کیا افسران نشے میں ہوتے ہیں؟

رپورٹ : خالدہ شاہین رانا

سپریم کورٹ میں”ملازمت پر بحالی” سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کیا سرکاری ادارے افسران کی ذاتی جاگیر ہیں، کیا مجاز افسران نشے میں بیٹھے ہوتے ہیں؟ کسی کو اس ملک کا درد نہیں ہے، کتنی شرم اور بے غیرتی کی بات ہے کہ آئی بی سی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری نے عالمی سطح کی ڈگریوں کی تصدیق کا معاملہ ایک مالی کو سونپ دیا تھا، جب مالی ایسے کام کرے گا تو سیکرٹری تو سیر وتفریح ہی کرے گا؟ ملک کو اس نہج پر ہمارے افسروں کے ایسے رویوں نے ہی پہنچایا ہے، کیا سرکاری افسران محض گاڑیوں، پلاٹوں اور مراعات کے حصول کے لیے ہی بیٹھے ہوئے ہیں؟ کیا یہ دنیا کے سامنے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے بیٹھے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری افسران اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دیتے تو ملک کا یہ حال نہ ہوتا ؟

قائم مقام چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جمعرات کے روز فیڈرل سروس ٹریبونل کی جانب سے بین الاقوامی سطح کے امتحانات کے ذریعے لی جانے والی اے لیول، او لیول اور دیگر اسناد کی تصدیق اور اس کے مساوی پاکستانی سند کے اجراء کے ذمہ دار ادارے آئی بی سی سی کے ایک مالی عاطف فرید کی نوکری پر بحالی کے فیصلے کے خلاف وزارت بین الصوبائی تعاون کی اپیل کی سماعت کی تو اپیل کنندہ کے وکیل شعیب شاہین اور وفاقی ووزارت بین الصوبائی تعاون کے سیکرٹری محمد جمیل پیش ہوئے اور عدالت کے استفسار پر بتایا کہ اے لیول، او لیول اور دیگر اسناد کی تصدیق کے بعد اس کے مساوی سند کے اجراء کے ذمہ دار ادارے آئی بی سی سی میں بدعنوانی کے حوالے سے میڈیا پر ایک سکینڈل سامنے آنے پر ادارے نے انکوائری کروائی تو معلوم ہوا کہ آئی بی سی سی کا ریٹائرڈ اسسٹنٹ سیکرٹری عبدالقیوم ، اسی ادارے کے ایک مالی عاطف فرید کے ذریعے اے لیول اور او لیول کی جعلی اسناد کی تصدیق کرواتا رہا تھا ،جب سکینڈل سامنے آیا تو ملزم عبدالقیوم ریٹائرڈ ہوچکا تھا تاہم اس کے اور ملزم عاطف فرید کے خلاف کارروائی کے لئے معاملہ ایف آئی اے کو بھجوادیا گیا جبکہ عاطف فرید کو اسی بناء پر نوکری سے فارغ کردیا گیا جس نے اپنی بحالی کے لئے اس فیصلے کو فیڈرل سروس ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا اور فاضل ٹریبونل نے اسے بحال کر نے کا حکم دیا تھا ، جس کے خلاف ہم نے یہاں اپیل دائر کی ہے۔

ادارے کے وکیل نے کہا کہ تسلیم کرتے ہیں کہ ماضی میں بہت غلط کام ہواہے ، لیکن اب ہم نے اے لیول اور او لیول کی اسناد کی تصدیق اور اس کے مساوی سند کے اجراء کافول پروف نظام رائج کردیا ہے ،اب وہ سند ایک پرائز بانڈ کی مانند ہے ، جو کوئی اور نہیں بنا سکتا ہے جبکہ ملزمان کے خلاف فوجداری کارروائی کے لئے معاملہ ایف آئی اے کے پاس ہے۔

فاضل قائم مقام چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہی جعلی اسناد غیر ملکی سفارتخانوں کو بھی بھیجی گئی ہوں گی؟ کیا سرکاری ادارے افسران کی ذاتی جاگیر ہیں، کیا مجاز افسران نشہ میں بیٹھے ہوتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ملک کو اس نہج پر ہمارے افسروں کے ایسے رویوں نے ہی پہنچایا ہے، کیا سرکاری افسران محض گاڑیوں پلاٹوں اور مراعات کے حصول کے لیے ہی بیٹھے ہوئے ہیں؟ کیا یہ د نیا کے سامنے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے بیٹھے ہیں؟اگر سرکاری افسران اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دیتے تو ملک کا یہ حال نہ ہوتا؟ا نہوںنے کہا کہ وفاقی سیکرٹری وزارت بین الصوبائی تعاون اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئی بی سی سی میں آئندہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہو، اگر دوبارہ کوئی ایسا معاملہ سامنے آیا تو سیکرٹری ذاتی حیثیت میں ذمہ دار ہو گا۔

بعد ازاں فاضل عدالت نے سیکرٹری کی رپورٹ کی روشنی میں معاملہ نمٹا دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close