جسٹس فائز کیس میں ججز کی آبزرویشن

سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کیخلاف آئینی درخواستوں پر سماعت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے کہا ہے کہ ہراسگی اور تضحیک کو ثابت کرنے کیلئے جج کو بالوں سے پکڑ کر گھیسٹنے، جج اوراُس کے اہل خانہ کو نظر بند کرنے کے معیارپر نہیں جانچنا چاہیے ،جج اور اُس کے اہل خانہ کی جاسوسی اور نجی زندگی میں مداخلت بھی تضحیک اور ہراساں کرنا ہے، وزیر اعظم عمران خان نے غیر قانونی طور پر کابینہ کو بائی پاس کرکے آئینی اختیار سے تجاوز کیا۔

رپورٹ: ج ع

جسٹس عمر عطاءبندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی فل کورٹ نے مقدمے کی سماعت کی ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیراے ملک نے دلائل میں کہا جج کیخلاف شواہد اکھٹے کرنے کیلئے صدر کی باضابطہ اجازت ضروری ہے ،جج کیخلاف صدارتی ریفرنس بھیجنے کا اختیار فیڈریشن کو حاصل ہے ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے روشنی میں فیڈریشن کا مطلب کابینہ ہے ،وزیر اعظم نے اس معاملے پہ غفلت کا مظاہر ہ کیا ۔جسٹس فیصل عرب نے سوال اٹھایا فرض کریں کونسل جج کو ہٹانے کی سفارش کرے ، حکومت تبدیل ہونے کی صورت میں کیا نیا وزیر اعظم صدر کو سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر عمل سے روک سکتا ہے ؟منیر اے ملک نے جواب دیا اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تعیناتی اور برطرفی وفاق کا ایگزیکٹو اختیا رہے ، صدر مملکت کا ڈیسک پوسٹ آفس نہیں ہے ،صدر مملکت کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ دیکھے شواہد کیسے اکھٹے کیے گئے ۔جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہاآرٹیکل 209 صرف اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے متعلق نہیں ہے ،الیکشن کمیشن کے اراکین ،آڈیٹر جنرل کو بھی اسی آرٹیکل سے ہٹایا جاتا ہے ،آرٹیکل 209کی ایسی تشریح نہیں چاہتے جس سے کسی کو عہدے سے ہٹایا ہی جا سکے ۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل میں مزید کہا ہراسگی کو ثابت کرنے کیلئے جج کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹنا،جج اور اُسکے اہل خانہ کو گھر وں میں بند کرنے کا معیار نہیں ہونا چاہیے ،جج اور اُسکے اہل خانہ کی جاسوسی اور نجی زندگی میں مداخلت بھی تضحیک اور حراساں کرنا ہے ،عدالت کو طے کرنا ہوگا ججز کے معاملے میں ایگزیکٹو کے کیا اختیارات ہیں،سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس اصول وضع کرنے کا اختیار نہیں،آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ وزیراعظم کو ہے انکے اقدامات کو نہیں۔جسٹس عمر عطا ءبندیال نے کہا استثنیٰ وزیراعظم اور وزراءکی ذاتی زندگی اور فوجداری جرائم پر نہیں ہوتا،کیا ججز کو حاصل استثنیٰ وزیراعظم سے زیادہ مضبوط نہیں؟ججز کے کردار پر تو پارلیمان میں بھی بحث نہیں ہو سکتی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل نے دلائل میں مزید کہا وزیر اعظم عمران خان نے غیر قانونی طور پر کابینہ کو بائی پاس کیا ،آئینی اختیار سے بھی تجاوز کیا ،شواہد اکھٹے کرنے میں قانونی خلاف ورزیاں کی گئیں ،تحریک انصاف کی طرف سے فیض آباد دھرنا کیس میں دائر کردہ نظر ثانی درخواست بھی اس کی عکاس ہے ۔جسٹس عمر عطاءبندیال بولے وہ درخواست واپس لے لی گئی تھی ۔منیر اے ملک نے کہا تحریک انصاف کی نظر ثانی درخواست حکومتی مائنڈ سیٹ کی عکاس ہے ۔جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا عدالت کسی کے سٹیٹ آف مائینڈ کا کیسے جائزہ لے سکتی ہے،عدالتیں شواہد کاجائزہ لیتی ہیں ۔ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے کہا کیا وزیر اعظم نے ریفرنس پر اپنی سفارش نیک نیتی کیساتھ دی؟جسٹس قاضی فائز عیسی کا خفیہ دیٹا ایف بی آر سے لیا گیا۔

وفاقی وزیر قانون کی بدنیتی پر دلائل دیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل نے کہا وفاقی وزیر قانون ایم کیو ایم سے تعلق رکھتے ہیں،ایم کیو ایم کی فیض آباد دھرنا کیس میں نظر ثانی کی درخوست زیر التوا ہے، وزیر قانون نے غیر آئینی طور پر کابینہ کی بجائے سمری وزیر اعظم کو بھیجی ،ایسٹ ریکوری یونٹ نے کابینہ کی منظوری کے بغیر تحقیقات کیں ،ریفرنس دائر ہونے کے بعد ایسٹ ریکوری یونٹ کو تحقیقات کا کہا گیا ، صدارتی ریفرنس غیر آئینی اور اختیار ات سے تجاوز ہے وحید ڈوگر کی شکایت صدر مملکت کے سامنے نہیں رکھی گئی۔جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا آپکے مطابق جج سے ذاتی عناد ہو بھی تو صدر کچھ نہیں کر سکتا ،اگر کسی ادارے کے پاس جج سے متعلق کوئی معلومات ہوتو وہ کیسے کاروائی کرے گا۔منیر اے ملک نے جواب دیا ادارے کے قوانین کو مدنظر رکھنے کے ساتھ اسکو اجازت لینا بھی ضروری ہوگی۔

مقدمے کی سماعت بدھ ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close