولانا فضل الرحمان کے والد مولانا مفتی محمود ؒ کے پاس تھی اسی طرح موجودہ حکومت کے خلاف تحریک کی قیادت بھی مولانا فضل الرحمان کے پاس آچکی ہے۔ مولانا ٖفضل الرحمان نے عملی کردار سے حکومت اور اسٹبلشمنٹ کو بتادیا ہے کہ ان کو ترنوالہ نہ سمجھاجائے اور یہ بھی کہ ان کا دامن بے داغ ہے۔ ممکن ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو آگے چل کر اس کردار کا سخت جواب بھی ملے مگر اب کام نہیں چلے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے عملی طور پر یہ بھی ثابت کردیا کہ سیاسی میدان میں مذہبی قوتوں کے حقیقی نمائندہ ان کی جماعت ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مذہبی جماعتوں میں سے صرف جمعیت علماء پاکستان مکمل ساتھ کھڑی ہے اور مولانا شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ کے فرزندہ شاہ محمد اویس نورانی ہر موڑ پر مولانا کے ساتھ ہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ تحریک شروع ہوچکی ہے اور اب حکمرانوں کا امتحان ہے کہ ایک طرف بیروز گاری، معاشی بد حالی، مہنگائی ، حکومتی اہلکاروں کی غیر سنجیدہ حرکات، غیر یقینی صورتحال اور دوسری طرف اپوزیشن تحریک کا مقابلہ کس طرح کرتے ہیں۔

حکمرانوں نے طاقت کے نشے میں کچھ کرنے کی کوشش کی تو مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ یہ طے ہے کہ تینوں طبقوں نے ملکر کوئی سنجیدہ حل نہیں نکلا تو پھر حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کی تحریک کا ایک فائدہ ضرورہے کہ بے روز گاری ، معاشی بد حالی ، مہنگائی ،حکومتی اہلکاروں کی غیر سنجیدہ حرکات ، غیر یقینی صورتحال اور مایوسی کے شکار افراد کو امید کی کرن نظر آئی ہے ،جس سے انارکی کا خطرہ کم ہوگیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close