کشمیر پر ہماری کمزوریوں کا انڈیا نے فائدہ اٹھایا، وزیراعلی گلگت بلتستان

مودی کے عزائم خطرناک ہیں، مضبوط پالیسی بنانا ہوگی، سابق چیف جسٹس نے ہماری آئینی پوزیشن پیچیدہ بنادی، حافظ حفیظ الرحمن

وزیراعظم نے حالیہ دورے میں کوئی اعلان نہیں کیا، خطے کو کشمیر سے جوڑنا ہے، شونٹر پاس کیلئے 250 ارب درکار ہیں، خصوصی انٹرویو


انٹرویو: عبدالجبارناصر


وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان جون 2015 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ وہ مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صوبائی صدر بھی ہیں اور ان کے بڑے بھائی سابق صوبائی مشیر سیف الرحمن شہید بھی مسلم لیگ(ن)گلگت بلتستان کے صدر رہے۔ ان کی شہادت کے بعد 2004ء میں گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور 2009ء تک فعال کردار ادا کیا۔ حافظ حفیظ الرحمان کا شمار سابق وزیر اعظم پاکستان اور مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کے خاص ساتھیوں میں بھی ہوتاہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان متحرک اور فعال وزیر اعلیٰ ہیں ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان سے خطے میں 5 اگست کو بھارتی جارحیت اور اس کے اسباب، مودی کے اقدام کے اثرات اور مذموم عزائم ، مستقبل کی حکمت عملی ، گلگت بلتستان کی آئینی اور قانونی پوزیشن، حکومت کی چار سالہ کارکردگی اور انتخابی منشور پر کس حد تک عمل ہوا،گلگت بلتستان کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے ، وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ گلگت بلتستان ،چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)میں گلگت بلتستان کے حصہ،آزاد کشمیر گلگت بلتستان کو جوڑنے کے اقدام ،چار سال میں بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں ہوسکے ،چھٹی مردم شماری 2017ء کے بعد اسمبلی کی نشستوں میں اضافے اور اعلان کردہ چار نئے اضلاع کی قانونی پوزیشن سمیت کئی ایشوز پر گفتگو ہوئی ، جو نظر قارئین ہے۔

عبدالجبارناصر: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو نہ صرف اپنی یونین میں ضم کردیا بلکہ 173 سال بعد ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو اپنا آئینی حصہ ظاہر کیا ہے ، ایسا کیونکر ممکن ہوا ؟
حافظ حفیظ الرحمان:ریاست جموں و کشمیر کا معاملہ 70 سال سے اقوام متحدہ میں ہے اور بھارت خود اقوام متحدہ میں لیکر گیا ہے مگر یہ بات قابل غور ہے کہ اقوام متحدہ اور پوری دنیا کو نظر انداز کرتے ہوئے مودی نے کشمیر پر حملہ کیوں کیااور اس کو یہ جرات کیسے ہوئی کہ ریاست جموں و کشمیر کی پونے 200 سالہ تاریخی حیثیت کو ختم کرے اور 5 اگست کو نہ صرف ریاست کو بھارت میں ضم بلکہ مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کردے ۔ میری نظر میں مودی نے ہماری معاشی کمزوری ،ملک میں سیاسی عدم استحکام ،آئی ایم ایف کے سامنے اپنے آپ کو انتہائی کمزور بناکر پیش کرنے اور پھر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)کے سامنے مکمل سرینڈر ہونا ہے ۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط کی وجہ سے ہم نے بالکل پسپائی اختیار کی یہاں تک کہ لفظ ’’جہاد ‘‘پر بھی عملا پابندی عائد کردی ہے اور کشمیر کے حوالے سے ہماری حکومت اور لیڈر شپ نے کمزوری کا مظاہرہ کیا ہے۔ہم اپنی اندرونی سیاسی انتشار کا شکار رہے، حکومت کی توجہ سیاسی مخالفین پر ہی رہی اور مودی نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ۔ اقوا م متحدہ کی قراردادوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بھارت نے اپنے طیں ریاست جموں وکشمیر کو اپنی یونین میں ضم کیا ہے اور اب ایک نئے نقشے میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بھی اپنا حصہ ظاہرکیا ہے، جو اقوام عالم کے لئے بھارت کا چیلنج ہے۔ شاید ہماری قومی قیادت کو آج بھی اس کا ادراک نہیں ہے کہ بھارت کیا کرنے جارہا ہے اور مستقبل کے حوالے سے کیا ارادے ہیں۔

عبدالجبارناصر: گلگت بلتستان منقسم ریاست جموں و کشمیر کا حصہ اوربھارتی فیصلے کے گلگت بلتستان میں کیا اثرات مرتب ہونگے ؟
حافظ حفیظ الرحمان:گلگت بلتستان پر بھارت کے فیصلے کے کوئی اثرات مرتب نہیں ہونگے ، بھارت اس طرح حملے کی جرات کرنہیں سکتا ہے اور کوئی جارحیت کی کوشش کی گئی تو منہ توڑ جواب ملے گا ۔گلگت بلتستان کے عوام نے یکم نومبر 1947ء سے اگست 1948ء تک اپنی مدد آپ ڈوگروں سے آزادی حاصل کی اور اپنا مستقبل پاکستان سے جوڑا ہے ۔ہم اپنے بزرگوں کے فیصلے پر خوش ہیں اور اس وقت کرگل اور لداخ میں باقاعدہ ایک مہم چل رہی ہے کہ ہم نے گلگت بلتستان کے ساتھ شامل ہونا ہے،یہ ہمارا وژن ہے ۔ چند سال قبل تک ہمارے ہاں ’’کرگل چلو‘‘ کی بات ہورہی تھی ، اس کی وجہ بھی چند مسائل تھے اور اللہ کا شکر ہے کہ ہم ان مسائل کو حل کرنے میں کامیاب رہے اور اب مقبوضہ کرگل لداخ میں ’’بلتستان چلو ‘‘ کی مہم چل رہی ہے ۔بنیادی وجہ یہاں کی ترقی اور لوگوں سے تہذیبی ، ثقافتی اور قلبی تعلق ہے ۔ ہم نے بلتستان میں اپنے دور میں کئی بڑے ترقیاتی منصوبے دئے ہیں ، جو مکمل ہوئے ہیں یا تکمیل کے مراحل میں ہیں ، 100 ارب سے زائد کی رقم خرچ کی ہے۔ گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے مگر ریاست جموں و کشمیر کا حصہ نہیں ہے ۔ میرا حکومت پاکستان اور قومی قیادت کو مشورہ ہے کہ حکومت کشمیر کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز جس میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کی آزادی پسند قوتوں کو اعتماد میں لیکر ایک مضبوط ، مربوط اور مستحکم حکمت عملی طے کرے اور ملک میں سیاسی استحکام پیدا کریں جس سے معاشی استحکام آئے گا یہی بہترین راستہ ہے۔ آج مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حق میں کلمہ خیر کہنے والا ایک فرد بھی نہیں ہے۔ وادی کے 80 لاکھ انسان عملا قید میں ہیں۔ لیڈر شپ جیلوں میں ہے اور 3 ماہ سے نظام زندگی مفلوج ہے۔مکمل لاک ڈائون ہے ۔ جموں اور کرگل لداخ کے عوام بھی ریاست کی تقسیم اور بھارتی جارحیت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ یعنی مقبوضہ کے ایک کروڑ 30 لاکھ عوام کسی صورت مودی کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہم نے بہتر کردار ادا کیا تو مودی کو اپنا یہی فیصلہ گلے پڑے گا۔ اس مرحلے پر ہمیں مظلوم کشمیری عوام کو تنہا نہیں چوڑ چاہئے، ان کی مدد کے لئے ہر فورم استعمال کرنا ہوگا، ورنہ ایسا نہ ہوکہ ہماری کمزوری کی وجہ سے کشمیری ہم سے بدل ہوجائیں۔ کشمیریوں کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ اور پاکستانی حکومت اور قیادت کو متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔

عبدالجبارناصر:آپ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کا ریاست جموں و کشمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے، تاریخی ریکارڈ تو اپنی جگہ اب تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی کہدیا ہے کہ گلگت بلتستان راست کا حصہ ہے؟
حافظ حفیظ الرحمان:سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے گلگت بلتستان کے حوالے سے فیصلے نے نہ صرف گلگت بلتستان کے عوام بلکہ حکومت پاکستان کیلئے بھی کئی مشکلات پیدا کردی ہیں اور پروپیگنڈے کے لئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے فیصلے نے مخالفین کو باقاعدہ ایک سرکاری ڈاکیومینٹ فراہم کردیاہے ۔ہم مسئلہ کشمیر کا حصہ ہیں لیکن سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریاست جموں وکشمیرکا حصہ قرار دیاہے ،یقینا اس سے گلگت بلتستان کے اور پاکستان کے لئے بھی مشکلات پیدا ہوں گی، گلگت بلتستان کی ایک پوزیشن وہ بھی ہےکہ کچھ علاقے ریاست کا حصہ نہیں رہے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے مقامی ایشوز کے حوالے سے نظر ثانی کیلئے عدالت میں گئے ہیں اور وفاق بھی گیا ہے ۔ گلگت بلتستان کے آرڈر 2018ء میں ججز عمر کی 65سال ہے لیکن سابق چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں 70کردیاہے حالانکہ دیگر صوبوں میں بھی یہی ہے ، گلگت بلتستان کونسل کو دوبارہ سے بحال کردیاگیاہے۔ ہم نےنظر ثانی کی اپیل کی ہے اور وفاق بھی اپیل پر گیاہے۔

عبدالجبارناصر:آپ کی 5 سالہ مدت مکمل ہونے میں چند ہی ماہ رہ گئے ہیں ، آپ نے اپنے منشور میں آئینی حقوق کا وعدہ کیا تھا ، 4 سال میں اپنے انتخابی وعدے کس حدتک پورے کئے ؟
حافظ حفیظ الرحمان:ہم نے 2015ء میں مسلم لیگ (ن)کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ(ن) کے پلیٹ فارم سے ایک انتخابی منشور کے تحت الیکشن لڑا اور عوام نے ہم پر اعتماد کیا۔منشور میں ہم نے کہاتھاکہ زیادہ سے زیادہ اختیارات دلانے کی کوشش کریں گے اوروعدے کے مطابق گلگت بلتستان آرڈر 2018 ءمیں ہم اس مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں اور اب انتظامی طور پر گلگت بلتستان کی وہی پوزیشن ہے جو دیگر صوبوں کی ہے اور گلگت بلتستان اسمبلی کی بھی عملی طور پر وہی حیثیت ہے جو دیگر چاروں صوبائی اسمبلیوں کی ہے ۔ ہمیں دیگر صوبوں کے برابراختیارات مل گئے ہی اور گلگت بلتستان اسمبلی بھی 18 ویں ترمیم کے مطابق قانون سازی میں دیگر صوبائی اسمبلیوں کی طرح بااختیار ہے۔ 25 جون 2015؍ء کو ہمیں حکومت ملی اور پانچ سالہ مدت 26جون 2020ء کو کو مکمل ہورہی ہے۔4 سال 4 ماہ میں ہم نے کئی اہداف حاصل کئے ہیں ۔مالی سال 16-2015 ء میں ہم نے پہلا بجٹ دیا جو 32ارب روپے کا تھا اور مالی سال 20-2019 کے لیے 63 ارب روپے کا بجٹ دیا ، ہمارا بجٹ 4 سال میں ڈبل ہوا۔ ہم نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں مجموعی طور پر کھربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے وفاقی گرانٹ سے شروع کئے، جن میں سے کئی مکمل اور بعض تکمیل کے مراحل میں ہیں ۔ ہم نے ہسپتالوں کی صورتحال بہتر بنائی ، تعلیمی شعبے میں بہتری لائے ، ڈاکٹروں اور اساتذہ کی کمی کو دور کیا، سیاحوں کیلئے یہاں پر رہائش کے حوالے سے مشکلات ہوتی تھیں ہم نے اس کو مشکلات دور کرکے مزید بہتر کردیاہے اور کئی گنا سہولیات میں اضافہ بھی کیاہے، ہسپتالوں میں بیڈز کی تعداد میں پہلے کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ کیاہے ۔2015ء کے مقابلے میں آج گلگت بلتستان میں صورتحال بہت بہتر ہے۔ہم نے ہر فورم پر مدلل انداز میں گلگت بلتستان کے عوام کا کیس پیش کیا ، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی تھی۔

عبدالجبارناصر:چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا گیٹ وے گلگت بلتستان ہے مگر ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے گلگت بلتستان اتنی بڑی سرمایہ کاری میں کہیں نظر نہیں آرہا ہے ، یہ آپ کی حکومت کی کمزوری ہے یا کوئی اور وجہ ؟
حافظ حفیظ الرحمان :یہ بات درست ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا گیٹ وے گلگت بلتستان ہے اور 600 کلومیٹر سے زائدکی پٹی گلگت بلتستان سے گرزتی ہے ۔در اصل لوگ سی پیک کے کاغذات کا مطالعہ نہیں کرتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے باتیں کرتے ہیں۔ بنیادی طورپر سی پیک میں چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے باہمی اشتراک کے منصوبے ہیں اور اس میں کمپنیاں اس میں سرمایہ کاری کرتی ہیں ۔ گلگت بلتستان میں بجلی کے دوبڑے منصوبے رکھے گئے لیکن جب ٹیرف (قیمت )پر بات آئی تو وہ تقریباً 12 روپے بنتے تھے اور یہاں کے لوگوں کیلئے اس کی ادائیگی تقریبا ناممکن ہوجاتی ، بزنس مین یقینا اپنے لیے فائدہ ہی سوچے گا ،مگر ہم عوامی نفع دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے سی پیک کے میں سرمایہ کاری کی دشواری کو دیکھ کر سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف سے بات کی اور انہوں نے کمیٹی تشکیل دی کہ گلگت بلتستان کے لوگوں پر بغیر بھوج ڈالے بغیر سی پیک کا فائدہ کیسے پہنچے ، جس پر یہ طے ہواکہ گلگت بلتستان کے منصوبے وفاقی فنڈز سے مکمل کیے جائیں، تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے ۔گلگت بلتستان سی پیک کا گیٹ وے ہے اس کے فوائد اکنامک زون کے حوالے سے بھی کئی منصوبے بھی ہیں ۔ ہماری کوشش یہ ہے گلگت بلتستا ن کے اہم معاشی اور معاشرتی ایشوز کو حل کیاجائے ۔

عبدالجبارناصر: وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں گلگت بلتستان کا دورہ کیا ، کیا اہم فیصلے ہوئے ؟
حافظ حفیظ الرحمان: وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے حالیہ دورہ گلگت بلتستان کے دوران ہم نے گلگت بلتستان کے منصوبوں کے حوالے سے بات کی ہے ، جن پر وفاق نے کٹ لگایا ہے ، مگر وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ مزید فنڈز کی فراہمی ممکن نہیں ہے ،اسی فنڈ پر ہی گزارہ کرلیں ۔ جس کی وجہ سے ہمارے لئے مشکلات پیدا ہورہی ہیں ۔امید تھی کہ وزیر اعظم صاحب خطے کے لئے کو اہم اعلان کریں گے یا کوئی بڑا منصوبہ ہی دیں گے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ،صرف دورہ ہی رہا۔

عبدالجبارناصر:شونٹر پاس بڑا اہم منصوبہ بلکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اورپاکستان کے درمیان ایک متبادل راستہ تھا ، اس کو کیوں ختم کیا گیا؟
حافظ حفیظ الرحمان :شوٹر پاس کیلئے 80 ارب روپے رکھے گئے تھے اورفیز بلٹی بھی بنی تھی جس میں مجموعی تخمینہ 250ارب روپے لگایاگیا اور یہ شونٹر پاس پورے سال کیلئے نہیں صرف 6 ماہ کیلئے ہے ۔ہمیں سیکیورٹی خدشات کا بھی اظہار کیاگیا ۔ مزید بہتر جواب وفاقی حکومت ہی بہتر دے سکتی ہے۔ ہم نے گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کو زمینی راستے سے جوڑ نے کے لئے ایک منصوبہ بنیایاہے۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں نے مل کر مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے ہیں دونوں حکومتوں نے برابر ی کی بنیاد پر 40 کروڑ روپے مختص کیے ہیں ۔آزاد کشمیرکی وادی نیلم کے گاوں تائوبٹ سے براستہ ’’گگے نالہ‘‘ گلگت بلتستان کے ضلع استور کی وادی قمری کو ملانا ہے اور اس حوالے سے جوائنٹ کمیٹی تشکیل دی ہے جو جلد سڑک کی تعمیر کاسروے مکمل کرے گی ۔یہ منصوبہ اہم ہے اور دونوں خطوں کو ملائے گا۔

عبدالجبارناصر:آپ کی حکومت نے عوام سے فوری بلدیاتی انتخابات کا وعدہ کیا مگر سوا چار سال بعد بھی آپ بلدیاتی انتخابات کرانے میں ناکام رہے ،کیا یہ آپ کی حکومت کارکردگی پر سوالیہ نشان نہیں ہے؟
حافظ حفیظ الرحمان:میں اس بات کا اعتراف کرتاہوں ہوں کہ 4سالوں میں بلدیاتی انتخابات کا نہ ہونے سے کئی سوالا ت اٹھ رہے ہیں اور جائز بھی ہیں ،کیونکہ ہم نے وعدہ کیا تھا۔ بلدیاتی انتخابات 2015ء میں نہیں ہوئے اور جب ہماری حکومت آئی اس وقت بلدیاتی نظام نہیں تھا ، ہم نے پہلے سال میں ہی چاروں صوبوں کے بلدیاتی نظام کے جائزہ کے بعد اپنا بلدیاتی ایکٹ تیار کرکے اسمبلی سے منظور کروایا اور بلدیاتی انتخابات کرانے تھے کہ مرد م شماری 2017ء کا معاملہ سامنے آیا اور گلگت بلتستان کے الیکشن کمشنر نے کہا کہ مردم شماری 2017ء کے نتائج کے بعد حلقہ بندی کی جائے گی ۔مردم شماری کی عبوری رپورٹ ہم نے حاصل کرکے الیکشن کمشنر کو بھیج دی ، مگر کچھ عرصہ بعد ہی ان کی مدت ملازمت مکمل ہوئی اور نئے الیکشن کمشنر کی تقرری کے لئے وفاق کو خطوط لکھے مگر 8 ماہ تک یہ عہدہ پر نہیں ہوا ، کچھ عرصہ قبل الیکشن کمشنر کا تقرر ہوا ہے تو بلدیاتی حلقہ بندی کے لئے ان کو کہا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ مردم شماری 2017ء کے حتمی نتائج ضروری ہیں جو ابھی تک جاری نہیں کئے گئے ہیں۔ ہم اپنے دور میں بلدیاتی انتخابات کرانا چاہتے تھے اور فنڈز بھی رکھا ہے ۔ اب ایک نئی پیچیدگی یہ پیدا ہوئی ہے کہ گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات بھی پاکستان کے انتخابی قوانین کے مطابق ہوتے ہیں مگر انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء کا دائرہ گلگت بلتستان تک نہیں بڑھایا گیا ہے ،ہم نے اس ضمن میں وفاق سےبات بھی کی ہے۔ انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء کا دائرہ گلگت بلتستان تک نہ ہونے کی وجہ سے ہنزہ میں گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی ایک نشست کئی ماہ سے خالی ہے اور قانونی پیچیدگی کی وجہ یہ انتخابات نہیں ہورہے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے اور عوامی نمائندوں کا انتخاب نہ ہوسکا لیکن ہم نے بلدیاتی اداروں کو فعال کیاہے ہر ضلع میں ایک بلدیاتی فعال نظام موجود ہے، 2ارب روپے اس سال بلدیاتی اداروں کو دیئے ہیں اور ان سے کام بھی لیا ہے ۔ اب بلدیاتی انتخابات کروانا نئی حکومت کا کام ہے ۔ بلدیاتی اور اسمبلی کے انتخابات ایک ساتھ ہونے میں کئی قانونی پیچیدگیاں ہیں ۔

عبدالجبارناصر:چھٹی مردم شماری 2017ء میں گلگت بلتستان کی آبادی کتنی ہے اور کیا اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کر رہے ہیں ؟
حافظ حفیظ الرحمان: چھٹی مردم شماری 2017ء میں گلگت بلتستان کی آبادی 15 لاکھ کے قریب آئی ہے ،ہماری تجویز تھی کی اسمبلی 8 نشستوں کا اضافہ کیا جائے مگر وفاق کی طرف سے ہمیں جواب ملا ہے کہ اب گلگت بلتستان کی حیثیت ایک صوبے کی طرح ہے اور پاکستان میں صوبائی نشستیں دو سے چار لاکھ آبادی پر مشتمل ہی،ں لیکن گلگت بلتستان میں اس معیار پر کوئی ایک نشست بھی پوری نہیں اتر رہی ہے ۔ہمیں کہاگیا کہ شہری نشست 50ہزار اور دیہی نشست 40 ہزار ووٹوں پر مشتمل ہونی چاہیے مگر یہاں پر سب سے بڑا میرا حلقہ ہے ، جس کے ووٹرز کی تعداد 34ہزار ہے۔

عبدالجبارناصر: گلگت بلتستان کے لاکھوں افراد پاکستان کے مختلف شہروں میں مستقل یا عارضی آباد ہیں ، ان کو آزاد کشمیر کے لوگوں کی طرح ڈبل ووٹ اندراج اور ڈومیسائل کا حق دینے لئے آپ کی حکومت کیا کر رہی ہے؟
حافظ حفیظ الرحمان:یہ بات درست ہے کہ اس وقت پاکستان کے مختلف علاقوں میں گلگت بلتستان کے 2 لاکھ سے زائد افراد مستقل یا عارضی رہائشی ہیں ،جن کا شمار مردم شماری گلگت بلتستان میں نہیں ہوااور یہ افراد اپنے ووٹ کا اندراج پاکستان کے متعلقہ رہائشی علاقے اور اپنے آبائی علاقے میں بھی کرسکتے ہیں ،اور یہی پوزیشن اور ڈومیسائل کی بھی ہے ۔ جو سہولت آزاد کشمیر کے لوگوں کو حاصل ہے وہی سہولت گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی حاصل ہے ۔

عبدالجبارناصر: آپ کی حکومت نے گلگت بلتستان میں چار نئے اضلاع کا اعلان کیا مگر یہ اضلاع ابھی تک فعال نہیں ہوئے ، آپ کے مخالفین کا کہنا اضلاع بنانے کا اختیار آپ کے پاس نہیں ہے ، اصل صورتحال کیا ہے؟
حافظ حفیظ الرحمان:نئے اضلاع قائم کرنااور وہاں پر انتظامی سیٹ اپ بنانا یہ صوبائی حکومت کا اختیار ہے اور ہم نے نہ صرف ان اضلاع کا اعلان کیا بلکہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیاہے اور ان اضلاع کے لئے بجٹ بھی مختص کیاہے، گلگت بلتستان آرڈر 2018ءمیں صرف ایک چیز وفاق کے اختیار میں ہے، جس میں وفاق خود ترمیم کرسکتاہے ،جہاں پر اضلاع کی تعداد 10لکھی ہے اس کو 14کرنا ہے، اس معاملے پر اس سے زیادہ وفاقی حکومت کوئی اختیار اور عمل دخل نہیں ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب کے حالیہ گلگت دورے کے دوران اس پر بات ہوئی لیکن انہوں نے سمری کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی تاہم وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پورصاحب نے یقین دھانی کرائی ہے کہ چند روز میں یہ معاملہ حل کریں گے ۔اجلاس میں اضلاع کے فنڈز کے حوالے سے بھی بات ہوئی ، ہم نے واضح کیاہے کہ فنڈ ز کی ہمیں ضرورت نہیں ہمارے پاس موجود ہیں اس پہلے بھی 4 اضلاع کا اضافہ اسی طریقہ کار کے مطابق کیاگیا ہے اگر اسی ماہ میں آرڈر 2018ء میں اضلاع کی تعداد میں ترمیم نہیں بھی کی جاتی ہے تو ہم ا ن اضلاع کو فعال کریں گے ۔میں نے وزیر اعظم سے ہونے والی ملاقات میں کہاکہ 400پرائمری ,150مڈل اسکول اور 100قریب ہائی اسکول قائم کیے اس کیلئے بھی ہم نے وفاق سے کوئی فنڈ نہیں لیا اور اپنے طور پر فنڈز کا انتظام کیاہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close