سقوط کشمیر،مراحل اور ہمارا کردار!

تحریر: عبدالجبار ناصر


پہلا مرحلہ: یکم اگست 2019سے قبل، ہم مکمل لاعلم رہے کہ مودی کشمیر کے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔ ہم تو مودی کی جیت کی خواہش کا اظہار اور دعا بھی کرتے رہے۔ مودی نے اس کابھرپور فائدہ اٹھایا اور کارروائی کرڈالی۔ مودی کے مذموم عزائم سے لاعلم رہنا ہماری حکومت اور ریاستی خفیہ اداروں کی بدترین ناکامی اوراگر دانستہ لاعلمی یا خاموشی ظاہر کی گئی ہے تو جرم بلکہ ملک اور کشمیریوں سے غداری ہے۔

دوسرامرحلہ: یکم سے 5 اگست 2019 تک، یہ 5 دن انتہائی اہم تھے اور ہم دنیا کو کشمیر کی صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرکے مودی کو انتہائی قدم سے روک سکتے تھے مگر یکم سے 5 اگست کو مودی کے فیصلے تک دنیا کو آگاہ کرنا تو دور کی بات ہے ہم مدلل ایک بیان بھی جاری نہیں کرسکے اور موت کی سی خاموشی رہی۔

تیسرا مرحلہ: 5 اگست سے 27 ستمبر 2019 تک، اس عرصے میں ہم دنیا کو قائل کرنے میں مکمل ناکام رہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر انسانی المیہ کی تیاری کر رہا ہے، نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی حقوق کمیشن میں درخواست جمع کرانے کے لئے ہمیں 47 میں صرف 16 ووٹ بھی دستیاب نہ ہوسکے حالانکہ 10 سے زائد مسلم ممالک اس کے ممبر ہیں۔ 47 میں سے بیشتر ممالک ماضی میں ہمارے کشمیر موقف کے حامی رہے ہیں مگر قرار داد کے لئے ہم ان کو قائل کرنے میں مکمل ناکام رہے، یہ ہماری بدترین سفارتی ناکامی ہے۔

چوتھا مرحلہ: 27 ستمبر 2019 کو ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب نے اقوام متحدہ میں جوش تقریر (تقریر میں بھی کشمیر کے حوالے سے کئی حماقتوں سے اختلاف اپنی جگہ)کی اور خوب داد سمیٹی، اس تقریر کا مقصد بھی سنجیدہ کوشش نہیں بلکہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور اپنے آپ کو عالمی قائد اعظم ثابت کرنے کی لا حاصل کوشش تھی۔

پانچواں مرحلہ: 27 ستمبر 2019 سے 25 اکتوبر 2019 تک، ہم مودی کو اپنے 5 اگست کے اقدام سے مزید آگے بڑھنے سے روکنے میں مکمل ناکام رہے اور 25اکتوبر 2019 کو مودی نے 5 اگست کے فیصلے مطابق دو لیفٹنٹ گورنرز کا تقرر کیا۔ بدقسمتی دیکھئے کہ ہمارا میڈیا، صحافی، دانشور، سیاستدان اور مکمل لاعلم یا دانستہ خاموش رہے اور حکومت کی جانب سے بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

چھٹا مرحلہ: 31 اکتوبر2019کو(آج) مودی 173 سال کی ریاست جموں و کشمیر کو مکمل ضم کررہاہے اور ہم خاموش ہیں۔ 31 اکتوبر 2019 کا دن ریاست کا آخری دن ہے کہ اس کی 173 سالہ ریاستی حیثیت کو ختم کرکے وفاق کے زیر انتظام دو اضلاح کی شکل دی گئی ہے اور ریاستی حیثیت کے خاتمے اور انضمام کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی نے بڑے پیمانے پر جشن کا پروگرام ترتیب دیا ہے۔

ساتواں مرحلہ: 31 اکتوبر 2019 کے بعد کے لئے ہمارے پاس کوئی روڈ میپ ہے اور نہ ہی حکمت عملی واضح نہیں ہے۔

اب فیصلہ ہم خود کریں کہ مجرم کون ہے ؟ سقوط کشمیر کا زمہ دار کون ہے؟ تاریخ ہمیں کس نام سے یادکیا جایے گا؟
کیا ہمارا کردار کشمیر فروشوں کا نہیں ہے؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close