جسٹس فائز کی جاسوسی کے لیے برطانوی کمپنی کی خدمات

سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کیخلاف آئینی درخواستوں پرسماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کی جائیدادوں کی تفصیل کے حصول کیلئے برطانوی پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسی سے جاسوسی کرائے جائے کا انکشاف ہوا ہے۔ جج اور اُن کے اہل خانہ کی جاسوسی کیلئے کون سے ہتھکنڈے آزمائے گئے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریری بیان خلفی جمع کرانے کا بھی کہا ہے۔

رپورٹ ج ع

سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطاءبندیال کی سربراہی میں د س رکنی فل کورٹ نے صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کی ۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے ریفرنس کے پیچھے چھپے کرداروں اور اُنکی بدنیتی سے پردہ اٹھاتے یہ انکشاف کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی سر بمہر لفافے میں بیان خلفی دینے کو تیار ہیں اُنکے اہل خانہ کی جائیدادوں کی تفصیل حاصل کرنے کیلئے برطانوی پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کی گئیں،جسٹس قاضی فائز بیان خلفی میں حقائق، حادثات کا زکر کریں گے جن میں ان کی اور بیوی بچوں کی جاسوسی کی جاتی رہی،جاسوسی کس طرز پہ کی گئی؟کیا جج اور ان کی فیملی کے فون ٹیپ ہوتے رہے؟ کیا جج اور اس کے اہل خانہ کے ای میل ہیک کیے گئے؟کیا پروٹوکول افسر کے زریعے جاسوسی کی گئی؟جسٹس قاضی فائز عیسی سربمہر لفافے میں بیان خلفی دینے کو تیار ہیں۔

اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کا بیان خلفی جمع کرانے کی دلیل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت زیر سماعت مقدمے میں شواہد پیش نہیں کیے جاسکتے، جاسوسی کو ثابت کرنے کا فورم الگ ہے۔

ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے کہا میرا سوال یہ ہے ڈوگر کو جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ اور بچوں کی پراپرٹی کا پتہ کیسے ملا،ڈوگر کبھی لندن نہیں گیا۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں ڈوگر کیلئے یہ ناممکن تھا کہ پتہ معلوم کرے، آپ پیش آنے والے حادثات اور واقعات سے جاسوسی کا نتیجہ اخذ کررہے ہیں، آپ بدنیتی ظاہر کرنے کیلئے یہ دلیل دے رہے ہیں۔منیر اے ملک بولے وفاقی حکومت نے خود یہ وضاحت نہیں دی انھیں لندن جائیدادوں کی تفصیل کیسے ملی۔

کیس کی سماعت کے دوران ججز اور ایڈووکیٹ منیر اے ملک کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا ۔جسٹس منیب اختر نے پوچھا کیا سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل کو فیصلہ کرنے کیلئے معاملہ بجھوا سکتی ہے ۔منیر اے ملک نے جواب دیا سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار محدود ہے وہ ایسا نہیں کرسکتی ،بدنیتی ،دائرہ اختیار سماعت سے تجاوز ، ناقابل سماعت معاملے پر سپریم کورٹ کو جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہے ،جوڈیشل کونسل کا اختیار ڈومیسٹک فیکٹ فائینڈر جیسا ہے ۔جسٹس منصور علی شاہ بولے جج کے کنڈکٹ کا جائزہ لینے والی کونسل صدر کے کنڈکٹ پر کیسے کارروائی کر سکتی ہے۔جسٹس عمر عطاءبندیال برجستہ بولے پہلے جسٹس منیب اختر کے سوال کا جواب دیں، اسکے بعد جسٹس منصور علی شاہ کے سوال پر آئیں۔منیر اے ملک نے کہا سپریم جوڈیشل کونسل میں میرا اختیار صرف عائد کیے گئے الزامات کا جواب دینا ہے ،ریفرنس سے متعلق بدنیتی جیسے دیگر عوامل کا جائزہ لینا سپریم کورٹ کا اختیار ہے ۔

ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے دلائل میں مزید کہا اُنکی اہلیہ کو ٹیکس ریٹرنز فائل نہ کرنے پر ایف بی آر نے تین نوٹس جاری کیے ،تینوں نوٹس میرے موکل کے اُس گھر کے پتہ پہ بھیجے گئے جو انیس سو ستانویں میں وہ فروخت کر چکے تھے ۔جسٹس منصور علی شاہ بولے یہ حیران کن ہے ۔

ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے کہا صدارتی ریفرنس دائر ہونے کے بعد بھی ایسٹ ریکوری یونٹ جسٹس قاضی فائز کیخلاف تحقیقات کرتا رہا۔جسٹس منصو رعلی شاہ بولے صدر اور وزیراعظم کے علم میں لائے بغیر تحقیقات کیسے ہوئی۔جسٹس مقبول باقر بولے جج کے خلاف تحقیقات صرف سپریم جوڈیشل کونسل نے کرنی ہوتی ہے۔منیر اے ملک نے کہا انتظامیہ کی جانب سے عدلیہ کو نشانہ بنایا گیا،انتظامیہ نے عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ جسٹس منیب اختر نے کہا صدر کا کردار تو صرف ڈاکخانہ کا ہے۔منیر اے ملک نے کہا صدر صرف ڈاکخانہ ہی نہیں بلکہ وہ اپنی رائے دینے کے پابند بھی ہیں،ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ کے دو پاسپورٹ ہیں،تاثر دیا گیا کہ انھوں نے سپین میں اپنا نام مختلف بتایا،غلط تاثر دے کر کہا گیا کہ بے نامی جائیدادیں بنائی ہیں،جبکہ سپین کے قانون کے مطابق نام مختلف انداز سے لکھا جاتا ہے۔

منیر اے ملک نے کہ ریفرنس دائر کرنے کے بعد مواد اکٹھا کرنا جوڈیشل کونسل کا کام ہے،سیاسی انتقام کے لیے عدلیہ کو استعمال کیا جا رہا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کیا صدر مملکت وزیر اعظم کو استعمال کر سکتا ہے۔منیراے ملک بولے صدر مملکت کے آفس کا مرتبہ زیادہ اہم ہے۔


سپریم کورٹ ریفرنس میں اکھٹے کیے گئے مواد میں قانونی خلاف ورزیوں کو دیکھ سکتی ہے،سپریم کورٹ بدنیتی کا جائزہ بھی لے سکتی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار محدود ہے وہ ایسا نہیں کر سکتی،جوڈیشل کونسل کا اختیار ڈومیسٹک فیکٹ فائینڈر جیسا ہے، کونسل میں میرا گراو ¿نڈ بہت محدود ہوگا۔عدالت کے اختتام پر عدالت نے ایڈووکیٹ منیر اے ملک کے دلائل کی تعریف کی ۔کیس کی سماعت چار نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close